آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر3؍ربیع الاوّل 1440ھ 12؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

الحمدللہ ۔برکتو ں کا مہینہ اب کی بار اہالیان پاکستان اور بالخصوص پختونوں کے لئے بڑا بابرکت ثابت ہوا ۔ پہلی بار یوں ہوا کہ مفتی منیب الرحمان صاحب اور مفتی شہاب الدین پوپلزئی صاحب ایک پیج پر آئے اور ملک بھر میں ایک ہی دن روزہ رکھا گیا ورنہ تو سالوں سے یہ غلط روایت چل رہی ہے کہ پشاور ، چارسدہ ، مردان، صوابی، بنوں ، میران شاہ اور نوشہرہ وغیرہ میں روزہ اور عید باقی ملک سے ایک روز قبل ہوجاتے ہیں ۔اب تو یہ یہاں تک مذاق بن گیا ہے کہ شاعر کو بھی کہنا پڑا کہ :
عید کا چاند ہوں میں وقت سے دو دن پہلے
رب نے چاہا تو پشاور میں نظر آئوں گا
خیبرپختونخوا میں اس حوالے سے ہر شہر میں ایک ایک مقامی عالم نے ٹھیکہ لے رکھا ہے ۔ شعبان اوررمضان کے اختتام پروہ مرکزی رویت ہلال کمیٹی سے ایک دن پہلے اجلاس منعقد کرکے عموماً ایک دن قبل روزے اور عید کا اعلان کردیتے ہیں تاہم پشاور کی مسجد قاسم علی خان کے مفتی شہبا ب الدین پوپلزئی اب اس حوالےسے سرخیل بن گئے ہیں ۔
خیبر پختونخوا اورفاٹا کے انضمام کے آئینی عمل کی تکمیل کی خوشی میں گزشتہ روز آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے فاٹایوتھ جرگہ کے رہنمائوں کو افطار پر مدعو کیا۔ یوتھ جرگہ کے سرپرست اعلیٰ کے طور پر تمہیدی گفتگو رکھتے ہوئے میں نے ازراہ مذاق عرض کیا کہ جنرل صاحب آپ قبائلیوں

اور پختونخوا کے نوجوانوں کے لئے مفتی شہاب الدین پوپلزئی بن گئے ہیں تووہ کچھ وقت کے لئے حیران ہوگئے۔ تفصیل میں نے یوں بیان کی کہ آپ لوگوں کے تعاون اور دلچسپی کی وجہ سے پختونوں کی عید اب کی بار ایک دن نہیں بلکہ اٹھارہ دن قبل آگئی اور یہ ایسی عید ہے کہ جس کے انتظار میں قبائلی علاقوں کے مجبور عوام ستر سال سے بیٹھے تھے ۔ فاٹا یوتھ جرگہ کے ساتھ چند ماہ قبل اپنی میٹنگ میں جنرل صاحب نے یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ خیبرپختونخوا کے ساتھ انضمام کے عمل میں تعاون کریں گے لیکن حقیقت یہ ہے کہ نوجوانوں کے جذبات کا احترام کرتے ہوئے انہوںنے تعاون سے بھی بڑ ھ کر کیا۔ میں ذاتی طور پر جانتا ہوں کہ آخری دنوں میں آپ ، کورکمانڈر پشاور لیفٹیننٹ جنرل نذیر بٹ ، چیف آف جنرل اسٹاف جنرل بلال اکبر اور ان کی ٹیم کے دیگر متعلقہ لوگ سرتاج عزیز کمیٹی کی رپورٹ پر عمل درآمد کے لئے ایسے متحرک ہوگئے کہ جیسے ایف سی آر کے تحت مجبور قبائلیوں نے نہیں بلکہ خود انہوں نے زندگی گزاری ہو۔ تاہم اس معاملے میں اگر جنرل صاحب مفتی پوپلزئی بن گئے تو وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، سرتاج عزیز صاحب ، بیرسٹر ظفراللہ اور اسپیکر قومی اسمبلی وغیرہ نے بھی مفتی منیب الرحمان کا کردار ادا کیا۔ انہوں نے کچھ تاخیر ضرور کردی لیکن بہرحال قبائلی عوام کو ستر سالہ غلامی سے نجات دلانے کی عید کی نوید سنانے کا سہرا ان کے سر بھی سجے گا ۔ اسی طرح اگر اسفندیارولی خان نے چارسدہ کے مولوی کا کردار ادا کیا تو سراج الحق صاحب نےعید ایک روز قبل لانے والے صوابی کے مولوی کا کردار ادا کیا۔عمران خان صاحب نے بنوں کے مولوی کا تو آفتاب احمد خان شیرپائو صاحب نے رزڑ(چارسدہ) کے مولوی کا کردار اد ا کیا۔ زرداری صاحب گویا مردان کے عید لانے والے مولوی بن گئے تھے تو مولانا سمیع الحق صاحب نوشہر ہ کے ۔ حاجی شاہ جی گل، شہاب الدین سالارزئی اور ساجد طوری ان لوگوں کا کردار اداکررہے تھے جو مولوی صاحب پر دبائو ڈال رہے ہوتے تھے کہ شہادتیں کافی آگئی ہیں اس لئے وہ جلد از جلد عید کا چاند نظر آنے کا اعلان کریں ۔ تاہم صرف دو لیڈران کرام ایسے تھے جو اس بات پر مصر رہے کہ تیس نہیں تین سو روزے بھی پورے ہوجائیں اور ہزار نہیں لاکھوں شہادتیں بھی موصول ہوں لیکن قبائلیوں اور پختونوں کے لئے عید کا اعلان نہیں ہونا چاہئے ۔
سچی بات یہ ہے کہ جو لوگ قبائلی علاقوں کے نظام کو بھگت رہے تھے یا پھر جو وہاں کے حالات سے واقف تھے ، ان کو انضمام کی خبر سن کر دلی خوشی نصیب ہوئی ہے ۔ شاید یہ کہنا درست ہوگا کہ یہاں کے لوگوں نے گزشتہ تیس سالوںمیں پہلی مرتبہ قومی سطح پر خوشی دیکھی ہے ۔ اللہ گواہ ہے کہ میں انضمام کے عمل میں کردار کو اپنی صحافتی زندگی کا سب سے خوشگوار اور قابل فخر کردار سمجھتا ہوں اور دن رات اللہ کا شکر ادا کررہا ہوں کہ اس نے ایک کروڑ انسانوں کی آزادی کے عمل میں مجھ سے بھی کوئی کام لیا۔ تبھی تورمضان کے باوجود پشاور سے لے کر مینگورہ تک اور وزیرستان سے لے کر باجوڑ تک جشن منایا گیااور تبھی تو ہر پختون دوسرے سے ملتے ہوئے مبارکبادیں دے رہا ہے تاہم کچھ اناپرست اور مفاد پرست اب بھی ایسے ہیں جو اپنی خفت مٹانے کے لئے یہ دہائی دے رہے ہیں کہ اس عمل سے قبائل کو نقصان ہوا یا پھر یہ سوال اٹھارہے ہیں کہ آخر اس کا قبائلیوں کو کیا فائدہ ہوا ۔ میرے نزدیک اس عمل کا قبائلی کو بھی فائدہ ہوا، خیبر پختونخوا کو بھی اور پورے پاکستان کو بھی ۔
قبائلی علاقے کل تک علاقہ غیر تھے ، آج اپنے ہوگئے ۔ اب قبائلی علاقوں کے شناختی کارڈ ہولڈر کو کوئی پشاور ، اسلام آباد یا لاہور میں شک کی نظروں سے نہیں دیکھے گا ۔ اب ان کا اور پشاور والے کا شناختی کارڈ ایک صوبے کا بنا ہوگا۔
کل تک قبائلی ہزاروں کی تعداد میں مارے جارہے تھے یا غائب کئے جارہے تھے لیکن وہ کسی عدالت میں نہیں جاسکتے تھے لیکن اب وہ اپنے ہر معاملے کو سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ لے جاسکیں گے اور ان کا جو بھی بندہ گرفتا ر ہوگا تو اسے چوبیس گھنٹے کے اندر اندر مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنا ہوگا۔
کل تک قومی اسمبلی اور سینیٹ میں ان کے چند نمائندے جو پیسوں کے زور پر منتخب ہوتے تھے اور پھر یہاں خریدوفروخت میں مصروف ہوتے تھے ، ایوان میں براجماں ہوتے تھے لیکن اپنے قبائلی علاقوں کے لئے قانون سازی نہیں کرسکتے تھے ۔ اب قبائلیوں کے منتخب نمائندے وزیراعلیٰ اور وزیربن سکیں گے ۔ کہتے ہیں کہ قبائلیوں کی سینیٹ کی چھ سیٹیں ختم ہوگئیں لیکن یہ نہیں بتاتے کہ قبائلی علاقوں کے لوگ اب پختونخوا سے سینیٹر منتخب ہوسکیں گے اور چاہیں تو بیس بائیس تک سینیٹرز ان کے منتخب ہوسکتے ہیں۔
کل تک قبائلی علاقوں کو سالانہ بائیس ارب روپے کی خیرات مل رہی تھی لیکن اب ان کو ہر سال ان بائیس ارب کے ساتھ ساتھ سالانہ سو ارب روپے بھی ملیں گے ۔ جو بائیس ارب روپے ملتے تھے ان میں سے آدھے سے زیادہ سیفران، گورنر سیکرٹریٹ اور پولیٹکل ایجنٹوں کے ہاں کرپشن کی نذر ہوجاتے تھے کیونکہ نہ آڈٹ ہوسکتا ہے اور نہ میڈیا نگرانی کرسکتا تھا لیکن اب جو سو ارب روپے خرچ ہوں گے ، اس کا آڈٹ بھی ہوگا، اس پر پارلیمنٹ میں بھی بات ہوسکے گی اور اس کی میڈیا بھی خبر لے گا ۔
کل تک قبائلی علاقوں کے لوگ پشاور میں رعایتی بنیادوں پر پھرتے، پڑھتے یا علاج کرواتے تھے لیکن اب وہ وہاں اسی طرح کے مدعی ہوں گے جس طرح کہ پرویز خٹک یا کوئی اور ہوتا ہے ۔ اسی طرح کل تک قبائلی علاقوں کی سیکورٹی کا انتظام باہر سے آئے ہوئے کسی بندے کے ہاتھ میں ہوتا تھا لیکن اب ان کے امن وامان کا انتظام خیبرپختونخوا کے انسپکٹر جنرل پولیس کی ذمہ داری بن جائے گی جو ماشاء اللہ جدی پشتی محسود قبائلی ہے۔
کل تک قبائلی علاقوں کے لوگوں کوسیاسی اور انتظامی حوالوں سے خیبر پختونخوا میں ایک بوجھ سمجھاجاتاتھا لیکن اب انکو یہاں کے وسائل کا مالک سمجھا جائے گا۔ ابھی قبائلی علاقے پختونخوا میں مدغم بھی نہیں ہوئے کہ مولانا فضل الرحمان صاحب نے نگران وزیراعلیٰ کے لئے خیبر ایجنسی (اب ضلع خیبر) کے قبائلی منظور آفریدی کو نامزد کیا۔ گویاعملاً انضمام کے سب سے بڑے حامی مولانا صاحب ہیں ۔ میر اخیال تھا کہ انکی جماعت کے قبائلی علاقوں کے امیر مفتی عبدالشکور مولانا کے اس انضمامی فیصلے کے خلاف احتجاج کرینگے لیکن مولانا کے گھر کا گھیرائو کرنے کی بجائے وہ اس اسمبلی کا گھیرائو کرنے پر مصر تھے جسکے اندر مولانا کے بھائی مولانا لطف الرحمان بیٹھے ہوئے تھے اور اس سے ایک روز قبل پرویزخٹک کیساتھ مل کر ارب پتی قبائلی منظور آفریدی کو نگران وزیراعلیٰ بنانے پر اتفاق کیا تھا۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں