آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ 8 ؍ربیع الاوّل 1440ھ 17؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
پہلے ایک سوال ”جو ہم پر گزرتی ہے اور جن مسائل اور مصائب کا ہم سامنا کرتے ہیں، ان کا ہماری سوچ اور ہمارے عمل پر کتنا اثر پڑتا ہے؟“ اور اب میں آپ کو یہ بتاؤں کہ یہ سوال اس وقت میرے ذہن میں کیوں آیا۔ عید کی چھٹیوں میں کراچی میں آتش زدگی کا ایک اوربڑا واقعہ ہوا۔ گلبائی کے علاقے میں ایک کیمیکل فیکٹری میں اچانک آگ لگ گئی۔ اس آگ پر 30گھنٹوں کے بعد قابو پایا جاسکا۔ آگ نے فیکٹری کی پانچوں منزلوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ حکام نے پوری عمارت کو مخدوش قرار دے دیا۔ خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ البتہ یہ ضرور تشویش کی بات ہے کہ دو مہینے بھی نہیں ہوئے جب ہم نے اس شہر کی سب سے ہولناک آتش زدگی کا سامنا کیا تھا۔ بلدیہ کی آگ میں ڈھائی سو سے زیادہ جانیں ضائع ہوئی تھیں۔ تو کیا ہم نے اس انتہائی المناک حادثے سے کچھ نہیں سیکھا کہ گلبائی کی آگ پر قابو نہ پایا جاسکا؟
لیکن یہ تقابلی جائزہ اتنا معنی خیز نہیں جتنا بلدیہ کی آتش زدگی کا موازنہ کسی اور شہر کی کسی اور زمانے کی آگ سے ہے۔ ہوا یہ کہ چند روز قبل میں نے پروفیسر سی ایم نعیم کا ایک مضمون پڑھا جو انہوں نے بلدیہ کی آگ کی تپش محسوس کرنے کے بعد لکھا۔ پروفیسر نعیم اردو زبان اور ادب کے ایک معروف اسکالر ہیں اور اب شکاگو یونیورسٹی کے اعزازی پروفیسر ہیں۔ وہ ہندوستان سے ہجرت کرکے

امریکہ گئے تھے۔ گویا کراچی یا پاکستان سے ان کا کوئی براہ راست تعلق نہیں ہے۔ ان کا مضمون انگریزی میں ہے۔ عنوان ہے ”دو آتش زدگیاں…ٹو فائرز“۔ بلدیہ کی تاریخی آتش زدگی کا حادثہ تاریخی دن یعنی گیارہ ستمبر کو پیش آیا۔ اس آگ میں کم از کم 259، زندگیاں راکھ ہوگئیں اور ان میں خواتین بھی شامل تھیں۔ پروفیسر نعیم نے واقعے کے بعد کے دو چار دنوں میں جب اس آگ کی خبریں پڑھیں تو انہیں اسی نوعیت کا ایک اور واقعہ یاد آیا۔ یہ وہ آگ تھی جو نیویارک شہر میں سو سال پہلے یعنی 1911ء میں لگی تھی۔ یہ آگ بھی بلدیہ کی آگ کی طرح ملبوسات تیار کرنے والی ایک فیکٹری میں لگی تھی۔ اس حادثے میں 146/اموات ہوئیں اور ان میں بیشتر وہ نوجوان خواتین تھیں جن کے خاندانوں نے حال ہی میں، یورپ کے کئی ممالک سے ہجرت کرکے ایک نئی دنیا میں ایک نئی زندگی کا آغاز کیا تھا۔ اس آگ کو ”ٹرائی اینگل فائر“ کا نام دیا گیا کیونکہ یہ فیکٹری تکونی کاٹ کا ایک چولی نما لباس تیار کرتی تھی جو ان دنوں خواتین کے فیش میں اہمیت حاصل کررہا تھا۔
پروفیسر نعیم نے کافی وقت صرف کرکے یہ تحقیق کی کہ نیویارک کی اس آگ کا شہر پر بلکہ پورے ملک پر کیا اثر پڑا۔ یہ ایک تفصیلی بیان ہے۔ پروفیسر نعیم کہتے ہیں کہ جب انہوں نے یادداشت کو تازہ کرنے کے لئے نیویارک کی آگ کے واقعے پر لکھی گئی کتابیں پڑھیں تو انہیں احساس ہوا کہ اس میں آج کے پاکستان کے لئے کئی سبق ہیں۔ یوں تو آج کل کی سرخیاں بھی ہمیں یہ بتا رہی ہیں کہ نیویارک نے اور امریکہ کی کئی دوسری ریاستوں نے سمندری طوفان ”سینڈی“ کو کس طرح جھیلا ہے۔ البتہ ہماری نظر سو سال پہلے کے نیویارک پر ہے۔ ٹرائی اینگل فیکٹری کی خاتون کارکنوں نے آتش زدگی سے کئی مہینے پہلے اپنے حالات کار اور اجرت میں بہتری کے لئے ایک احتجاجی مظاہرہ بھی کیا تھا اور یوں ان کے لئے ہمدردی کا جذبہ بھی پایا جاتا تھا۔ فیکٹری ایک دس منزلہ عمارت کی تین بالائی منزلوں پر مشتمل تھی۔ اس کے کارکنوں کی تعداد تقریباً پانچ سو تھی۔ جب آگ لگی تو اس پر قابو تو 20 منٹ میں پا لیا گیا لیکن آگ کی صورت میں بچ نکلنے کی سہولتیں ناکافی تھیں۔ بہرحال اس آگ اور اس میں ضائع ہونے والی اتنی جانوں کے المیے نے نیویارک شہر کو ہلا کر رکھ دیا۔
پہلے رنج و الم کی ایک لہر اٹھی پھر غیظ و غضب کے جذبات نمودار ہوئے۔ ایک اجتماعی احساس جرم بھی نمایاں تھا۔ حادثے کے تیسرے دن شہریوں کی ایک ایمرجنسی کمیٹی قائم ہوگئی۔ سوگوار خاندانوں کی مدد کے لئے عطیات جمع کئے گئے۔ صف اول کے اداکاروں، گلوکاروں اور موسیقاروں نے امدادی پروگرام منعقد کئے۔ ایک ہفتے بعد نیویارک کے اوپیرا ہاؤس میں ایک یادگاری جلسہ منعقد ہوا جس میں پورے معاشرے کے طبقوں کی نمائندگی تھی۔ مذہبی رہنما بھی تھے اور ایک پادری نے کہا کہ اس حادثے کی ذمہ داری خدا پر نہیں ڈالی جاسکتی۔ یہ انسان کی اپنی کوتاہیوں کا نتیجہ ہے۔ جس بات نے مجھے واقعی حیران کردیا وہ یہ تھی کہ ایک پریڈ ہوئی جسے جنازے کا جلوس بھی کہہ سکتے ہیں، کوئی چار لاکھ افراد نے اس کو دیکھا اور ان میں ایک تہائی جلوس میں شامل ہوئے۔ اس وقت نیویارک کی آبادی کوئی چالیس اور پچاس لاکھ کے درمیان تھی۔ یہی نہیں… قوانین میں کئی تبدیلیاں ہوئیں۔ عورتوں کے حقوق کی جدوجہد میں بھی اضافہ ہوا۔ یاد رہے کہ امریکہ میں عورتوں کے لئے ووٹ کا حق 1920ء میں آئین میں انیسویں ترمیم کے ذریعے منظور ہوا۔ کہنے کی بات یہ ہے کہ ٹرائی اینگل، آگ نے امریکی تاریخ اور معاشرتی تجربہ پر اثر ڈالا، جیسا کہ پروفیسر نعیم کہتے ہیں، آپ ذرا ”گوگل“ تو کریں اس واقعہ کو… ایک لاکھ سے زیادہ حوالے ملیں گے۔ اس واقعے کے بارے میں اب تک اتنی کتابیں لکھی گئی ہیں اور فلمیں بنی ہیں اور ٹیلی وژن پر خصوصی پروگرام کئے گئے ہیں کہ ان کی مجموعی تعداد کئی سو بنتی ہے۔

”ٹرائی اینگل“ آگ کے جائزے کے بعد پروفیسر نعیم نے شکاگو میں بیٹھ کر انٹرنیٹ پر پاکستانی اخبارات کا مطالعہ کیا تاکہ وہ یہ اندازہ کرسکیں کہ بلدیہ کی آگ کا ہمارے معاشرے پر کیا اثر پڑا۔ ان کا کہنا ہے کہ بلدیہ کی آگ اور اس کے ساتھ ہی لاہور میں جوتوں کی ایک فیکٹری کی آگ نے تین چار دن تو سرخیوں میں نمایاں مقام حاصل کیا اور پھر دوسرے حادثات و واقعات نے فوقیت حاصل کرلی۔ کسی دیوانے نے اسلام دشمنی میں چودہ منٹ کا ایک وڈیو بنایا اور پورا ملک ہل گیا۔ ہمارے میڈیا کو ایک نیا موضوع مل گیا۔ پروفیسر نعیم کا خیال ہے کہ انگریزی اخباروں نے بلدیہ کی آگ پر زیادہ توجہ دی جبکہ اردو اخبارات زیادہ پڑھے جاتے ہیں۔ انہوں نے کالم بھی پڑھے اور اردو کے ایک کالم نگار کی اس نکتہ دانی کا بھی ذکر کیا کہ بلدیہ کی آگ اور سیلاب سے ہونے والی تباہی دراصل ”اللہ کی پکڑ“ تھی۔ ان تحریروں کا بھی انہوں نے حوالے دیا جن میں اس نقطہ نظر کی نفی تھی۔
اس موازنے اور تجزیئے پر شاید یہ تبصرہ کیا جائے کہ پاکستان میں تو ہمیں آئے دن کسی بڑے المیے کا سامنا ہے۔ ایک دریا کے پار اتریں تو ایک اور دریا سامنے ہوتا ہے لیکن میرا سوال وہی ہے، جو ہم پر گزرتی ہے اور جن مسائل اور مصائب کا ہم سامنا کرتے ہیں، ان کا ہماری سوچ اور ہمارے عمل پر کتنا اثر پڑتا ہے؟ خدا نہ کرے کہ اس سوال کا جواب ہمیں یہ ملے کہ نہ ہم سوچتے ہیں، نہ عمل کرتے ہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں