آپ آف لائن ہیں
پیر 13؍محرم الحرام 1440ھ 24؍ ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
گزشتہ دنوں پوری دنیا کی طرح پاکستان میں بھی ”ہاتھ دھونے کا عالمی دن“ منایا گیا حالانکہ ہاتھ دھونے کے حوالے سے پوری دنیا میں کوئی ہمارا مقابلہ نہیں کرسکتا لیکن ہمارا ہاتھ دھونے کا انداز تھوڑا مختلف ہے ۔ جیسا کہ ہم اپنی کم عقلی اور ناقص حکمت عملی کے باعث 1971ء میں اپنے ملک کے آدھے حصے سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں بلکہ پاکستان بننے کے تھوڑے عرصہ بعد اپنے اس عظیم لیڈر سے ہی ہاتھ دھو بیٹھے جس نے بڑی محنت سے برصغیر کے مسلمانوں کی خواہش پر علیحدہ وطن دینے کے لئے دن رات ایک کردیئے تھے لیکن ان کے مرض کے دوران انہیں ایسی ناکارہ اور کھٹارہ ایمبولینس میں سفر کرایا کہ پوری دنیا میں اسکی کوئی مثال نہیں ملتی کچھ سالوں بعد انتہائی ایماندار وزیراعظم لیاقت علی خان سے اس وقت ہاتھ دھو بیٹھے جب وہ راولپنڈی میں ایک جلسے سے خطاب کر رہے تھے ہم ایک شخص کی ضد اور انا کی وجہ سے ایک ایسے وزیراعظم ذوالفقارعلی بھٹو سے ہاتھ دھو بیٹھے جس نے ملک کو ایٹمی طاقت بنانے میں اہم کردار ادا کیا انہیں انتہائی بے دردی سے تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔ ایک سازش کے تحت C-130 کے تباہ ہونے سے ہم پاکستان کے صدر ضیاء الحق اور کئی اعلیٰ فوجی افسروں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اس ملک کی مقبول لیڈر بے نظیر بھٹو سے ہمیں ہاتھ دھونا پڑے اور ہاتھ دھونے کی اس سے بڑی مثال اور کیا

ہوسکتی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کئی سالوں سے اپنوں کے ہاتھوں اپنے ہی جان سے ہاتھ دھو رہے ہیں۔
ہمارا ہاتھ دھونے کا ایک اور بھی انداز ہے مثلاً اقتدار کی بہتی گنگا میں بھی ایسے ایسے لوگوں نے ہاتھ دھوئے ہیں جن کے بارے میں نہ دوسروں نے اور نہ اقتدار کی گنگا میں ہاتھ والوں نے خود کبھی سوچا ہوگا ۔ مثال کے طور پر ایک دور میں اچانک معین قریشی آکر اقتدار کی گنگا میں ہاتھ دھوکر مسند اعلیٰ پر بیٹھ گئے ۔ آج تک یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ وہ کہاں سے آئے اور کہاں چلے گئے فوج کی کمان کرتے کرتے ایوب خان ضیاء الحق اور پرویز مشرف نے بھی اس ملک میں اقتدار کے بہتے سمندر میں زبردستی ہاتھ دھوئے اور پھر اپنی اپنی مرضی سے پانی کا لوٹا لیکر من پسند لوگوں کو اقتدار کی گنگا میں ہاتھ دھلواتے رہے۔ مثلاً پرویز مشرف کے دور میں ظفراللہ جمالی، چوہدری شجاعت حسین اور پھر شوکت عزیز نے خوب ہاتھ دھوئے۔ پھر اسی اقتدار کی گنگا میں صدر آصف زرداری ، یوسف رضا گیلانی اور اب راجہ پرویز مشرف ہاتھ دھو رہے ہیں بلکہ یوسف رضا گیلانی تو اب ہاتھ ہی دھو بیٹھے ہیں ابھی تو شکر ہے خط لکھنے کا مسئلہ حل ہوگیا ہے ورنہ اقتدار کے بہتے پانیوں میں ہاتھ دھونے کیلئے کندھوں پر تولیہ رکھ کر خواہشمندوں کی ایک طویل قطار موجود تھی ۔
لیکن ایک انداز یہ بھی دیکھئے کہ کچھ روز پہلے میرا ایک دوست جس کی شادی کو چند ہی ہفتے ہوئے تھے مجھے ایک وکیل کے چیمبر سے نکلتا ہوا ملا تو میں نے پوچھا بھائی وکیل کے پاس خیریت سے آئے تھے تو کہنے لگا آج ہاتھ دھونے کا عالمی دن منایا جارہا ہے اس سلسلے میں وکیل سے ملنے آیا تھا۔ مجھے معلوم تھا کہ میرا دوست ذرا مزاحیہ طبیعت کا ہے اس لئے مذاق کررہا ہے ، میرے اصرار پر دوست نے بتایا کہ تمہیں معلوم ہے میری شادی کو زیادہ عرصہ نہیں ہوا اور میری بیوی ایک ڈاکٹر ہے لیکن اسے ایک خطرناک بیماری ہے جس کی وجہ سے وکیل سے مشورہ کرنے آیا ہوں۔ میں نے دوست سے کہاکہ بیماری میں تو ڈاکٹر سے ہی مشورہ کیا جاتا ہے ، وکیل سے مشورے کی بات مجھے سمجھ نہیں آئی تو دوست نے جواب دیا کہ چونکہ میری بیوی ڈاکٹر ہے اس لئے اسے یہ وہم ہے کہ ہر چیز کے ساتھ خطرناک قسم کے جراثیم ہوتے ہیں اس لئے ہر چیز کو ہاتھ لگانے سے پہلے اور بعد میں صابن سے ہاتھ دھونے ضروری ہیں۔
اس لئے وہ دن میں درجنوں مرتبہ ہاتھ دھوتی ہے اور ہاتھ دھونے سے پہلے واش بیسن پر لگی ٹونٹی کو دھوتی ہے تاکہ ہاتھ دھونے کے بعد ٹونٹی بند کرتے ہوئے ٹونٹی کو ہاتھ لگنے سے ہاتھ دوبارہ گندے نہ ہوجائیں یوں میں ہر ماہ صابن اور تولیے کے چکر میں تنخواہ کے ایک بڑے حصے سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہوں ۔ آج چونکہ ہاتھ دھونے کا عالمی دن منایا جارہا ہے اس لئے میں نے فیصلہ کیا ہے کہ کیوں نہ بیوی سے ہی ہاتھ دھو لئے جائیں یعنی علیحدگی اختیار کرلی جائے۔
یہ میرے دوست کا انداز تھا لیکن زیادہ خطرناک امر یہ ہے کہ ہم اپنی ایسی اقدار سے بھی ہاتھ دھو رہے ہیں جو قوموں کیلئے زوال کا باعث بن جاتا ہے ۔ حرص، ہوس اور لالچ کی ایسی دلدل میں گرچکے ہیں کہ ہمارے پیٹ ہی نہیں بھر رہے پروٹوکول اور سیکورٹی کے نام پر ہم ملکی وسائل کو لوٹ رہے ہیں پیپرکلپ کی خریداری سے لیکر بڑے بڑے سودوں تک ہر چیز میں کمیشن کھاتے ہیں ۔ پندرہ گرام چرس نکلنے پر پہلے تھانوں میں چھترول کرتے اور پھر جیلوں میں پھینک دیتے ہیں ، روٹی چرا کر بھاگنے والے کو پکڑ کر اس کا منہ کالا کرتے، اسے تھپڑ مارنا ثواب سمجھتے اور پھر پولیس کے حوالے کرکے فرض شناس شہری بننے کے تمغے سجاتے ہیں لیکن بڑے بڑے چور ڈاکو جو پورے بنک ، پوری پوری فیکٹریاں ، بڑی بڑی شاہرائیں اور اربوں روپے ڈکار گئے ہیں انہیں سلیوٹ مارتے اور پروٹوکول دیتے ہیں، ہاتھ دھونے کے ایسے انداز کو بدلنا ہوگا۔
ورنہ … کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں