آپ آف لائن ہیں
اتوار 12؍محرم الحرام 1440ھ 23؍ ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بدھ، مورخہ 23۔ مئی 2018ء، تین بار عوامی ووٹوں سے منتخب شدہ سابق (اب نااہل) وزیراعظم محمد نوازشریف نے پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ میڈیا سے اس تخاطب میں پاکستانی تاریخ کی اہم ترین صدائے بازگشت کے بعض واقعات کا حوالہ دیا گیا، ان میں ایک یہ تھا ’’کاش! ایسا ممکن ہوتا کہ آپ نوابزادہ لیاقت علی خان کی روح کو بلا کر یہ سوال پوچھ سکتے کہ آپ کو کیوں شہید کردیا گیا؟ کاش آپ ذوالفقار علی بھٹو کی روح کو طلب کر کے یہی سوال پوچھ سکتے کہ آپ کو کیوں پھانسی چڑھا دیا گیا؟ کاش آپ بے نظیر بھٹو کی روح کو اس عدالت میں بلا کر پوچھ سکتے کہ بی بی آپ کو کیوں قتل کردیا گیا؟ کاش آپ مقبول منتخب وزرائے اعظم کو بلا کر یہ سوال پوچھ سکتے کہ آپ میں سے کوئی ایک بھی اپنی آئینی مدت کیوں پوری نہیں کرسکا؟‘‘
پاکستانی عوام کے ووٹوں سے تین بار منتخب سابق وزیراعظم محمد نوازشریف کی خدمت میں نوابزادہ لیاقت علی خان، ذوالفقار علی بھٹو، بی بی شہید اور سابق منتخب پاکستانی وزرائے اعظم میں سے کسی ایک کی آئینی مدت کا بھی پورا نہ ہونا، جواب ان چاروں سوالوں کا دیا جاسکتا ہے، تاہم لمحہ موجود میں یہ طالب علم ذوالفقار علی بھٹو تک ہی محدود رہے گا، آپ اسے ’’ذوالفقار علی بھٹو بنام محمد نوازشریف‘‘ کا عنوان بھی دے سکتے ہیں۔
چنانچہ جناب بھٹو محمد

نوازشریف سے کہہ رہے ہیں۔ ’’5 جولائی 1977ء کے واقعات کے فوراً ہی بعد مسٹر عزیز احمد نے دستاویز کی ایک نقل مسٹر غلام اسحاق خان کو دی، یہ کاپی دفتر خارجہ نے تیار کی تھی، انہوں نے یہ درخواست کی تھی کہ وہ اس کا بغور مطالعہ کریں تاکہ یہ سمجھ سکیں کہ 1977ء کے موسم بہار کی ایجی ٹیشن کے دوران واقعات کس انداز سے منظر عام پر آئے، مجھے افسوس ہے کہ میں اس قابل نہیں ہوں کہ مسٹر غلام اسحاق خان کے عہدہ کا صحیح تعین کروں کیونکہ نہ وہ میرے حافظہ میں ہے اور نہ میں اسے سمجھ سکا ہوں تاہم غلط یا صحیح انہیں عملی طور پر موجودہ حکومت کا وزیراعظم سمجھا جاتا ہے اسلئے عدالت کیلئے انکی شناخت مشکل نہیں ہوگی اسکا انحصار عدالت پر ہے کہ میں نے جو کچھ کہا اس کی تصدیق کے لئے وہ مسٹر غلام اسحاق خان یا مسٹر عزیز احمد کو طلب کرتی ہے یا نہیں تاہم میں درخواست کرونگا کہ فاضل عدالت پچاس صفحات کی وہ دستاویز ضرور طلب کرے جو دفتر خارجہ نے تیار کی تھی جس میں بیرونی طاقتوں کی طرف سے پاکستان کے اندرونی معاملات میں وسیع پیمانے پر مداخلت کی تفصیلات درج تھیں۔‘‘
’’ہمارا رومیو جیولیٹ سے وفادار نہیں، کبھی جیولیٹ پی این اے ہوتی ہے تو کبھی تحریک استقلال اور کبھی این ڈی پی لیکن پاکستان پیپلز پارٹی اس حکومت کے لئے ہنی بال (Hanni bal) بن گئی ہے۔ پیپلز پارٹی حکومت کے نزدیک ایسے ہی ہے جیسے کارتھیج روم کے لئے تھا، جس طرح رومی سینیٹر کیٹو دوسرے سینیٹروں سے سلام دعا ہی ان الفاظ میں کرتاتھا:’’ کارتھیج کو ہر صورت ختم کردینا چاہئے‘‘، اسی طرح چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بھی اپنے پٹھوئوں، حواریوں اور مشیروں سے اسی قسم کے الفاظ میں دعا کرتے ہیں لیکن کارتھیج ختم نہیں ہوسکتا اور ہنی بال (Hanni bal)کوہ الپس کو عبور کرے گا‘‘۔
’’خدا کا شکر ہے کہ کم از کم مجھے سنا تو گیا، ایک سال کے بعد کم از کم مجھے کچھ کہنے کی اجازت تو دی گئی، ہم بڑے جذباتی لوگ ہیں، اب جبکہ آپ مجھ پر یہ عنایت کر چکے ہیں، میرے اس حق کو دے چکے ہیں کہ میں بولوں اور سنا جائوں تو آپ مجھے پھانسی پر بھی لٹکا سکتے ہیں لیکن اس شخص کو قتل کرنیکی میرے پاس کوئی وجہ نہیں یا اسے جو قتل ہوگیا۔ میری لڑائی تو بڑے لوگوں اور بڑے مسائل سے ہے‘‘
’’میرا خدا جانتا ہے کہ میں نے اس آدمی کا خون نہیں کیا، اگر میں نے اسکا ارتکاب کیا ہوتا تو مجھ میں اتنا حوصلہ ہے کہ میں اس کا اقبال کر لیتا، یہ اقبال جرم اس وحشیانہ مقدمے کی کارروائی سے کہیں کم اذیت دہ اور بے عزتی کا باعث ہوتا، میں مسلمان ہوں اور ایک مسلمان کی تقدیر کا فیصلہ قادر مطلق کے ہاتھ میں ہوتا ہے، میں صاف ضمیر کیساتھ اسکے حضور پیش ہوسکتا ہوں اور اس سے کہہ سکتا ہوں کہ میں اس کی مملکت اسلامیہ پاکستان کو راکھ کے ڈھیر سے دوبارہ ایک باعزت قوم میں تعمیر کردیتا ہے، میں آج کوٹ لکھپت کے اس ’’بلیک ہول‘‘ میں اپنے ضمیر کے ساتھ پرسکون ہوں!‘‘
’’ذوالفقار علی بھٹو بنام محمد نوازشریف‘‘ کے پس منظر میں آج کے اہم سیاسی رہنما کے لئے طالب علم نے، بھٹو صاحب کے بیانات کی چند حساس جھلکیاں پیش کی ہیں،، یقیناً انہیں بھٹو کو پھانسی کیوں دی گئی‘‘ کے سوال کا اصلی جواب یا وہ راستہ جس پر چل کر ’’اصل جواب‘‘ تک پہنچا جاسکتا ہے، مل گیا ہوگا۔
بالآخر بطور نگران وزیراعظم سابق چیف جسٹس آف سپریم کورٹ جسٹس (ر) ناصر الملک کے نام پر اتفاق رائے ہوگیا، قائد حزب اقتدار موجودہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور قائد حزب اختلاف خورشید شاہ کے مابین متعدد ملاقاتوں کے بعد پاکستان کے سیاستدانوں نے ایک اور تاریخی آئینی مرحلہ عبور کر کے جمہوری تسلسل سفر مضبوط کیا۔ افواہوں کے مطابق ’’نگران وزیراعظم‘‘ کا فیصلہ بالآخر ’’الیکشن کمیشن‘‘ کے پاس جاسکتا تھا، ملکی سیاستدانوں کی بروقت بصیرت سے یہ پارلیمنٹ کے فریم آف ورک میں ہی حل ہوگیا، جمہوری تسلسل، وقار اور اعتماد کی مخالف طاقتوں اور سوچوں کو ایک اور شکست ہوگئی، دعا کریں آئینی اقتدار کی منتقلی تک ان طاقتور کی ہار کا یہ مبارک سلسلہ برقرار رہے، اس کا مطلب ہے تیسرا متوقع قومی انتخاب! بس یہی پاکستان کی منزل ہے، پاکستان کے تمام مصائب کا جواب ہے، جب تک تین انتخابات کا تسلسل مکمل نہیں ہوپاتا ہم غیر جمہوری قوتوں کے ہاتھوں مغلوب اور مقید رہیں گے، تیسرے قومی انتخابات کا جمہوری انعقاد اور جمہوری طریقے سے انتقال اقتدار کا مطلب، گزرے 70برسوں کی ظاہری و باطنی غیر جمہوری طاقتوں، گروہوں اور افراد کا ہمیشہ کے لئے ناکام و نامراد ہونے سے ہے!
میو گارڈن کے ریلوے کلب میں وفاقی وزیر ریلوےخواجہ سعد رفیق نے الوداعی دعوت دی، الوداعی افطار ڈنر بھی کہا جاسکتا ہے۔ سارے شہر کے ممتاز اخبار نویس، دانشور اور سیاسی ایکٹوسٹ موجود تھے۔ ڈائریکٹر پبلک ریلیشنز ریلوے نجم ولی نے اب تک ایسی ساری میٹنگوں کے اہتمام میں کامیابی، تربیت اور سلیقے کے تمام تقاضے پورے کئے۔
وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق اور صوبائی وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق پاکستان کے قابل فخر اور شجاع سیاسی کارکن رہنما خواجہ رفیق شہید کے فرزندان ارجمند ہیں، ملکی سیاسی میدان میں سرگرم اور زندہ و متحرک لوگوں میں دونوں بھائیوں کا شمار ہوتا ہے، سعد رفیق البتہ قومی سطح کی صف میں جگہ اور مقام پا چکے، ریلوے میں ان کی کارکردگی پوری قوم کے سامنے ہے، آنکھوں سے دیکھی، کانوںسے سنی اور دلائل سے ثابت کی جاسکتی ہے، بلاشبہ خامیاں اور کمزوریاں ہوتی ہیں، جب غلبہ 90فیصد خوبیوں کا ہو تب 10فی صد کمزوریوں کوانسانی فطرت کے قدرتی قانون کا نتیجہ سمجھنا چاہئے، پاکستان ریلوے کے موجودہ ترقی یافتہ نین نقشے میں بھی اسی اصول کی کار فرمائی سامنے رکھنا ہوگی، اجمالاً چند پہلو قارئین کی خدمت میں پیش کئے جارہے ہیں۔
...oریلوے ملازمین کو تنخواہوں کے لئے ہڑتالیں اور مظاہرے کرنا پڑتے تھے، بزرگ ریٹائرڈ ملازمین کے اربوں روپے ادارے پر واجب الادا تھے، یہ وقت بھی دیکھا گیا کہ ہمارے بزرگ کارکن کی قطار میں لگے لگے وفات ہوگئی، اب تنخواہیں بروقت ہیں اور پنشنروں کے نہ صرف واجبات ادا کئے جا چکے بلکہ ان کی پنشن ان کے گھر کے قریب بنک میں پہنچ جاتی ہے۔
...oوفاقی وزیرریلوے خواجہ سعد رفیق نے وزرا اور ارکان اسمبلی کی سفارش پر بھرتیوں پر پابندی عائد کئے رکھی، اپنے حلقے کے کارکنوں کو سیاسی بنیادوں پر ملازمتیں فراہم کرنے سے معذورت کرلی۔
...oپسنجر سیکٹر میں مسافر دوست پالیسیوں کے باعث 1½کروڑ کے لگ بھگ مسافروں کا اضافہ ہوا، اس دوران اٹھارہ سے زائد ٹرینوں کے اڑتالیس کے قریب ریک اپ گریڈ کئے گئے، اوور ہالنگ کو اپ گریڈیشن میں بدلا گیا، گرین لائن سمیت پانچ نئی ٹرینیں شروع کی گئیں!
بحالی کے ساتھ ساتھ جدت کا انقلاب بھی برپا کیا گیا کہ اب پاکستان ریلوے کے مسافر اپنے موبائل فون ایپ اور ویب سائٹ کے ذریعے ہی نہیں بلکہ موبائل فون کمپنیوں کے ہزاروں آئوٹ لیٹس کے ذریعے آن لائن سیٹ بک کروا سکتے ہیں۔ پاکستان ریلوے پاکستان کا واحد ادارہ بن چکا ہے جو ای ٹکٹنگ کے ذریعے صرف ایک دن میں دو کروڑ روپوں کے قریب تک کاریونیو جنریٹ کر چکا ہے جو ایک ریکارڈ ہے۔ ریلوے کی تاریخ میں پہلی مرتبہ مسافروں کو ٹکٹ گم ہونے کی صورت میں ڈپلیکیٹ ٹکٹ کی سہولت دی گئی اور ٹرینوں میں ٹکٹوں کے اجرا کے لئے ہینڈ سیلڈ ڈیوائسز کا نظام متعارف کروایا جارہا ہے جو کرپشن کی روک تھام میں اہم کردار ادا کرے گا۔
ریلوے کی قیمتی زمینوں میں خوردبرد کی اب کوئی گنجائش نہیں رہی۔ زمینوں کا ریکارڈ اب جدید ترین لینڈ ریکارڈ مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم کے تحت کمپیوٹرائزڈ ہو چکا اور اس میں دس ہزار سات سو نوے ایکڑ زمین شناخت ہونے کے بعد شامل ہو چکی۔پاکستان ریلوے کی ورکشاپوں میں اب دن رات کام ہوتا ہے۔ اس دور میں ریلوے نے اڑھائی سو لوموٹیوز کی اسپیشل ری پیئر کو یقینی بنایا اور آٹھ سو پسنجر کوچز کی بحالی کر کے نظام کا حصہ بنایا گیا۔ اڑھائی سو سے زائد کوچز کو ایک سو دس وولٹ سے دو سو بیس وولٹ میں تبدیل کیا گیا۔ ریلوے اسٹیشنوں کے ساتھ ساتھ ریل کے ڈبوں میں بھی موبائل چارجنگ کی سہولت فراہم کی گئی۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں