آپ آف لائن ہیں
بدھ15؍ محرم الحرام1440ھ 26؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
”میری مشکل یہ ہے کہ جنرل صاحب کہ مجھے اپنے لوگوں کو جواب دینا ہے“۔… ” مگر ہماری مشکل یہ ہے محترمہ ہم سایوں کا تعاقب نہیں کیا کرتے یہ مکالمہ 1990ء میں سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو اور فوج کے سابق سربراہ مرزا اسلم بیگ کے درمیان، فوج اور حکومت کے درمیان تناؤ اور غالباً سندھ کی صورتحال کے پس منظر میں ہوا تھا۔ اس سال بے نظیر بھٹو کی حکومت کی سابق صدر غلام اسحاق خان کے ہاتھوں برطرفی اورکابل پر ناکام فوجی چڑھائی کے واقعات قریب قریب ایک ہی عرصے کے دوران پیش آئے۔
غالباً اسی بنا پر ایک سینئر جنرل نے اپنے ایک ساتھی جنرل سے یہ کہا تھا ”ہمیں کابل میں کامیابی نہیں ہوئی تو کیا ہوا، سندھ تو ہمارے ہاتھ میں ہے“۔ اس کا اشارہ جنرل بیگ کی طرف سے بے نظیر حکومت کے دوران 1990ء میں پکا قلعہ پولیس آپریشن میں مداخلت کر کے آپریشن رکوانے کی طرف تھا۔ اس سے قبل نومبر 1989ء میں یہ جنرل اسلم بیگ ہی تھے جن پر الزام لگایا جاتا ہے کہ انہوں نے بے نظیر بھٹو کیخلاف قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد کے دوران مبینہ طور پر ان سے اتحاد توڑتی سندھ کی ایک شہری جماعت کے اراکین کو اس وقت کی حزب مخالف کے حوالے کیا تھا۔ یہ باتیں اب عالم میں آشکار ہیں۔
گزشتہ رات جب جنرل بیگ ایک ٹی وی چینل کے ٹاک شو میں حکومتی اور سیاسی معاملات میں بطور آرمی چیف اپنی

مداخلت کی تردید کر رہے تھے تو میں نے سوچا کہ رسی جل گئی مگر بل نہیں گیا والی کہاوت سیاسی جنرلوں کے لئے ہی بنی تھی۔ 1990ء کی دہائی والے سیاسی جنرلوں کی گردنوں میں فقط سریے لگے ہوتے تھے اور ان میں سے کئی کے ذاتی بنگلوں میں لوہا بھی لاہور کے ایک سیاسی خاندان کا استعمال ہوا تھا۔ جنرل بیگ جنہیں سپریم کورٹ نے اصغر خان کی 16سال قبل دائر کی گئی درخواست پر فیصلے میں ملک کے کئی سیاستدانوں اور خاص طور سندھ سے تعلق رکھنے والوں میں کروڑوں روپے تقسیم کرنے کا مرتکب قرار دے دیا ہے۔ اس وقت کے صدر غلام اسحاق خان (جو بے نظیر بھٹو کے مشروط حکومت سنبھالنے پر انہیں ورثے میں ملے تھے) ملٹری انٹیلی جنس کے سابق ڈائریکٹر جنرل اسد درانی کو بھی عدالت نے اس معاملے میں شریک قرار دیا ہے۔ نیز یہ بھی کہ 1990ء کے عام انتخابات میں یہ تینوں حضرات دھاندلی کے مرتکب ہوئے تھے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ حضرات یہ سب کچھ ذاتی حیثیت میں کر رہے تھے؟
لیکن بلیوں کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا؟ غلام اسحاق خان کی قبر کا ٹرائل تو ہونے سے رہا !
غلام اسحاق خان کے داماد نے جام صادق علی کے زیرسایہ کراچی سی آئی اے پولیس کے ذریعے جو کھیل کھیلا وہ اب داخل دفتر جنرل شفیق رپورٹ کا حصہ ہے اور عرفان اللہ مروت بلاول ہاؤس کے بلاناغہ ایک ملاقاتی رہنے کے بعد پی ایم ایل نواز شریف کا حصہ بن چکے ہیں۔
سندھی میں کہتے ہیں کہ اگر ملک میں کوئی رانو رانی ہوتے (یعنی انصاف کی حکمرانی ہوتی) تو پھر حمود الرحمن کمیشن رپورٹ کے مطابق میں 1971ء میں سابق مشرقی پاکستان کے جیسور میں، نرم گفتار واٹر للی پھولوں اور کتابوں سے شغف رکھنے والے تب کے کرنل بیگ جن کیلئے کمیشن کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے مبینہ طور پرکم سے کم جرم کیا یعنی صرف بنگالیوں کے گھروں کو اپنے ہاتھوں سے آگ لگائی تھی سمیت فوج کی ٹاپ براس تک کیسے پہنچے؟
کس نے جانا تھا کہ 17/اگست 1988ء کو خیرپور ٹامیوالی میں( موقع پر موجود سابق میجر ایچ آغا کے تحریر کردہ ایک بلاگ کے مطابق) ملتان سے وضو کیلئے لائے گئے نت نئے رنگوں کے خوشنما لوٹوں اور بابا آئس کریم نواں شہر سے خیرپور ٹامیوالی لائی گئی انواع و اقسام کی آئس کریم کے دور کے بیچ سارا وقت جنرل اختر عبدالرحمن اورجنرل افضال کے ساتھ محو گفتگو جنرل ضیاء کی طرف سے نظر انداز کئے جانے والے مرزا اسلم بیگ اپنے پوما ہیلی کاپٹر میں ضیاء الحق کے سی ون ۔30 سے اٹھتے دھوئیں کا منظر فضا میں ہی چکر کاٹ کر دیکھیں گے اور پھر ملک کے سیاہ و سفید کے اصل مالک بن بیٹھیں گے اور ہم نے سمجھا کہ مارشل لاء ختم ہوگیا۔ بے نظیر بھٹو نے سندھ میں دادو، مورو، لاکھاٹ، خیرپور ناتھن شاہ، سکرنڈ، طیب تھہیم، کھیسانو موری، احمد خان برہمانی میں صرف انتخابات منعقد کرانے اور ملک میں جمہوریت کی بحالی کے مطالبے میں اپنے سینوں پر گولیاں کھانے والوں اور پنجاب، خیبرپختونخوا اور بلوچستان سے شاہی قلعوں اور عقوبت گاہوں میں تشدد سہنے اور پھانسیاں پانے والوں کو نہیں جنرل اسلم بیگ کو تمغہ جمہوریت عطا کیا۔ لیکن چونکہ وہ بقول ان کے سایوں کے تعاقب کے عادی نہیں تھے اور انہوں نے جمہوریت کا تعاقب جاری رکھا۔
جنرل ضیاء الحق کی ساڑھے گیارہ سالہ آمریت کے خاتمے پر ہونے والے جماعتی بنیاد پر عام انتخابات کے نتیجے میں 2دسمبر 1988ء کو بینظیر بھٹو کے وزیراعظم کا حلف اٹھانے سے لیکر ان کی حکومت کی بیس ماہ کے اندر 6/اگست 1990ء کو صدر غلام اسحاق خان کے ہاتھوں برطرفی تک ان کی کراچی میں رہائش گاہ بلاول ہاؤس کے لان پر جو شخص اسی عرصے میں بطور مالی ملازمت کرتا رہا تھا وہ دراصل مالی نہیں انٹیلی جنس ایجنسی کا اعلیٰ عہدیدار تھا ۔یہ عقدہ تب کھلا جب حکومت کی برطرفی پر بلاول ہاؤس کے ایک دیرینہ ملازم کو گرفتار کیا گیا اور اس سے تفتیش کرنے والا وہی( بلاول ہاؤس کا سابق مالی) آئی ایس آئی کا کرنل تھا۔
آصف علی زرداری ، بے نظیر پر مارک سیگل کی بنائی ہوئی دستاویزی فلم ”دی بھٹو“ میں دعویٰ کرتے ہیں کہ کچھ جنرلوں نے انہیں آکر کہا تھا کہ بے نظیر بھٹو کی جگہ وہ وزیراعظم بن جائیں کیونکہ وہ (جنرل) ایک خاتون کو سیلوٹ کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں!!
یہ اور بات ہے کہ بے نظیر کی جمہوریت کیلئے آمریت کے خلاف جنگ میں ان کے ساتھ تو وہی ہوا نہ کہ” دکھ جھیلیں بی فاختہ اور کوے انڈے کھائیں“۔ سید قائم علی شاہ اور دیگر دوچارکے شاید ہی موجودہ حکومت میں کوئی ایسا ہو جو کسی نہ کسی طرح ضیاء اور مشرف کی فوجی آمریت کا حصہ نہ رہا ہو۔ یہ بات بھی اب بہت سوں کو پتہ ہے کہ مردان توپ و تفنگ کو یہ بھی کہتے سنا گیا تھا کہ وہ وزارت عظمیٰ ایک خاتون کو کیسے دے سکتے ہیں کہ جس کے بیٹھنے سے پاکستان کے اقتدار اعلیٰ کی کرسی نجس ہوجائے۔
بینظیر بھٹو چیختی چلاتی رہیں کہ 1990ء میں ان کی حکومت کی برطرفی کے پیچھے آئی ایس آئی اور ملٹری انٹیلی جنس کا ہاتھ تھا حتیٰ کہ وہ اپنی زندگی کہ آخری دن بھی یہی مدعا لئے ہوئے تھی کہ 2008ء کے انتخابات میں بھی ان کے خلاف پرویز مشرف اور ان کے تحت آئی ایس آئی نے دھاندلی کی ٹھانی ہوئی ہے لیکن انہیں نہ صرف ان کی زندگی میں بلکہ موت کے بعد بھی انصاف نہیں مل سکا۔
ایک نہتی لڑکی تھی اور پیشی تھی درباروں کی۔ قتل ہوجانے کے بعد بھی اسے اپنی حکومت میں انصاف نہ مل سکا بلکہ عام تاثر یہی بنا کہ بے نظیر بھٹو کو ایجنسیوں کی ایما پر قتل کیا گیا یا کم ازکم ان ایجنسیوں نے مجرمانہ غفلت تو ضرور برتی۔ یو این رپورٹ بھی کم از کم یہی کہتی ہے۔
یہ بھی تاریخ کا کتنا نہ ستم ظریفانہ مذاق ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو جنہوں نے آئی ایس آئی میں اپنے دوستوں یا دشمنوں کی جاسوسی نیٹ ورک کھولنے کا حکم دیا تھا انہیں خبر نہیں تھی کہ اس کی شکار ان کی بیٹی اور پارٹی ہوگی۔
1990ء کے انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کا اعتراف تو سابق نگران وزیراعظم غلام مصطفی جتوئی اپنی زندگی میں ہی کر گئے تھے اور اس کے بعد کئی سال تک وہ زندہ رہے لیکن کسی بھی اعلیٰ عدالت نے انہیں ایسے اعتراف پر طلب نہیں کیا۔
غلام اسحاق خان کے دنوں میں ایوان صدر میں جنرل رفاقت کے زیر نگرانی انتخابی سیل بھی اب ایک کھلا راز ہے جسے بے نظیر بھٹو نے چرائے ہوئے انتخابات قرار دیا تھا۔
کاش کوئی عظیم ناول نگار بازنطینی اسلام آباد و راولپنڈی کی سازشوں پر ایک شاہکار ناول تخلیق کرتا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں