آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ5؍ ربیع الاوّل 1440ھ 14؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تیز رفتار ٹرین کی کھڑکی سے باہر دیکھیں تو مناظر تیزی سے پیچھے کو بھاگتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ کچھ ایسی ہی برق رفتاری سے پاکستان کا سیاسی منظر بھی بدل رہا ہے، صبح شام نت نئے واقعات، ہر لحظہ نئے حادثات، گویا،
کون اس گھر کی دیکھ بھال کرے
روز اک چیز ٹوٹ جاتی ہے
ابھی ایک ماہ پہلے کی بات ہے کہ سابق وزیر داخلہ احسن اقبال کو گولی ماری گئی تھی، بہت بڑا واقعہ تھا، مبصرین نے کہا کہ یہ آنے والے خونی انتخابات کی ایک جھلک ہے اور آج یوں لگتا ہے جیسے وہ کوئی ماضی کے گرد پوش میں لپٹا ہوا، بھولا بسرا قصہ ہو، پھر نواز شریف نے ممبئی حملوں کی نسبت سے کچھ ارشاد کیا تو آسمان گرنے کا اندیشہ پیدا ہو گیا اور ساری قوم کی نظریں نیشنل سیکورٹی کونسل کے اجلاس پر جم گئیں، میاں صاحب ’’غدار ملت‘‘ قرار پانے ہی والے تھے کہ جنرل اسد درانی (ریٹائرڈ) کی کتاب سامنے آ گئی اور ادھر میاں صاحب نے ٹرتھ کمیشن کا مطالبہ کر دیا۔ یہ سب ابھی پندرہ بیس دن پرانی باتیں ہیں۔ اور پچھلے ہفتہ عشرہ کے دوران تو سیاسی رولر کوسٹر کی رفتار مزید ہوش ربا ہو چکی ہے۔ ابھی قوم نگران وزیر اعلیٰ کی تقرری کے حوالے سے پی ٹی آئی کے لتے لے ہی رہی تھی کہ چیف جسٹس روس سے لوٹ آئے، پھر ریحام خان طلوع ہوئیں، پھر ڈی جی آئی ایس پی آر گویا ہوئے، یعنی ’ایک ہنگامے پہ

موقوف ہے گھر کی رونق‘۔
لیکن ہمارا سوال اب بھی وہی ہے، کیا الیکشن وقت پر ہوں گے؟ ہر طرف ’ہوں گے‘ اور ’نہیں ہوں گے‘ کی تکرار چل رہی ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ یہ ہیجان بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ نگران وزیر اعظم سے چیف جسٹس تک قوم کے سب بڑے، انتخابات کے بروقت انعقاد کے ضمن میں قوم کو ضمانتیں دے چکے ہیں۔ مگر پھر کوئی قرارداد یا چٹھی سامنے آ جاتی ہے، سانپ اور سیڑھی کا کھیل دوبارہ سے شروع ہو جاتا ہے اور قوم ایک مرتبہ پھر بے یقینی کی دلدل میں اتر جاتی ہے۔ ادھر میڈیا پر ایک گروہ جس کی مخصوص نظریاتی قربت کوئی راز نہیں، مسلسل یہ دلیل پیش کر رہا ہے کہ ’کچھ دن‘ کی تاخیر سے کوئی قیامت نہیں آ جائے گی۔ جنرل ضیاء الحق کے ’نوے دنوں میں انتخابات‘ والی دروغ گوئی کی ڈسی ہوئی یہ قوم اس بظاہر بے ضرر تاخیر کی تجویز سے سہم جاتی ہے۔ ویسے ایک نصابی مشق کے لئے ذرا سوچئے کہ کچھ دن کی تاخیر سے کیا مقاصد پورے کئے جا سکتے ہیں؟ کیا چند ضدی کونجیں ڈار سے بچھڑنے پر آمادہ نہیں؟ ویسے ہمارے ایک عقل کل دوست کا خیال ہے کہ اس وقت تک الیکشن کا انعقاد مشکل ہے جب تک کہ جی ٹی روڈ اور شیر شاہ سوری ثانی کا رشتہ نہیں ٹوٹتا۔
’’کبھی کبھی مغربی ممالک کے صحافیوں کی موضوعات کے اعتبار سے تنگ دامانی پر رحم آتا ہے۔ مثلاً، بیچارے امریکی صحافی صدارتی انتخابات کے حوالے سے کیا لکھتے ہوں گے، بلکہ کیا خاک لکھتے ہوں گے، جہاں پوری قوم کو سو فی صد معلوم ہوتا ہے کہ ہر چار سال بعد لیپ کے سال میں، نومبر کے پہلے منگل کو صدارتی انتخاب ہو گا اور بیس جنوری کو نیا صدر حلف اٹھائے گا‘‘
بہرحال، اگر کوئی سِراً یا علانیہ انتخابات میں تاخیر کی تدبیر کر بھی رہا ہے تو عمران خان صاحب کو ایسی کسی کوشش کا ساتھ نہیں دینا چاہیے۔ خان صاحب نے کچھ عرصہ پہلے اپنے ایک انٹرویو میں انتخابات کے انعقاد میں ’معمولی التوا‘ کو مباح قرار دیا تھا، پھر پچھلے ہفتہ پرویز خٹک صاحب نے خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ کی حیثیت سے الیکشن کمیشن کو ایک درخواست بھیجی جس پر عمل درآمد کی صورت میں انتخابات ملتوی ہونے کا اندیشہ پیدا ہوا۔ اگر یہ اقدام خان صاحب کی سادگی کے مظہر ہیں تو یہ ایک خوفناک علامت ہے اور اگر یہ ان کے مشیران کی کار فرمائی ہے تو ایسے بزرج مہروں سے اللہ ان کی حفاظت فرمائے۔
خان صاحب یاد رکھئے اگر خدانخواستہ انتخابات تاخیر کا شکار ہوتے ہیں تو اس کا سب سے زیادہ نقصان آپ کو ہو گا۔ سارا اسٹیج سیٹ ہے، یہ آپ کے لئے بہترین اور شاید آخری موقع ہے۔ کوئی آپ کے کان میں لاکھ پھونکیں مارے، آنے والے وقت کی کروٹوں پر بھروسہ نہ کیجئے۔ ایئر مارشل اصغر خان کا قصہ تو آپ نے سنا ہو گا لہٰذا، بروقت انتخابات کا مطالبہ منمنا کر نہ کیجئے، اونچی آواز میں کیجئے۔ نواز شریف کو دیکھئے، ناموافق حالات کے باوجود وہ کس طرح گلا پھاڑ کر یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ ’انتخابات میں ایک گھنٹے کی تاخیر بھی برداشت نہیں کی جائے گی‘۔
چلئے ہم نے مان لیا کہ انتخابات وقت پر ہوں گے تو اب اگلا سوال یہ ہے کہ وہ کس قدر شفاف ہوں گے؟ اس ضمن میں پاکستان مسلم لیگ (نون) کا واویلا تو جاری ہی تھا اب پلڈاٹ کی رپورٹ بھی اس تاثر کو تقویت دیتی نظر آ رہی ہے۔ ادھر رائٹر سے وال اسٹریٹ جرنل تک انٹرنیشنل میڈیا بھی ان اندیشوں کو مزید ہوا دے رہا ہے۔ اب اس کا کیا حل ہے؟
یہاں یہ سوال اہم ہے کہ الیکشن کمیشن کو کیا سوجھی کہ اس نے بین الاقوامی مبصرین کی انتخابات کے موقع پر آمد کو دشوار تر بنا دیا؟ یہ فیصلہ کس اندیشہ کے تحت کیا گیا؟ وہ جو سیکرٹری الیکشن کمیشن نے انتخابات کو سبوتاژ کرنے کی کسی انٹرنیشنل سازش کا خفیف سا ذکر کیا تھا، اس کا اس سارے معاملہ سے کیا رشتہ بنتا ہے؟ بادی النظر میں تو اس طرح کے فیصلوں سے شکوک پیدا ہوتے ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ غیر جانبدار مبصرین کی اس موقع پر آمد کو آسان بنایا جاتا تاکہ دنیا بھر سے آئے ہوئے مبصرین ہمارے الیکشن کے شفاف عمل کو سراہتے۔ اب بھی وقت ہے کہ الیکشن کمیشن اس کجی کو درست کر لے۔ تمام غیر ملکی سفارت خانے تو اس سلسلے میں اپنی ٹیمیں تیار کر ہی رہے ہیں، لہٰذا ہم یہ تاثر کیوں دیں کہ ہم دنیا سے کچھ چھپانا چاہتے ہیں۔ یہ وقت تو صلائے عام کا ہے، یہ موقع تو ملک کی تاریخ کے شفاف ترین انتخابات کروا کے داد سمیٹنے کا ہے۔
جمہوریت میں جو مسائل پیدا ہوتے ہیں انتخابات ان کا بہترین حل سمجھے جاتے ہیں، لیکن صاف اور شفاف انتخابات، ایسے انتخابات جن پر کسی کو انگلی اٹھانے کا موقع نہ ملے، جبکہ جھرلو انتخابات ملک اور قوم کو بالوں سے پکڑ کر بے رحمی سے گھسیٹتے ہوئے انتشار اور انارکی کے صحرائوں میں لے جاتے ہیں۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں