آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ7؍ ربیع الاوّل 1440ھ 16؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

میں جس جگہ ڈوبتی ہوئی شام کا منظر دیکھ رہاتھا ۔ وہیں صدیوں قبل چنگیز خان اوراس کاسپہ سالار طرطائی کھڑے تھے ۔طرطائی کہہ رہا تھا۔’’خوارزم شاہ نے یہاں سےدریا ئے سندھ عبور کیا ہے ۔دیکھئے یہاں دریا کا پیٹ کسی ندی سے بھی کم ہوجاتا ہے۔یہاں سےعربی گھوڑے چھلانگ لگاکر دوسرے کنارے تک پہنچ جاتے ہیں ۔‘‘چنگیز خان کچھ دیر دریا کی دوسری سمت دور تک پھیلی ہوئی میانوالی کی لق و دق وادی کو دیکھتا رہا ۔پھر ڈوبتے ہوئے سورج سے آنکھ ملائی اور واپسی کےلئے اپنا گھوڑا موڑ لیا۔
میں وہیں کھڑا تھا سامنے میلوں تک پھیلی پیر پہائی کی بنجر وادی تھی ۔نیچے دریا کے کنارے بنے ہوئے چھوٹے چھوٹے پختہ مکانات پر میری آنکھیں مرتکز تھیں ۔ابھی میں انہی کے پاس سے گزر کر اِس بلندی تک پہنچا تھا ۔یہ کالونی اس وقت بنائی گئی تھی جب وہاںکالا باغ ڈیم بنایا جارہا تھا ۔اب توجنرل ضیاالحق اور جنرل پرویز مشرف کو کوستی ہوئی اُس کالونی کے گھروں میں صرف آسیب آباد ہیں ۔صد حیف کہ یہ وہ جگہ ہےجہاں اگر کالا باغ ڈیم بنا دیا جاتاتو ایک ارب یونٹ بجلی پیدا ہوتی جس کی قیمت ایک روپیہ فی یونٹ سے بھی کم پڑتی ۔
مجھے فیصل کریم کنڈی نے بتایا کہ ’’ہم ڈیرہ اسماعیل سے پشاور بذریعہ ہیلی کاپٹر جارہے تھے موسم کی خرابی کی وجہ سے روٹ بدلنا پڑ گیا۔ہم کالاباغ کے اوپر

سےگزر کر اسلام آباد جانے لگے تو میں نے اپنے ہمسفروں کو وہ جگہ دکھائی جہاں کالاباغ ڈیم بننا تھا انہوں نے حیرت سے ہیلی کاپٹر میں کھڑے ہوکراس جگہ کو دیکھا اور کہا کہ ڈیم کےلئے اس سے مناسب کوئی جگہ نہیں ہوسکتی ۔یہ کالا باغ ڈیم کے مخالفین تھے مگر انہیں معلوم نہیں کہ جہاں ڈیم بننا ہے وہ جگہ کونسی ہے ۔میرےہمسفروں میں اُس وقت کے وزیر اعلیٰ پختون خوا امیر خان ہوتی ،اُن کے وزیر اطلاعات سید افتخار شاہ ،بم دھماکے میں شہید ہوجانے والے بشیر احمد بلور ،عبدالمجید خان اور تنویر حسین ملک شامل تھے ۔‘‘
بیچارے امیر خان ہوتی چاہتے بھی توکیا کر سکتے تھے۔ ولی خان نے کہا تھاکہ یہ ڈیم پختونوں کی لاشوں پر ہی سن سکتا ہے۔ جنرل ضیا الحق کے دور میں ڈاکٹر شیر افگن کی یہ پیشکش ٹھکرادی گئی تھی کہ پختون ضلع میانوالی صوبہ سرحد میں شامل کرلیں مگر کالاباغ ڈیم بننےدیں ۔باچاخان اور ولی خان بنیادی طور پر پاکستان کے حق میں نہیں تھے۔ قیام پاکستان سے پہلے متحدہ ہندوستان کے حامی تھے ۔آزاد پختونستان اُن کا خواب تھا ۔جمعہ خان صوفی کی کتاب ’’فریبِ ناتمام‘‘ میں اُس کی تمام تفصیل موجود ہے۔ اب یہ جو ’’پختون لینڈ ‘‘کے نام سے تحریک شروع کی گئی ہے ۔یہ اُسی کا تسلسل ہے۔
سندھیوں کو علیحدگی پسندوں نے کہا’’ اس ڈیم کے بننے سے سندھ کا پانی کم ہوجائے گا ‘‘۔ یہ جھوٹ اتنا زیادہ بولا گیا کہ جب محترمہ بے نظیر بھٹو نے اِس کا نام انڈس ڈیم رکھ کر اسے بنوانے کی کوشش کی تو وہ بھی ناکام بنا دی گئی۔جب پانی کی تقسیم پر صوبوں کا حصہ طے شدہ ہے توسندھ کا پانی کیسے کم ہوسکتا ہے ۔ سندھ کا پانی صرف ایک صورت میں کم ہو سکتا ہے کہ کالاباغ ڈیم سے کوئی نہر نکال لی جائے ۔اہل سندھ کو اس بات کا یقین دلاناکہ نہر نہیں نکالی جائے گی ،اس مسئلےکےحل کا ایک اورآسان نسخہ بھی ہے کہ کالاباغ ڈیم کے تمام انتظامی معاملات صوبہ سندھ اور صوبہ پختون خوا کے حوالے کردئیے جائیں ۔ڈیم کی تعمیر کاکام بھی یہی دو صوبے کریں ۔ ڈیم کا انچارج بھی ہمیشہ کوئی سندھی یا کوئی پختون ہی ہواور یہ باتیں آئین میں درج کردی جائیں پھرتو انہیں یہ خدشہ نہیں ہوگاکہ ڈیم سے پنجاب نے کوئی نہر تو نہیں نکال لی ۔اس کی بجلی پر بھی پہلا حق اوراس کی آمدنی بھی انہی دو صوبوں کو دے دی جائے۔مگر ڈیم بنایا جائے ۔معاشی طور پر توانا پاکستان کا تصور اس کے بغیر ممکن نہیں ۔یہ ڈیم تو پاکستان پر قدوسِ ذوالجلال کا ایک انعامِ عظیم ہے ۔یہ ایک بنا بنایا ڈیم ہے مگر افسوس کہ اس کے متعلق ایسی ایسی افواہیں پھیلائی گئیں کہ لوگوں نے اِس کاذکر کرنا چھوڑدیا ۔کہا گیا کہ اس ڈیم کی تعمیر سے نوشہرہ شہرڈوب جائے گا ۔ جہاں یہ ڈیم بننا ہے وہاں سے نوشہرہ ایک سو دس کلو میٹر کے فاصلے پرہے اور بلندی پر ہے۔اگر کوئی بہت بڑا سیلاب بھی آ جائے تو پھربھی نوشہرہ اِس کے پانی سے ساٹھ فٹ اونچاہوگا ۔چلومان لیا کہ نوشہرہ کو کچھ نہ کچھ نقصان ہوگا تووہ نقصان پورا بھی کیا جا سکتا ہے ۔جہاں منگلا ڈیم بنا ہوا ہے ۔ وہاں پہلے میر پور شہر ہوا کرتا تھا۔ ڈیم کےلئے پورا شہر اٹھا کر دوسری طرف آباد کرلیا گیا تھا کیونکہ یہ ڈیم پاکستانی معیشت کےلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں ۔
میرے خیال میںوہ لوگ جنہوں نے کالاباغ ڈیم کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا کیا ہےانہیں اپنے منطقی انجام تک پہنچانا ضروری ہوگیا ہے۔اگر وہ اپنے جھوٹ پر بضد ہیں تو انہیں اُن کے جھوٹ کی سزا دی جائے ۔بیرونی ممالک سے انجینئرز بلوا کربھٹکے ہوئے لوگوں کو سمجھایا جائے کہ یہ ڈیم آپ کی زندگی ہے موت نہیں اور اگر کسی کا کوئی حقیقی اعتراض ہے تو وہ دور کیا جائے ۔یہ کوئی بات نہیں کہ کسی نے یونہی شوشا چھوڑ دیا کہ کالاباغ ڈیم سے پختون خوا ڈوب جائے گا۔سندھ بنجر ہوجائے گا ۔ایسے شوشے چھوڑ نے والے یقیناََملک دشمن عناصر ہی ہوسکتے ہیں ۔کوئی سچا اور کھرا پاکستانی اس ڈیم کی مخالفت نہیں کر سکتا ۔پیپلز پارٹی میں خورشیدشاہ کے علاوہ کئی سمجھدار لوگ بھی موجود ہیں ۔آئیں اور میز پر بیٹھیں ۔انجینئرز کو ساتھ بٹھائیں اور بات کریں کہ کالاباغ ڈیم سندھ کا پانی کیسے روک لے گا ۔کہیں ایک جھیل بن جانے سے کیا دریا کی روانی میں فرق آجاتا ہے ۔ہرگز نہیں بلکہ کالا باغ ڈیم بننے کے بعد دریا کی روانی اور بڑھ جائے گی کیونکہ جب پانی تیزی سے گرتا ہے اور پھر وہ بہت دور تک جاتا ہے ۔کالا باغ ڈیم پاکستان میں وقت کی رفتار تیز کردےگا ۔نئے موسموں کی نوید لائے گا۔بصارتیں رنگوں کے گیت سنیں گی ۔سماعتیں پرندوں کےسنگیتوں سے بھر جائیں گی ۔آوازوں میں زندگی لوٹ آئے گی ۔خواب تعبیر سے ہمکنار ہونگے ۔پاکستان زندہ منظروں کی البم بن جائے گا۔جہاں راکھ کے بگولے اڑتے ہیں وہاں بہاریں رقص کریں گی ۔چٹانوں کی روئیدگی پھیلے گی ۔پھول اگیں گے ۔تاریک گلیوں میں لائٹس جلنے لگیں گی ۔اسکولوں ،کالجوں اور یونیورسٹیوں کے رکے ہوئےسیلنگ فین پوری رفتار سے گھومنے لگیں گے ۔آسماں سے فرشتے ہماری مدد کو قطار اندرقطار اتر آئیں گے ۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں