آپ آف لائن ہیں
منگل7؍ محرم الحرام 1440 ھ18؍ستمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہر طرح کے نشیب و فراز سے گزر کر ملکی تاریخ میں دوسری جمہوری حکومت اپنی پانچ سالہ آئینی مدت پوری کرنے کے بعد 31مئی کی شب بارہ بجے ختم ہو چکی، صوبائی حکومتیں بھی آئینی مدت کی تکمیل کے بعد ماضی کا قصہ بن گئیں۔ صدر مملکت ملک میں عام انتخابات کے انعقاد کیلئے 25؍جولائی 2018ءکی تاریخ مقرر کر چکے، الیکشن کمیشن انتخابی شیڈول کا اعلان کر چکا، سیاسی جماعتیں اپنے انداز سے انتخابی مہم کا آغاز کر چکیں، پارٹی ٹکٹ کیلئے امیدواروں سے درخواستوں کی وصولی شروع ہو چکی، ٹکٹوں کے اجرا کیلئے پارلیمانی بورڈ قائم ہو چکے،ٹکٹ کے حصول کیلئے پارٹیوں کے اندر کھینچا تانی بھی شروع ہو چکی،آئین کے تحت ساٹھ دن کے اندر عام انتخابات منعقد کرانے کیلئے نگراں حکومتوں کے قیام کا عمل شروع ہو چکا، وفاق میں نگراں وزیر اعظم جسٹس ریٹائرڈ ناصر الملک اور صوبہ سندھ میں فضل الرحمٰن حلف اٹھا کر اپنے عہدوں پر کام شروع کر چکے، دیگر تین صوبوں میں نگراں حکومتوں کے تقرر کیلئے آئین کے مطابق کارروائی جاری ہے اور اس سارے عمل کے سب سے اہم فریق عوام الیکشن میں اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کیلئے انتہائی پرجوش ہیں لیکن ان تمام زمینی حقائق کے باوجود سابق وزیر اعظم نواز شریف، پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان،سابق چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی

اور بیرسٹر اعتزاز احسن جیسے اہم سیاسی رہنمائوں سے لے کر مجھ جیسے صحافی تک کسی کو کامل یقین نہیں کہ عام انتخابات مقررہ وقت پرمنعقد ہونگے۔ بے یقینی کی اسی صورتحال کے باعث نگراں وزیر اعظم کا حلف اٹھانے والے جسٹس ریٹائرڈ ناصر الملک سے میڈیا نمائندوں نے پہلا سوال عام انتخابات کے بر وقت انعقاد کے بارے میں ہی کیا جس پر انہوں نے بھرپور عزم ظاہر کیا کہ انکے الفاظ یاد رکھیں انتخابات مقررہ وقت پر اور شفاف ہونگے۔ اسی دن چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے تو یہاں تک باور کرا دیا کہ کسی کو غلط فہمی نہیں ہونی چاہئے عام انتخابات 25 جولائی کو ہی ہوں گے اورتاخیر نہیں ہونے دیں گے جبکہ اس سے ایک دن قبل جمعرات کو انتخابی شیڈول کا اعلان کرتے ہوئے سیکریٹری الیکشن کمیشن نے بھی ٹھوس لہجے میں اعلان کیا کہ الیکشن 25جولائی کو ہی ہونگے۔ آئین میں عام انتخابات کے التوا کی کوئی گنجائش نہ ہونے اور تمام متعلقہ اداروں کی طرف سے بر وقت الیکشن کی یقین دہانی کے باجود کیا وجہ ہے کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف یہ کہتے سنائی دیتے ہیں کہ کچھ لوگ اب بھی الیکشن ملتوی کرانے پر تلے ہوئے ہیں ،ہر الیکشن میں اس طرح کے لوگ سامنے آجاتے ہیں لیکن وہ الیکشن میں ایک منٹ کی تاخیر نہیں ہونے دیں گے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اعتزاز احسن خدشہ ظاہر کرتے ہیں کہ لگتا ہے کوئی سسٹم الیکشن کو التوا میں ڈال رہا ہے لیکن ان کی جماعت چاہتی ہے کہ بر وقت انتخابات منعقد ہوں۔ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی بھی خواہش ہے کہ الیکشن وقت پر اور شفاف ہونے چاہئیں جبکہ سابق چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی تو یہ بھی خبردار کرتے ہیں کہ اگر ریاست آئین کے مطابق عام انتخابات بروقت کرانے میں ناکام ہو گئی تو وفاق پر گہرے سائے منڈلانے لگیں گے۔ عام انتخابات کو مؤخر کرنے کی افواہیں گزشتہ کافی عرصے سے پھیلائی جا رہی ہیں۔ کبھی قومی اور کبھی ٹیکنو کریٹ حکومت کے شوشے چھوڑے گئے تو کبھی کڑے احتساب کا عمل مکمل ہونے کے بعد آئندہ حکومت سونپنے کی پھلجڑیاں چھوڑی جاتی رہی ہیں تاہم شیڈول کے مطابق سینیٹ الیکشن منعقد ہونے اور جمہوری حکومت کے تمام مراحل کامیابی سے مکمل کرنے پر وہ تمام افواہیں دم توڑگئیں۔ اب اس مرحلے پر ایک بار پھر الیکشن کے بر وقت انعقاد کے بارے میں بے یقینی کی صورتحال پیدا ہونے کی مخصوص وجوہات ہیں ، گزشتہ دنوں راولپنڈی کے بھونپو کے ذریعے یہ تاثر پھیلانے کی کوشش کی گئی کہ اگر انتخابات دو تین ماہ تاخیر کا شکار بھی ہو جائیں تو کوئی قیامت نہیں آ جائے گی،اس تاثر کو تقویت دینے کیلئے اس اینکرو کریسی کی خدمات بھی حاصل کر لی گئیں جن کی ڈیوٹی ہی ہر وقت سیاست دانوں اور جمہوریت پر دشنام طرازی کرنا ہے۔ جمہوریت کے تسلسل سے خوف زدہ سابق آمر پرویز مشرف جیسوں کی آوازیں بھی اس میں شامل ہو گئیں بلکہ سنگین غداری کیس کے مفرور ملزم نے بیرون ملک بیٹھ کر سپریم کورٹ کو یہ مشورہ بھی دے ڈالا کہ بھلے آئین سے ماورا کوئی اقدام کرنا پڑے لیکن الیکشن نہیں ہونے چاہئیں۔ آئین شکنی کا ملزم ایک بار پھر آئین کو پامال کرنے کی تجویز اس دلیل کا سہارا لیکر دیتا ہے کہ اگر عام انتخابات منعقد کرائیں گے تو عوام پاناما اسکینڈل کے باوجود دوبارہ نواز شریف کو منتخب کرلیں گے کیونکہ پاکستان کے عوام میں شعور ہی نہیں ہے۔ الیکشن سے متعلق شکوک و شبہات پیدا کرنے میں بلوچستان اسمبلی کی اس مضحکہ خیز قرارداد نے بھی اہم کردار ادا کیا جس میں عام انتخابات کو ملتوی کرنے کی یہ بھونڈی وجوہات بیان کی گئیں کہ اس دوران صوبے میں شدید گرمی ہو گی اور لوگ حج پہ بھی جائینگے۔اس قرارداد کے محرک وہی سابق وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی ہیں جنہوں نے مسلم لیگ ن کی حکومت کے خاتمے میں مرکزی کردار ادا کیا تھا اسلئے جمہوریت کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کی اس کوشش کے پس پردہ عوامل کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ اسی دوران تحریک انصاف کے رہنما پرویز خٹک نے بطور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا الیکشن کمیشن کو خط لکھ دیا کہ فاٹا کے انضمام کے بعد اب ان قبائلی علاقوں کے انتخابات بھی صوبائی اسمبلی کے ساتھ ہی منعقد ہونے چاہئیں ورنہ بعد میں انتخابات سے صوبائی حکومت کی عددی برتری متاثر ہو سکتی ہے۔ اس خط کے ذریعے انہوں نے بھی بلواسطہ عام انتخابات کو مؤخر کرنے کا مطالبہ کیا جبکہ ان کے چیئرمین عمران خان بھی ایک سانس میں الیکشن بر وقت ہونے کی خواہش ظاہر کرتے ہیں تو دوسرے سانس میں فاٹا کے الیکشن صوبائی اسمبلی کے ساتھ منعقد کرانا چاہتے ہیں۔ ایم کیوا یم نے مردم شماری کو چیلنج کر کے اپنا وزن الیکشن کا التوا چاہنے والوں کے پلڑے میں ڈال دیا۔
ادھر اسلام آباد ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کی طرف سے چودہ انتخابی حلقوں کی حلقہ بندیوں کے جاری کردہ نوٹفکیشن منسوخ کرتے ہوئے پٹیشنرز کو ہدایت کی کہ وہ اپنی شکایات کے ازالے کیلئے چار جون کو الیکشن کمیشن سے رجوع کریں جبکہ بلوچستان ہائی کورٹ کے کوئٹہ شہر کی حلقہ بندیاں کو سرے سے کالعدم قرار دینے کے بعدالیکشن کا بروقت انعقاد مشکوک ہوگیا۔ لاہور ہائی کورٹ کے سنگل بنچ کی طرف سے الیکشن ایکٹ کے ذریعے کاغذات نامزدگی میں کی گئی ترامیم کو مسترد کر نےکے بعد شکوک میں مزید اضافہ ہوا ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ انتخابی اصلاحاتی کمیٹی میں تمام سیاسی جماعتوں کے نمائندوں نے کاغذات نامزدگی میں بد نیتی کی بنا پر تبدیلیاں کیں اور جو اختیار الیکشن کمیشن کے رولز میں اسے حاصل تھا اسے ایکٹ کے ذریعے خود حاصل کر کے آرٹیکل باسٹھ اور تریسٹھ کی زد میں آنے والی تمام شقیں ختم کر ڈالیں لیکن الیکشن کمیشن کو اس عمل کے خلاف تب خود عدالت سے رجوع کرنا چاہئے تھا اب اس مرحلے پر یہ فیصلہ الیکشن کے انعقاد کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے جس کا خدشہ اسپیکر سردار ایازصادق نے بھی ظاہرکیا ۔
ان کا یہ نکتہ بھی قابل غور ہے کہ اسی کاغذات نامزدگی کی بنیاد پر حالیہ سینیٹ الیکشن ہوئے ہیں۔ انہوں نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو بطور اسپیکر چیلنج کرنے کا بھی اعلان کیا ۔ ان تمام عوامل کی وجہ سے الیکشن کے بر وقت انعقادکے بارے میں اٹھنے والے سوالات پر الیکشن کمیشن نے ہفتے کو ہنگامی اجلاس منعقد کر کے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ الیکشن 25 جولائی کو ہی ہوں گے۔ الیکشن کمیشن نے پیدا ہونے والی حالیہ پیچیدگیوں کو حل کرنے کیلئے لاہور ہائی کورٹ اور بلوچستان ہائی کورٹ کے فیصلوں کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا بھی اعلان کیا جبکہ نگراں وزیر اعظم ناصر الملک نے بھی وفاقی حکومت کو لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کی جو خوش آئند ہے۔دوران تحریر یہ خبر آئی ہےکہ سپریم کورٹ نے لاہورہائیکورٹ کا فیصلہ معطل کردیا ہے اس بر وقت فیصلے کے بعد امیدکی جاسکتی ہے کہ کاغذات نامزدگی کی وصولی کا کام شروع ہو سکے گا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ اعلیٰ عدالتوں سمیت تمام ریاستی ادارے آئین کے مطابق عام انتخابات کے مقررہ وقت پر انعقاد کو یقینی بنانے کیلئے ہرممکن کردار ادا کریں کیونکہ ان انتخابات سے صرف جمہوریت ہی نہیں پاکستان کا مستقبل بھی وابستہ ہے۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں