آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ5؍ ربیع الاوّل 1440ھ 14؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
اتنی کردارکشی سیاستدان ایک دوسرے کی کرتے ہیں، اس کے بعد اس ”مد“ میں کسی اور کی گنجائش ہی نہیں رہتی، یہ لوگ ایک دوسرے کے لئے ”خودکش“ حملہ آور ثابت ہوتے ہیں، اگر تھوڑی بہت کسر رہ بھی جاتی ہے، وہ ہم کالم نگار پوری کردیتے ہیں۔ مجال ہے کہ ہم لوگ کبھی ان کا کوئی روشن پہلو سامنے آنے دیں جبکہ خامیاں سامنے لانا صحافی کی ذمہ داری ہے اور خوبیاں سامنے نہ آنے دینا، یہ ”ذمہ داری“ کسی اور ”ادارے“ کی ہے۔ گزشتہ روز مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نوازشریف نے پاکستانی قوم کو ایک خوشگوار حیرت سے دوچار کیاجب ”جیو“ کے ”کیپٹل ٹاک“ پروگرام میں حامد میر کے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وہ سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کو لفظ بہ لفظ قبول کرتے ہوئے ایف آئی اے کے سامنے تحقیقات کے لئے پیش ہونے کو تیار ہیں۔ واضح رہے یہ ادارہ ”ڈاکٹر“ رحمن ملک کے ”زیرفرمان“ ہے اور رحمن ملک صاحب کے دل میں میاں صاحب کے لئے جو ”محبت“ کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے، اس کا اظہار ان کی زبان سے اکثر ہوتا رہتاہے۔ مسلم لیگ کے صف ِ اول کے رہنما چودھری نثار علی خان نے جب دو روز پیشتر ایف آئی اے کو یہ ذمہ داری سونپنے کے حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہارکیا تھا تو دلوں میں بجا طور پر یہ سوال ابھرا تھا کہ عدلیہ کی آزادی کے لئے قربانیاں دینے اور اس کے ہر فیصلے کی تائید

کرنے والی جماعت اپنی باری آنے پر عدلیہ کے فیصلے پر عملدرآمد کے ضمن میں کیوں پس و پیش سے کام لے رہی ہے، مگر بہت جلد میاں صاحب نے یہ الجھن دور کردی۔ ویل ڈن میاں صاحب! قوم کو آپ سے یہی امید تھی یہی وجہ ہے کہ کامران خان کے پروگرام کا ایک بڑا حصہ اس فیصلے کی تحسین پر مشتمل تھا۔ متذکرہ پروگرام میں اس فیصلے کے حوالے سے جن ماہرین کی رائے لی گئی انہوں نے بھی اس ضمن میں کسی بخل سے کام نہیں لیا… مگر جیسا کہ میں نے ابتدا میں کہا کہ سیاستدان کا سیاستدان ہی دشمن ہے چنانچہ آپ دیکھیں گے کہ میاں صاحب کے اس روشن موقف کے ”تاریک“ پہلو پیش کرنے کے لئے ان کی ایک پوری پلٹن سامنے آئے گی اور ایسی ایسی موشگافیاں کی جائیں گی کہ ان پر ہنسنے یا رونے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوگا۔ سیاست ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے کا ہی نام ہے اور یہ کام سبھی کرتے چلے آئے ہیں۔ یادش بخیر، خود میاں صاحب بھی اس ”کارِخیر“ میں کسی سے پیچھے رہنے والے نہیں ہیں۔
ایک خبر آج کے اخبار میں پنجاب کے وزیراعلیٰ میاں شہباز شریف کے حوالے سے بھی سامنے آئی ہے مگر اس خبر کو سات پردوں میں چھپا کر رکھا گیا ہے۔ خبر کے مطابق ورلڈ بنک کے کنٹری ڈائریکٹر نے کہا ہے کہ پنجاب،ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے دوسرے صوبوں کے لئے رول ماڈل ہے چنانچہ انہوں نے یقین دلایاکہ ورلڈ بنک پنجاب کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے فنڈ فراہم کرنے پر تیار ہے اور تمام جاری منصوبوں کی تکمیل کے لئے مطلوبہ تعاون بھی فراہم کیا جائے گا۔ یہ بیان ایک اور ”صف ِ ماتم“ ہے جس پر حریف سیاستدان دوزانوبیٹھ کرڈائریکٹر ورلڈ بنک پر بھی تبرا بھیجیں گے اور میاں صاحب کی ایسی کی تیسی الگ سے ہوگی حالانکہ ڈائریکٹر صاحب نے جو کچھ کہا ہے اس میں ”خبریت“ نام کی کوئی چیز نہیں، صرف پنجاب کے عوام ہی نہیں بلکہ دوسرے صوبوں کے لوگ بھی پنجاب میں ہونے والے ترقیاتی کاموں کو رشک کی نظروں سے دیکھتے ہیں۔ ابھی گزشتہ ہفتے الحمرا آرٹس کونسل کی تیسری سالانہ قومی ادبی و ثقافتی کانفرنس میں شرکت کے لئے سندھ، خیبرپختونخوا، بلتستان، آزادکشمیر اور بلوچستان سے کثیر تعداد میں دانشورلاہور آئے اور ان سب کا مجموعی تاثر یہی تھا جس کا اظہار ڈائریکٹر ورلڈ بنک نے کیا۔ ان کی ملاقات ناشتے میں میاں شہباز شریف سے بھی ہوئی۔ میں ان کے مثبت تاثرات کے حوالے سے کچھ نہیں کہنا چاہتا کہ وہ خود اپنے ان تاثرات سے اپنے علاقے کے لوگوں کو آگاہ کر رہے ہیں۔ البتہ یہ لوگ میاں صاحب کے ناشتے سے بہت مایوس ہوئے۔ یہ ناشتہ ڈبل روٹی کے ایک سلائس جسے کاٹ کر دوحصوں میں تقسیم کر دیا گیا تاکہ پلیٹ بھری بھری لگے اور ایک فرائڈ انڈا… اس کے بعد ناشتہ ختم! واپسی پر میاں صاحب نے مجھ سے پوچھا ”اب آپ لوگ کہاں جارہے ہیں؟“ میں نے مختصرسا جواب دیا ”ناشتہ کرنے!“
بات چونکہ ایک خاص حوالے سے ہو رہی ہے، بعض سیاستدانوں کا ایک دوسرے کے مثبت پہلوؤں سے انکار بلکہ ان میں منفی پہلو تلاش کرنا، سو حال ہی میں اس کی ایک او ر مثال بھی سامنے آئی ہے جس کا تعلق شہباز شریف کے داماد علی عمران سے ہے۔ خبر شائع ہوئی کہ ان کی اہلیہ کے ساتھ بیکری کے ایک ملازم نے بدتمیزی کی جس پر علی عمران کے گارڈوں نے اسے زدوکوب کیا۔ یہ خبر شائع ہونے کے بعد شہباز صاحب نے پہلا کام یہ کیا کہ اپنے داماد کی گرفتاری کا حکم دیا چنانچہ اسے باقاعدہ حراست میں لیا گیا اور ضمانت منظور ہونے تک اسے حراست ہی میں رکھا گیا۔ اگر آپ کو علم ہو جائے کہ بیکری کے ملازم کی بدتمیزی کی نوعیت کیا تھی اور اس طرح کا واقعہ میری یا آپ کی بیٹی کے ساتھ پیش آیا ہوتا تو شاید ہمارا ردعمل بھی وہی ہوتا جو مبینہ طور پر علی عمران کا تھا۔ اس سے قطع نظر، اب حریف جماعتوں کے رہنما داماد کی گرفتاری کے غیرمعمولی واقعہ کی اہمیت ختم کرنے کیلئے کہہ رہے ہیں کہ اس کی ضمانت کیوں ہوئی؟ یہ بہت زیادتی کی بات ہے کیونکہ یہ فعل قانونی طور پر قابل ضمانت تھا۔ اسی طرح کی ایک روشن مثال میاں نواز شریف نے بھی گزشتہ دنوں پیش کی جب انہوں نے اپنے داماد کیپٹن (ر) صفدر کو پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی پر شوکاز نوٹس بھیجا اور ان کی بنیادی رکنیت معطل کردی جبکہ اس سے پہلے یہ روشن مثالیں ہماری سیاسی تاریخ میں بہت کم کم نظر آتی ہیں لیکن ”میں نہ مانوں“ کا رویہ ہمارے سیاستدانوں کو اتنا پسند ہے کہ وہ کسی صورت بھی اس سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں وجہ وہی کہ سیاستدان کا دشمن سیاستدان ہی ہوتاہے۔ اگرایسا نہ ہو تو ہمارے فوجی جرنیلوں کو ”قوم کے وسیع تر مفاد“ میں حکومت پر قبضہ کرنے کی”زحمت“ کیوں اٹھانا پڑے ؟

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں