آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ 15؍ ذیقعد 1440ھ19؍جولائی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
لندن، ریحام کیخلاف ہتک عزت کا دعویٰ قابل سماعت ہوگا یا نہیں

لندن:… پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے دوست زلفی بخاری نے اگرچہ ویسٹ لندن میں وکلا کی ایک فرم سوئٹ مین برک اورسنکر کو ریحام خان کو ہتک عزت کا قانونی نوٹس بھیجنے کی ہدایت کردی ہے لیکن ایسا معلوم ہوتاہے کہ اس میں بہت سی قانونی پیچیدگیاں ہیں اور اس کالندن کی عدالت میں پیش کیاجانا اور کامیاب ہونا ممکن نظر نہیں آرہا ہے۔ کیونکہ ہتک عزت سے متعلق خط لیک ہونے کے بعد ہتک عزت کادعویٰ کمزور پڑگیا ہے۔ دی نیوز نے شہر میں ہتک عزت کے مقدمات لڑنے والے بعض معروف وکلاء سے بات چیت کرکے جو معلومات جمع کی ہیں ان سے ظاہرہواہے کہ زلفی بخاری کی ہدایت پر ریحام خان کو قانونی کارروائی سےقبل لیٹر بھیجنے والی وکلا کی فرم سوئیٹ برک اور سنکر بنیادی طورپر فیملی لا اور زخمی وغیرہ ہونے کے دعوے نمٹاتی ہے یہ فرم ہتک عزت کے دعوے کی اسپیشلسٹ نظر نہیں آتی لیکن اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ یہ ہتک عزت کامقدمہ کامیابی سے نہیں لڑسکتی۔اس فرم کے سامنے سب سے بڑا مسئلہ ہتک عزت کے مقدمے سے قبل لکھے جانے والے خط کالیک ہوجانا اور عدالت کے بجائے میڈیا میں عوام کے

سامنے یہ مقدمہ لڑاجاناہے جبکہ اسے ہر حال میںبالکل خفیہ رکھا جاناتھا۔اس مقدمے کیلئےولیم بینیٹ کانام بطور بیرسٹر پیش کیاگیاہے وہ ہتک عزت کے مقدمات کے سینئر وکیل اور اسپیشلسٹ ہیں لیکن وہ بہت مہنگے ہیں اور اگر انھوں نے مقدمہ لڑنے کیلئے معاہدہ کرلیاتو اس مقدمے کاایک دن کاخرچ ساڑھے 7ہزار پونڈ سے 10ہزار پونڈ تک ہوسکتا ہے۔ ریحام خان اس خط کاجواب دینے کیلئے مزید 14دن کی توسیع کی درخواست کرسکتی ہیں اس طرح انھیں خط کاجواب دینے کیلئے مجموعی طورپر28 دن مل جائیں گے جبکہ فی الوقت صورت حال یہ ہے کہ قانونی خط میں ریحام خان کاجو پتہ لکھاہواہے ریحام خان وہاں نہیں رہتیں اورانھوں نے ابھی تک دستخط کرکے یہ خط وصول نہیں کیاہے۔ دعویدار کتاب کی اشاعت روکنے کیلئے حکم امتناع کی درخواست دے سکتے ہیں، لیکن کیونکہ عدالتیں آزادی اظہار پر یقین رکھتی ہیں اس لئے حکم امتناع ملنا ممکن نظر نہیں آتا۔اور اگر حکم امتناع جاری بھی کیا گیا تو وہ غیر معینہ مدت کیلئے نہیں بلکہ محدود مدت کیلئے ہوگا،جبکہ ہتک عزت کا خط لیک ہوجانے کے بعد حکم امتناع ملنا تقریباً ناممکن ہے۔ حکم امتناع پرتقریباً 20ہزار پونڈ خرچ آئے گا اور زلفی بخاری کو یہ سوچنا ہوگا کہ محدود مدت کیلئے اشاعت رکوانے کیلئے اتنی رقم خرچ کی جانی چاہئے یانہیں۔ایک اندازے کے مطابق اس مقدمے پر تمام دعویداروں کے کم وبیش1.2 سے1.5 ملین پونڈ تک خرچ ہوں گے اس طرح ہر دعویدار کو کم وبیش 0.3 ملین پونڈ سے 0.4 ملین پونڈ تک خرچ کرناپڑسکتے ہیں،زلفی بخاری دولت مند ہیں اور وہ پہلے بھی عمران خان کیلئے خرچ کرتے رہے ہیں زیادہ تر اخراجات وہی کریں گے۔ اس کے علاوہ عدالتی دائرہ اختیار کابھی مسئلہ ہے اگر ریحام خان پاکستان میں مقیم ہیں اور ان کے پاس اس وقت پاکستانی ڈومیسائل ہے تو وہ یہ دعویٰ کرسکتی ہیں کہ برطانیہ کی عدالتوں کے دائرہ اختیار سے باہر ہیں۔اگر معاملہ عدالت میں گیاتو ریحام خان وسیم اکرم ،اعجاز رحمان اورانیلہ خواجہ سے رقم عدالت میں جمع کرانے کوکہہ سکتی ہیں کیونکہ یہ ان کے دائرہ اختیار میں نہیں ہوگا۔ انیلہ خواجہ10 سال سے زیادہ عرصے سے پاکستان میں مقیم ہیں ،اعجاز رحمان بھی چند سال قبل پاکستان چلے گئے ہیں، اور وسیم اکرم برطانیہ کے شہری نہیں ہیں۔ یہ نوٹس کارروائی سے قبل کی کارروائی ہوگا جس کے 28دن بعد قانونی ٹیم کو ریحام خان کو کورٹ نوٹس بھیجنے کامشورہ دیاجاسکتا ہے۔ یہ مقدمہ مختلف مراحل سے گزرے گا جس میں دعویٰ دائر کرنا ،دفاع فائل کرنا، دفاع کا جواب ،اخراجات کا جائزہ اور اس کے بعد سماعت، عدالتی شیڈول دیکھتے ہوئے کہاجاسکتاہے کہ اس کی سماعت کی تاریخ کم وبیش اگلے12سے18 ماہ بعد کی ہوسکتی ہے ۔ریحام خاں اگر اچھی قانونی فرم کی خدمات حاصل کرتی ہیں تو ان کو اس مقدمے میں اپنے دفاع پر کم وبیش 0.5سے0.7 ملین تک خرچ کرنا پڑیں گے ،برطانیہ میں ان کے نام پر پراپرٹی ہے لیکن اس کی مالیت ڈھائی لاکھ پونڈ سے بھی کم ہے جبکہ اس پر مارگیج بھی ہے یہ بھی معلوم ہواہے کہ ریحام نے اپنا مکان اپنے 3 بچوں کیلئے ایک ٹرسٹ کو دیدیا ہے ،ریحام خاں دعویداروں کوان کی ہتک عزت کے ہرجانے کے طورپر رقم ادا کرکے عدالت سے باہر بھی مقدمے کاتصفیہ کرسکتی ہیں لیکن دعویداروں کو یہ مقدمہ عدالت میں لے جانے کیلئے بھاری رقم خرچ کرنا پڑے گی۔ہتک عزت کے قوانین میں حالیہ تبدیلیوں کے بعد زیادہ سے زیادہ ڈھائی لاکھ پونڈ کی ڈگری ہوسکتی ہے اورریحام خان کو دعویداروں کو 50 ہزار پونڈسے80 ہزار پونڈ فی کس ادا کرنے کی ہدایت کی جاسکتی ہے ،اگر وہ رقم دینے کی پیشکش کریں تو عدالت ان کی اس پیشکش کو یہ تصور کرسکتی ہے کہ وہ معاملے کاتصفیہ چاہتی ہیں اور اگر دعویدار مقدمہ جیت بھی گئے تو انھیں کوئی بڑی رقم نہیں ملے گی۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں