آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار9؍ربیع الاوّل1440ھ 18؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جناب اسفند یارولی اور معزز بزرگارن اے این پی!
آپ سب جانتےتوہیں لیکن ’’اسٹیٹس کو‘‘ کی سیاست میں مکمل لتھڑ جانے اور اسی گھڑے میں رہنے سے پارٹی کی قیادت اور بڑے نظریاتی ذمہ داران کے ذہن سے شاید محو ہوگیا۔
یہ کہ آپ کی جماعت کے بانی اور نظریاتی قائد محترم باچا خان مرحوم اور ان کے ساتھی اپنے ’’یک قومی نظریے‘‘ اوراس کی پیروی میںقیام پاکستان کی مخالفت میں کٹڑ تھے۔ لیکن پاکستان بننے کےبعد انہوں نے صوبہ سرحد میں جمہوری عمل (ریفرنڈم) سے پاکستان میں شمولیت کوقبول کرلیا۔ یقیناً آپ کے بزرگوں کا موقف اور نظریہ مبنی براخلاص ہی تھا، جس کے عوام کی بھاری اکثریت کی جانب سے رد ہونے پر آپ کے بزرگوں نے سرتسلیم خم کرتے ہوئے اسے قبول کیا اور پاکستان کے مرکزی دھارے میں شامل ہونا مان لیااور عملاً ہو گئے۔
الیکشن 76ء کے آخری مہینوں میں جب بھٹو مخالف اپوزیشن اتحاد قائم ہوا، زبردست انتخابی مہم شروع ہوئی۔ پھر مارشل لاء لگا۔ حیدر آباد ٹربیونل کیس کے بڑے ملزم ولی خان مرحوم رہا ہوکر آئے، جنرل ضیاء الحق کے 90روز والے اعلان ہوئے الیکشن، 1977کی انتخابی مہم کا آغاز ہوا تو میں نے یونیورسٹی سے فارغ ہو کر نیوز رپورٹنگ شروع کردی تھی۔ یوں سیاسی واقعات کا عینی شاہد بنا۔ دیکھا کہ کس طرح بھٹو صاحب کے سخت غیرجمہوری دور میں

بے حد عزت اور سیاسی وقار حاصل کرنے والے (سیاسی و نظریاتی مخالفین میں بھی) اپوزیشن لیڈر جناب ولی خان کیسے بااثر قومی رہنما بنے۔ انہوں نے ایک ون ٹو ون نیوز انٹرویو میں بتایا، اس سے پہلے محترمہ نسیم ولی پریس ٹاک، پریس کانفرنسز اور جلسوں کی تقاریر میںبھی یہ ہی واضح کرتی رہیں کہ پاکستان بننے اور قائداعظم (دونوں قائداعظم ہی کہتے) کے حلف اٹھانے کے بعد باچا خان نے قائداعظم کو بطور گورنر جنرل پشاور آنے کی خصوصی دعوت دی۔ وہ ان سے اس ملاقات میں یہ ہی واضح کرنا چاہتے تھے کہ اب وہ صدقِ دل سے پاکستان کے شہری کے طور اسے تسلیم کرتے ہیں اور اسی ریاستی فریم میں اپنی سیاست کریں گے۔ بقول دونوں مرحوم سیاستدانوں ولی خان اور بیگم نسیم ولی خان قائداعظم اس ملاقات پر آمادہ معلوم دیئے تو سرحدکے سرگرم مسلم لیگی رہنما خان عبدالقیوم نےیہ بیل منڈھے نہ چڑھنے دی۔ واضح رہے کہ تحریک کے دوران ولی خان تو جیل میں تھے۔ سو، قوم کو اس یقین دہانی کی فریکوئنسی بیگم نسیم ولی خان کی طرف سے زیادہ تھی۔
جب خان صاحب جیل سے رہا ہو کر آئے تو چوہدری ظہور الٰہی بھی ساتھ ہی رہا ہوئے۔ سچی بات تو یہ ہے دونوں نے ایک بیانیہ (واللہ عالم کس کے ذہن کی اختراع تھی) ضیاءالحق کے 90روز والی انتخابی مہم کے دوران اختیارکرلیا اور قومی اتحاد کے کارکن بھی اس پر آمادہ ہوتے نظرآئے۔ یہ بیانیہ تھا ’’پہلے احتساب پھر انتخاب‘‘ اس کی وضاحت میں توولی خان کی زبان بہت سخت ہوتی۔ آج چار عشروں کے بعد یہ (انتخاب و احتساب) ساتھ ساتھ ہو رہے ہیں۔
اس پس منظر سے یہ واضح کرنا مقصود ہے کہ خود باچا خان اور ان کےورثا نے پاکستانی فریم میں نئے حالات کے مطابق قومی سوچ اختیار کی۔ بقول آپ (اسفند صاحب) کے والدین کےباچا خان کی راہ میں روڑے اٹکائے گئے، لیکن آنے والے وقت میں ولی خان تو پھر بھی قومی سطح کےبہترین سیاستدان بن کر سرگرم ہوئے۔ بھٹو کے سخت گیر دور میں راولپنڈی میں سانحہ لیاقت باغ سے ملک میں فتنا وفساد پیداکرنے کا جو حکومتی فسطائی اقدام ہوا،اس پر ولی خان مرحوم نے سیاسی حوصلے اور قومی سوچ کا جو تاریخی اورقابل قدر مظاہرہ کیا، اس پر کون کہہ سکتا ہے کہ وہ علاقائی فریم کے سیاستدان تھے۔
جناب اسفندیار! ایسے میں آپ اپنی سیاست کو علاقائی بنانے پر کیوں تل گئے ہیں۔ آپ کی جماعت تو قومی تھی۔ اس کے دسیوں مخلص اورمنجھے ہوئے سیاسی رہنما اورورکر پنجاب کے مختلف شہروں میں ہمارے دوست رہے اور ملک کے کتنے ہی شہروںمیں یہ سرگرم تھی۔ آپ کی والدہ انتقال سے پہلے تک آپ کی سیاست کی سخت ناقد بن چکی تھیں۔ ان ہی کی لیگسی تھی کہ آپ مسلم لیگ (ن) کے اتحادی اور شریک ِ اقتدار ہوئے۔ آپ برا نہ مانیے گا اس کے ذمہ دار آپ اور آپ کے ساتھی ہی ہیں، جن کی محدود سوچ اور عمل سے آپ نے اے این پی کوخیبرپختونخوا کی بھی اکثریتی جماعت نہ رہنے دیا۔
معاملہ یہیں تک نہیں آپ اپنی نئی نسل سے لاپروا اپنے مائنڈ سیٹ اور بنائے اسٹیٹس کو میں رہ کراپنے ہی بچوںکو علاقے کا اسیر بنانے کا سامان نہیں کررہے؟
یہ جو آپ نے پشاور میں اپنی جماعت کے پلیٹ فارم سے ’’کالاباغ ڈیم نامنظور‘‘ کا سیاسی تماشہ کیا ہے اور اس میں جس طرح پنجاب اور اردو پر تبرّا کیا گیا ہے، اس سے آپ کی سیاسی دکان کوئی زیادہ چمکےگی؟ نہیں بالکل نہیں۔ آپ خیبرپختونخوا کی موجودہ اور ظہور پذیر ان حقیقتوں کو سمجھ ہی نہیں پا رہے، جو سابقہ فاٹا کے صوبے میں ادغام سے نئی و پرانی اور قومی اور علاقائی سیاسی جماعتوں کی سیاست کے لئے چیلنج بنی ہیں۔ آپ نے کہا:’’پاکستان اور کالاباغ ڈیم ایک ساتھ نہیں چل سکتے‘‘ حالانکہ واضح یہ ہو رہا ہے اور تیزی سےہو رہا ہے کہ کالاباغ ڈیم کے بغیر پاکستان چلنا محال ہو جائے گا۔ آپ کا یہ کہنا یکسر غلط ہے کہ پنجاب وفاق کا کمانڈر بن رہا ہے۔ آپ اس کے سامنے جھکےہیں نہ جھکیں گے۔ حضور! یہ پنجاب ہی ہے جس نے پی پی کی ہمیشہ سے سندھی قیادت کو چارمرتبہ حکومتی قیادت (وزارت عظمیٰ) اور ایک مرتبہ آئینی سربراہی (صدارت) دی۔اور آپ وفاقی حکومتوں کے شراکت داربھی رہے۔ ن لیگ نے ہی آپ کے صوبے کا نام تبدیل کرنے کی دیرینہ خواہش کا احترام کیا۔ پھر پنجاب نے وفاق پر اجارہ داری قائم کرنا ہوتی تو آبادی کے زورپر نہ کرلیتا؟ جیسے آپ کی جماعت اور پی پی پر دوخاندانوں نے کی ہے۔
یہ دکانداری آپ کی ہو، پی پی ، ایم کیو ایم یا اور چند سیاسی گروہوں کی کہ کالاباغ ڈیم کو ملکی سلامتی سے جوڑ کر وقتاً فوقتاً دھمکیاں دیتے رہیں، اب نہیں چلے گی۔ دھمکیاں نہیں دلائل دیں اور وضاحت کریں کہ آخر ’’کالاباغ ڈیم‘‘ آخر کیوں نہیں؟
جبکہ ملک کا کتنا بڑا رقبہ پہلے ہی نیم صحرائی ہوچکا اور پاکستانی قوم کے تیزی سے روزمرہ کے استعمال کے پانی کی قلت میں تشویشناک اضافہ ہو رہاہے۔ آپ نے کہا ہے سپریم کورٹ بھی حکم دے دے تو کالاباغ ڈیم نہیں بننے دیںگے آخر کیوںنہیں؟ سپریم کورٹ تو نہیں آپ اور اختلاف رکھنے والی جماعتوں کو پارلیمان میں بتانا ہوگا۔ جماعت قومی ہو یا علاقائی اسے سیاسی بلیک میلنگ سے ہرگز یہ اجازت اب نہیں دی جاسکتی کہ وہ توانائی اورپانی کا مصنوعی قحط پیدا کرکے پاکستان کو بنجر اور کنگال کردیں۔ قومی مکالمے میں جانا ہوگا۔ یہ آواز لاہور ہی کی نہیں قومی ضرورت اور جمہوریت کا ناگزیر تقاضا ہے۔
ملکی سلامتی کی دھمکیاں سیاسی ہتھیار بنائی گئیں تو آپ کی اپنی نئی نسل آپ سے حساب لے گی۔ جس طرح فاٹا کے جوانوں نے اپنے مستقبل کی راہ نکالی ہے تو آپ کے برعکس وہاں کے روایتی بزرگوںنے زمانے کا سبق پڑھتے اور سمجھتے ہوئے خیبرپختونخوا کے روشن مستقبل کی بنیاد رکھ دی۔ اے این پی والے اورپی پی والے بھی اس سبق کو پڑھیں اور سمجھیں۔ پی پی کے لئے تو ملین ڈالر ٹپ ہے کہ پنجاب میں اپنی تاریخی کھوئی ہوئی پوزیشن بحال کرنی ہے تو کالاباغ ڈیم کی بے دلیل مخالفت ختم کرو، پھر دیکھو پنجاب کس قومی جذبے سے دوبارہ پی پی کو وفاقی حیثیت بحال کرنے میں کردار ادا کرتاہے، اپنے پنجابی لیڈروں سے کنفرم کرلو۔
آئین اور جمہوریت کی بالادستی کا تقاضا ہے کہ کالاباغ ڈیم کی مخالفت یا حمایت کو آنے والی پارلیمان میںدلائل سے کنفرم کیاجائے۔ اس کاحتمی فیصلہ مکارانہ احتجاجی اور سیاسی شعبدوں اور بلاجواز احتجاجی بیان بازی سے نہیں ہوسکتا کہ یہ پاکستان کی بقا اور استحکام کا معاملہ ہے۔ سو مجوزہ معطل منصوبہ نئی پارلیمان کا شدت سے منتظر ہے۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں