آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ 8 ؍ربیع الاوّل 1440ھ 17؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آج کل وطن عزیز میں نگرانوں کا ’’رولا‘‘ پڑا ہوا ہے۔ خیال آیا کہ میں بھی اس موضوع پر لکھوں اور آپ کو اپنی ایک ’’ھڈ بیتی سنائوں‘‘ لیکن فی الحال اس کے لئے موسم سازگار نہیں کیونکہ نگرانوں کی تقرریوں کے حوالے سے گرداڑ رہی ہے اور پارٹیوں کے درمیان اتفاق رائے مجروح ہورہا ہے۔ گزشتہ کالم میں، میں نے سیاحت کے حوالے سے امریکہ کے ایک قصبے کا ذکر کیا تھا جو ایک دوسرے سے منسلک قصبات کے سلسلے کا حصہ ہے۔ یہ ٹائونز نہایت سرسبز و شاداب پہاڑیوں کے درمیان گھرے ہوئے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ انہوں نے پہاڑیوں کو بھی آباد کر رکھا ہے۔ حد نظر تک سرسبز درختوں کا سلسلہ ان پر سائے پھیلائے رکھتا ہے۔ مجھے یوں لگتا ہے جیسے یہاں کی انتظامیہ اور لوگوں کو درختوں سے عشق ہے اور عشق بھی پاگل پن کی حد تک۔ پہاڑیوں کے درمیان سمندری پانی کی چھوٹی بڑی ندیاں جھیلیں اور کہیں کہیں دریا بہتے ہیں جو آنکھوں کو ٹھنڈا اور دل کو شاداب کرتے ہیں۔ ہائی وے پر سان فرانسسکو کی طرف سفر کریں صاف شفاف نیلے پانی کا سمندر اپنے تمام تر قدرتی حسن کے ساتھ حیرت کے دروازے کھولتا اور قدرت کے حسن میں گم ہو جانے کا سامان پیدا کرتا ہے۔ سرسبز و شاداب زمین جس پر گہرے گھاس کی چادر بچھی ہوئی ہے اور اس پر ان گنت درختوں کی حکمرانی نے موسم سہانا بنا رکھا ہے۔ اس ماحول کا

حاصل یہ ہے کہ سات آٹھ دن تک قمیض میلی ہوتی ہے نہ کہیں گردوغبار آنکھوں پر حملہ آور ہوتا ہے۔ سچ یہ ہے لاکھوں افراد کی یہ آبادیاں ماحولیاتی پاکیزگی کا نمونہ ہیں اور دوسرا سچ یہ ہے کہ اس ماحولیاتی خوبصورتی اورپاکیزگی کوپیدا کرنے میں قدرت سے زیادہ یہاں کے حکومتی اداروں اور لوگوں کا حصہ ہے۔ اس ماحولیاتی پاکیزگی اور قانون پر عمل کرنے کی تربیت نے لوگوں کے مزاج پر گہرے اثرات مرتب کئے ہیں۔ چنانچہ آپ کو ہر شخص اپنے بے غم چہرے پر مسکراہٹ سجائے نظر آئے گا اور قریب سے گزرتے ہوئے وہ مسکراہٹ کا تحفہ آپ کو بھی دے جائے گا۔ زمانہ طالب علمی میں شاید پڑھا ہوا ساح لدھیانوی کا یہ شعر یاد آگیا ہے جو ہمارے مشرقی معاشرے کے رویوں کی عکاسی کرتا ہے۔
میں جسے پیار کا انداز سمجھ بیٹھا ہوں
وہ تبسم، وہ تکلم تری عادت ہی نہ ہو
ملائم لہجے اور مسکراتے چہرے یہاں لوگوں کی عادت ہیں اس لئے لوگ اسے عادت سمجھ کر ہی قبول کرتے ہیں۔ میں کئی دنوں سے سوچ رہا ہوں اے کاش ہماری حکومتوں، مقامی انتظامیہ اور لوگوں نے مل کر اتنے درخت اگائے ہوتے کہ ملک سرسبز و شاداب لباس پہن لیتا، فضا سے آلودگی کم ہو جاتی، موسم کی سختی ذرا نرمی اختیار کرلیتی اور لوگوں کی انگارے برساتی زبانیں ٹھنڈی پڑ جاتیں۔ درختوں اور سبزے کی قلت ہماری ٹریجڈی ہے اور دوسری طرف ہمارے بصیرت سے محروم حکمرانوں کی غفلت سے پانی کا قحط یا بحران دروازے پر دستک دے رہا ہے۔ ہماری کمزوریوں اور نالائقیوں سے فائدہ اٹھا کر ہندوستان نے ڈیموں کے ذریعے ہمیں پانی سے محروم کردیا ہے اور ہماری معیشت خاص طور پر زراعت کا گلا گھونٹنے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔ ان خطرات سے بے نیاز ہمارے لیڈران ایک دوسرے سے دست و گریبان ہیں، عوام میں نفرت کی آگ بھڑکا رہے ہیں اور ملک و قوم انتشار کی جانب بڑھتے نظر آتے ہیں۔ معاف کیجئے گا حسن کا ذکر کرتے ہوئے بیچ میں سیاست آگئی لیکن کیا کروں جب دوسری قوموں کو ترقی کرتے دیکھتاہوں تو اپنی زبوں حالی اور پسماندگی پر دکھ ہوتا ہے۔ حالات بدلنا تو میرے بس میں نہیں لیکن افسوس اور دکھ کا اظہار تو کرسکتا ہوں۔
حالانکہ اس سے فرق تو پڑتا نہیں کوئی
اسکول کے زمانے میں میرا ایک دوست ہوتا تھا شبیر چودھری۔ وہ جب کسی کو چھیڑتا یا معصوم قسم کی شرارت کرتا تو بعد میں کہتا کہ میں تو اس سے ’’لہر‘ لے رہا تھا۔ لہر لینا مجھے اس لئے یاد آیا کہ چند روزقبل میں ایک بڑے اسپتال میں داخل ہوتے ہوئے سسٹم اور صفائی کی داد دے رہا تھا تو برآمدے میں دور سے ایک گورا نظر آیا۔ اس کی عمر کوئی پچاسی نوے سال کے لگ بھگ ہوگی۔ چہرے پر جھریاں اور جھکی ہوئی کمر اس کی جسمانی کمزوری اور عمر کی چغلی کھاتی تھیں۔ وہ ہر چیز سے بے نیاز ایک بڑی سی ریڑھی کو آرام سے پُش (PUSH)کرتا یعنی دھکیلتا ہوا چلا آرہا تھا۔ برآمدے میں ہم صرف دو ہی مسافر تھے اس لئے ایک دوسرے کو دور ہی سے دیکھ رہے تھے۔ میں نے دیکھا کہ اس کی ریڑھی چھوٹے چھوٹے کھلونوں سے بھری ہوئی ہے۔ میرا پہلا ردعمل یہ تھا کہ مجبور بابا روٹی کمانے کے لئے کھلونے فروخت کرتا ہے۔ چونکہ اسپتال میں بچے بھی آتے ہیں اس لئے اس نے اپنی ریڑھی کا رخ اسپتال کی طرف موڑ دیا ہے۔ نہ جانے کیوںاس بظاہر بھولے بھالے گورے امریکی کو دیکھ کر میرا اس سے لہر لینے کا جی چاہا کیونکہ میں کار کے ایک گھنٹے کے سفر میں نہ کسی سے الجھا تھا، نہ کسی کو لڑتے اور بدتمیزی کرتے دیکھا تھا نہ ہی کسی کو قانون توڑتے دیکھ کر پریشان ہوا تھا۔ میں قریب پہنچا تو بوڑھے گورے نے حسب معمول مسکرا کر مجھے دیکھا اور رنگت سے دھوکا کھا کرنمستے کہا۔ میں نے جواباً مسکرا کراسے السلام علیکم کہا تووہ چونکا اور ریڑھی روک کر مجھے انگریزی میں کہا ’’تو گویا تم مسلمان ہو‘‘۔ میں نے ہاں میں جواب دیا اور پوچھا کہ آپ کھلونے بیچتے ہیں۔ یہاں کوئی کسی سے ذاتی قسم کے سوالات نہیں پوچھتا جب تک اشد ضرورت نہ ہو۔ اس نے دوبارہ مسکرا کر مجھ سے لہر لی اور کہا کہ تم اپنی پسند کا کھلونا میری ریڑھی سے مفت لے سکتے ہو مگر ایک شرط پر۔ میں نے ریڑھی پر نظر ڈالی تو ہر طرف رنگ برنگے چھوٹے چھوٹے سے خوبصورت کھلونے نظر آئے جو مہنگے ہرگز نہیں تھے۔ میں نے اس سے کہا کہ پہلے اپنی شرط بتائیں پھر میں کھلونا لوں گا۔ وہ پھر مسکرایا اور کہا ’’شرط یہ ہے کہ تم یہ کھلونا کسی بیمار یا روتے یا منہ بسورتے بچے کو دو گے کیونکہ یہ تمہارے کام کا نہیں اور خطرہ ہے کہ تم اسے کوڑے میں پھینک دو گے‘‘۔ میں نے دلچسپی سے اس کی شرط سنی، نہایت گرمجوشی سے اس کا شکریہ ادا کیا اور کھلونا لینے سے معذرت کرلی۔ اس سے قبل کہ میں لہر لے کر دوسری طرف چلا جاتا، وہ بزرگ گورا بولا تم نے مجھ سے پوچھا تھا کہ کیا میں کھلونے بیچتا ہوں۔
میں تمہیں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ میں کھلونے نہیں بیچتا بلکہ محبت تقسیم کرتا ہوں۔ میری سرمایہ کاری اور پنشن سے مجھے خاصی آمدنی ہوتی ہے۔ پھر میں دوستوں اور رشتے داروں سے چندے اکٹھے کرتا ہوں۔ اس رقم سے میں ہول سیل پر سستے مگر رنگ برنگے خوبصورت کھلونے خریدتا ہوں اور ہر روز کھلونوں کی ریڑھی لے کر بچوں کے وارڈ میں جاتا ہوں۔ شدید بیمار بچوں کے کمروں میں بھی جاتا ہوں اور ان سب کو ان کی پسند کا کھلونا تحفے کے طور پر پیش کرتا ہوں۔ روتے ہوئے، منہ بسورتے ہوئے بچے کھلونا لے کر نارمل ہو جاتے ہیں جس سے مجھے قلبی سکون ملتا ہے۔ کچھ بچے مجھ سے کھلونے لے کر مجھے غور سے دیکھتے ہیں تو مجھے اپنا بچپن یاد آجاتا ہے اور میں بچپن میں لوٹ جاتا ہوں اگر کوئی قدرے بڑا بچہ کھولنا لے کر مجھ سے ہاتھ ملا لے اور تھینک یو کہہ دے تو میرے جسم میں جوانی کی لہر دوڑ جاتی ہے۔یوں میں معصوم بچوں میں معصوم محبت بانٹ کر اور ان کی معصوم محبت سے جھولی بھر کر خالی ریڑھی کے ساتھ تو گھر لوٹ جاتا ہوں پھر میں یوں محسوس کرتا ہوں جیسے میں نے دنیا بھر کی دولت حاصل کرلی ہے۔میرا سارا دن بچوں کی معصوم محبت کے پھولوں کی خوشبو سے معطر رہتا ہے اور میرا ہر لمحہ شاد و آباد رہتا ہے۔ بھلا اس عمر میں مجھے اس سے زیادہ اور کیا چاہئے؟
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں