آپ آف لائن ہیں
پیر 13؍محرم الحرام 1440ھ 24؍ ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ترکی میں صدارتی اور پارلیمنٹ کے انتخابات 24 جون 2018کو ہو رہے ہیں اور ماہ رمضان کے دوران تمام صدارتی امیدواروں نے اپنی صدارتی مہم کو زور شور سے جاری رکھا ہوا ہے۔ حالیہ صدارتی انتخابات ترکی کی تاریخ میں ہونیوالے تمام انتخابات سے بالکل مختلف ہیں کیونکہ اس بار ملک میں انتخابات کے بعد صدارتی نظام پر عمل درآمد شروع کردیا جائے گا اور منتخب ہونے والے صدر، اسمبلی کے باہر سے جس کو چاہیں وزیر کے طور پر کابینہ میں لے سکتے ہیں جبکہ پارلیمنٹ کے منتخب شدہ اراکین صرف اسمبلی میں قانون سازی ہی کے فرائض ادا کرسکیں گے البتہ کسی بھی رکن ِ پارلیمنٹ کو کا بینہ میں شامل کرنے کیلئے ضروری ہوگا کہ وہ پہلے اپنی نشست سے مستعفی ہونے کا اعلان کرے اور اسکے بعد ہی وہ کابینہ میں شامل ہو سکے گا۔
گزشتہ ہفتے میں نے اپنے کالم میں ترکی کی سیاست میں ایک نئے چہرے کے بارے میں معلومات دی تھیں۔ جس پر بڑی تعداد میں ای میلز اور واٹس اپ پر تعریفی پیغامات موصول ہوئے اور دیگر صدارتی امیدواروں کے بارے میں بھی آگاہی فراہم کرنے کا کہا گیا۔ اس لیے آج ترکی کی ایک دیگر صدارتی امیدوار ’’میرال آقشینر‘‘ کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کی کوشش کروں گا۔ ’’میرال آقشینر‘‘ کے بارے میں سب سے پہلے یہ بتادوں جب مرحوم نجم الدین ایربکان کی پارٹی

’’رفاہ پارٹی‘‘ سے جدید خیالات کے حامل ایک گروپ جس میں رجب طیب ایردوان، عبداللہ گل، بلنت آرنچ اورعبدالطیف شینر شامل تھے نے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے ایک نئی پارٹی تشکیل دینے کے لیے آپس میں صلاح و مشورے کا سلسلہ شروع کیا تو اس وقت میرال آقشینر بھی اس گروپ میں شامل تھیں اور انہوں نے بھی پارٹی کا نام و تشکیل کے بارے میں اپنی مشاورت فراہم کی تھی لیکن بعد میں جب انہوں نے اس پارٹی میںترک قومیت پسندی سے زیادہ مذہبی رجحانات کے ابھرنے کو محسوس کیا تو ’’دولت باہچے لی‘‘ کی قومیت پسند جماعت ’’نیشنلسٹ موومنٹ پارٹی‘‘ میں شمولیت اختیار کرلی۔ میرال آقشینر اس سے قبل ترکی کی پہلی وزیراعظم ’’تانسو چیلّر‘‘ کے دور میں ملک کی وزیر داخلہ بھی رہ چکی ہیں۔ ان کے وزیر داخلہ بننے کے بارے میں بڑے دلچسپ دعوے کیے جاتے ہیں۔ ان دعوئوں کے مطابق فتح اللہ گولن جب ترکی میں تھے تو اُس دور میں میرال آقشینر کے فتح اللہ گولن اور ان کے قریبی دوستوں سے بڑے گہرے مراسم تھے اور فتح اللہ گولن کی خواہش پر ہی میرال آقشینر کو ’’ترکی کے مشہور سیاستدان، وزیراعظم اور صدر، مرحوم سلیمان دیمرل کی جماعت‘‘ ’’صراطِ مستقیم پارٹی‘‘ کی رکنیت عطا کی گئی اور ’’تانسو چیلّر‘‘ کی پارٹی چیئرپرسن اور وزیراعظم منتخب ہونے کے دور میں میرال آقشینر کو وزیر داخلہ بنایا گیا۔ وزیر داخلہ کا عہدہ سنبھالنے کے بعد میرال کی جانب سے وزیر داخلہ بنانے پر گولن کے نام شکریے کا خط بھی سوشل میڈیا پر گردش کرتا رہا ہے جس کی میرال نے ہمیشہ تردید کی ہے۔ علاوہ ازیں 15جولائی 2016ء میں صدر ایردوان کی حکومت کا تختہ الٹنے کی ناکام بغاوت کے پیچھے بھی فتح اللہ گولن کا ہاتھ ہونے کا دعویٰ کیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ اگر فوجیوں کی یہ بغاوت کامیابی سے ہمکنار ہو جاتی تو بلا شبہ میرال آقشینر کو ہی ملک کا نیا وزیر اعظم بنایا جاتا۔
میرال آقشینر نے صدارتی مہم کے آغاز پر بڑی تیزی سے مقبولیت حاصل کرنی شروع کردی تھی اور خیال یہی ظاہر کیا جا رہا تھا کہ یہ ایردوان کو بڑا ٹف ٹائم دیں گی لیکن ’’ری پبلکن پیپلز پارٹی‘‘ کے صدارتی امیدوار ’’محرم انجے‘‘ ان کو پیچھے چھوڑتے ہوئے بہت آگے نکل چکے ہیں اور اس وقت تک تمام سرویز میں میرال آقشینر کو تیسرے صدارتی امیدوار کی حیثیت حاصل ہے جبکہ پہلے نمبر پر رجب طیب ایردوان دوسرے نمبر پر محرم انجے ہیں۔ اس کے علاوہ اسی اتحاد میں (ملت اتحاد) میں شامل سعادت پارٹی کے چیئرمین ’’تے میل قارا مولا اول‘‘ اور وطن پارٹی کے چیئرمین ’’دعو پرینچیک‘‘ بھی صدارتی امیدوار کے طور پر حصہ لے رہے ہیں ۔
کالم کے اس حصے میں ترکی کی پہلی خاتون صدارتی امیدوار ’’میرال آقشینر‘‘ کی زندگی پر روشنی ڈالتا چلوں۔ بلقانی ترک گھرانے سے تعلق رکھنے والی میرال آقشینر 18 جولائی 1956ء میں ازمیت میں پیدا ہوئیں۔ 1974 ء میں برصا گرلز کالج میں تعلیم مکمل کرنے کے بعد استنبول یونیورسٹی کی فیکلٹی آف لٹریچر کے شعبہ تاریخ میں داخلہ لیا اور 1979 میں یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہوئیں۔ انہوں نے 1979ء اور 1982ء کے درمیانی عرصے کے دوران ایک اسکول میں ٹیچر کے طور پر فرائض ادا کیے اور پھر یلدیز ٹیکنیکل یونیورسٹی کوجہ ایلی کی فیکلٹی آف انجینئرنگ میں ریسرچ فیلو کے طور پر خدمات سرانجام دیں اور مرمرہ یونیورسٹی سے پہلے ماسٹر اور بعد میں پی ایچ ڈی کیا۔ 1995ء ’’صراطِ مستقیم پارٹی‘‘ جوائن کرلی اور پہلی بار قومی اسمبلی کے انتخابات میں حصہ لیتے ہوئے رکنِ پارلیمنٹ منتخب ہوئیں۔ 28جون 1996 میں نجم الدین ایربکان کی قیادت میں رفاہ پارٹی اور صراطِ مستقیم پارٹی کی کوالیشن پر مشتمل نئی حکومت میں وزیر داخلہ مقرر ہوئیں اور 30جون 1997تک حکومت کے مستعفی ہونے تک یہ فرائض ادا کرتی رہیں۔ 4جولائی 2001ء میں صراطِ مستقیم پارٹی سے مستعفی ہو کر ایردوان کی قیادت میں قائم ہونے والی نئی جماعت ’’جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی‘‘ کے لیے کام کیا لیکن تھوڑے ہی عرصے بعد اس جماعت سے علیحدگی اختیار کرلی اور اسی سال نیشنلسٹ موومنٹ پارٹی میں شامل ہوگئیں اور پارٹی کے چیئرمین دولت باہچے لی کے سیاسی امور میں معاونت کی۔ 2011ء اور 2015ء میں دونوں بار نیشنلسٹ موومنٹ پارٹی سے رکنِ پارلیمنٹ منتخب ہوئیں۔ 2015ء کے انتخابات میں ان کی جماعت کے پہلے سے کم نشستیں حاصل کیے جانے پر انہوں نے پارٹی کے چیئرمین دولت باہچے لی پر شکست کی ذمہ داری ڈالتے ہوئے ان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کردیا اور آئندہ پارٹی کنونشن میں پارٹی کی چیئرپرسن کے طور پر انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کردیا جس پر انہیں پارٹی ہی سے فارغ کردیا گیا۔ اس پر میرال آقشینر نے اعلیٰ عدلیہ سے رجوع کیا لیکن عدلیہ نے ان کی اپیل مسترد کردی جس پر انہوں نے اپنی جماعت سے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے اپنے چند ساتھیوں کے ہمراہ 25اکتوبر 2017ء کو ’’گڈ پارٹی‘‘ کے نام سے نئی سیاسی جماعت تشکیل دی ۔اس جماعت نے بائیں بازو کی جماعت ’’ری پبلکن پیپلز پارٹی‘‘ کے ساتھ مل کر ایردوان کے خلاف ’’ملت اتحاد‘‘ کے نام سے نیا اتحاد تشکیل دیا جس میں بائیں بازو کی وطن پارٹی اور دائیں بازو کی سعادت پارٹی بھی شامل ہیں۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں