آپ آف لائن ہیں
اتوار 12؍محرم الحرام 1440ھ 23؍ ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مسلم لیگ (ن) نے پنجاب اسمبلی کی کمیٹی میں ڈاکٹر حسن عسکری کو نگراں وزیراعلیٰ پنجاب لگانے کے معاملے پر سنگین تحفظات کا اظہار کیا تھا لیکن الیکشن کمیشن آف پاکستان کو ان سے آگاہ نہیں کیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پنجاب اسمبلی سیکریٹریٹ نے الیکشن کمیشن کو صرف چار نام بھجوائے تھے جن میں ایڈمرل (ر) محمد ذکاء اللہ اور جسٹس (ر) محمد سائر علی کے نام سابق وزیراعلیٰ پنجاب جبکہ پروفیسر حسن عسکری رضوی اور ایاز امیر کے نام اپوزیشن لیڈر محمود الرشید نے تجویز کیے تھے۔ 6؍ جون کو ہونے والے کمیٹی اجلاس کے اہم نکات الیکشن کمیشن کو نہیں بھجوائے گئے جس کی وجہ سے کمیشن اس پوزیشن میں نہیں تھا کہ اسے نواز لیگ کے عسکری کیخلاف تحفظات پتہ چلتے۔ جب الیکشن کمیشن آف پاکستان نے عسکری کا نام بطور نگراں وزیراعلیٰ پنجاب منتخب کر لیا تو نواز لیگ کے ترجمان نے کھل کر اس تقرر پر اعتراض کیا اور اس بنیاد پر مسترد کیا کہ عسکری متعصب ہیں۔ معلوم ہوا ہے کہ کمیٹی کی سطح پر میاں محمود الرشید نے ایاز امیر کا نام واپس لے لیا تھا لیکن حسن عسکری کو نگراں وزیراعلیٰ لگانے پر اصرار کیا۔ ذرائع کے مطابق، رانا ثناء اللہ نے کمیٹی کو بتایا کہ ایاز امیر واضح طور پر مسلم لیگ (ن) کی حکومت سے متعصب ہیں اور انہوں نے اس وقت کی حکومت کیخلاف کئی آرٹیکل شائع

کیے تھے۔ اس کے علاوہ، رانا نے الزام عائد کیا کہ ان کا ماضی بھی مجرمانہ ہے۔ اس پر میاں محمود الرشید نے ایاز امیر کا نام واپس لے لیا اور کمیٹی سے درخواست کی کہ پروفیسر حسن عسکری کا نام قبول کر لیا جائے۔ اس کے جواب میں، رانا ثنا ء اللہ نے کہا کہ ڈاکٹر حسن عسکری رضوی مسلم لیگ (ن) سے متعصب ہیں اور انہوں نے ٹی وی ٹاک شوز میں نواز لیگ مخالف آراء کا اظہار بھی کیا ہے۔ رانا کا کہنا تھا کہ عسکری کے پاس کوئی سیاسی تجربہ بھی نہیں اور یہ بھی کہ انہوں نے کبھی کسی سرکاری عہدے پر کام نہیں کیا۔ رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ عسکری اپنے تجزیوں میں مارشل لاء کی بھی حمایت کر چکے ہیں۔ نواز لیگ کے ایک اور رکن اور پنجاب حکومت کے سابق ترجمان ملک محمد احمد خان نے بھی رانا کی رائے کی توثیق کی کہ عسکری غیر جانبدار شخص نہیں۔ تاہم، سابق رکن قومی اسمبلی محمد سبطین خان نے کہا کہ نگراں وزیراعلیٰ کو صرف 45؍ روز کیلئے مقرر کیا جا رہا ہے، اسلئے اپوزیشن کے نامزد کردہ شخص کو نگراں وزیراعلیٰ مقرر کیا جائے۔ ابتدائی طور پر اپنے تجویز کردہ نام پیش کرتے ہوئے محمود الرشید نے ایاز اور عسکری کے پروفائل کو پڑھ کر بتایا کہ دونوں کی ساکھ غیر جانبدار شخص کی ہے اور ان کے پاس اپنے اپنے متعلقہ شعبے کا وسیع تجربہ ہے۔ انہوں نے ایڈمرل (ر) ذکاء اللہ کی تجویز مسترد کر دی اور کہا کہ ان کے پاس سول امور کا کوئی تجربہ نہیں۔ سابق وزیراعلیٰ کے تجویز کردہ ناموں کے حوالے سے تقریباً کوئی منفی تبصرہ نہیں کیا گیا۔ تاہم، الیکشن کمیشن نے متفقہ طور پر عسکری کے حق میں فیصلہ دیا۔ الیکشن کمیشن کے فیصلے کے متعلق خیال کیا جاتا ہے کہ یہ سیاسی نوعیت کا ہے کیونکہ الیکشن کمیشن میں بھی کچھ لوگوں کو توقع نہیں تھی کہ اس وقت کی حکومت کی جانب سے پیش کردہ غیر متنازع اور غیر جانبدار امیدواروں کے مقابلے میں حسن عسکری کا نام منظور ہو جائے گا۔ اس بات پر بحث کی جا رہی ہے کہ شاید کمیشن کے ذہن میں یہ ہوگا کہ تحریک انصاف نے 2013ء کے انتخابات کے بعد مبینہ دھاندلی کیخلاف چیف الیکشن کمشنر اور کمیشن کے تمام ارکان سمیت ہر ایک کیخلاف احتجاج کیا تھا اور شاید اس کی الزامات کی سیاست کی وجہ سے ہی پی ٹی آئی کے تجویز کردہ امیدوار کو مقرر کر دیا گیا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں