آپ آف لائن ہیں
بدھ8؍ محرم الحرام1440ھ 19؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
میں نے آزادی او ر برصغیر کی تقسیم کے وقت کا پاکستان دیکھا تو نہیں لیکن ان دنوں ہونے والے خون خرابے ،، لوٹ مار اور سختیوں کے بارے میں اپنے بزرگوں سے سن ضرور رکھا ہے۔ میرے آباؤاجداد کا تعلق گو خیبرپختونخوا سے تھا لیکن کاروباری سلسلے میں بہت عرصہ تک ان کی رہائش دہلی کے علاقے کھڑکی تفضل حسین دریا جنگ میں رہی۔ جب پاکستان بنا تو بہت سے دیگر مسلمان خاندانوں کی طرح ہمارا خاندان بھی پاکستان آ بسا۔ میں پاکستان بننے کے بعد پیدا ہونے والی پہلی نسل کا حصہ ہوں، وہ نسل کہ جسے پاکستان کے خواب کی تعبیر کرنا تھی، وہ خواب جس کی خاطر لاکھوں افراد نے اپنی جانیں قربان کیں اور لاکھوں افراد نے اپنی کئی نسلوں کا بنایا ہوا مال ومتاع چھوڑ کرخالی ہاتھ پاکستان آنے کو ترجیح دی۔ لیکن آج جب میں اپنے اردگرد کے پاکستان کو دیکھتا ہوں تو ایسا لگتا ہے کہ شاید میری نسل اور اس کے بعد آنے والی تمام نسلیں اس خواب کی تعبیر تو درکنار، کوئی نیا خواب دیکھنے کی بھی جرأت نہ کرسکیں۔
پاکستان بننے کے ساتھ ہی حق حاصل کرنے کے نام پر، یہاں لوٹ مار کی ایک ایسی آندھی چلی جو کچھ ہی سالوں میں اپنے ساتھ سب کچھ لے اڑی۔ شروع کے دنوں میں تو جیسے ہندوؤں اور سکھوں کی جانب سے چھوڑی جانے والی پراپرٹی کو اپنی ملکیت قرار دلوانا ہی اس ملک کو بنانے کا مقصد لگنے لگا۔

اگر ان دنوں کے پراپرٹی کلیمز کا بغور جائزہ لیا جائے تو ایسا محسوس ہونے لگتا ہے کہ جیسے قائد اعظم اور ان کے رفقاء کی جانب سے برصغیر کے مسلمانوں کی حالت زار اور ہندوؤں کے مقابلے میں کم اثرورسوخ کے بارے میں شاید مبالغہ سے کام لیا گیا ہو کیونکہ جتنی پراپرٹی کے دعوے جمع کروائے گئے ان سے ایسا لگتا تھا کہ دعویدارسماج میں اقتصادی طور پر بہت مضبوط مقام کے حامل تھے۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت کرنے والے مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد نے خود کو متحدہ انڈیا کے بڑے جاگیردار اور تاجر ڈکلیئر کر کے بڑی بڑی اراضی ، فیکٹریا ں ، مکانات الاٹ کروا لئے۔ یہ وہ وقت تھا کہ جب قائد اعظم اس دنیا سے جا چکے تھے اور پاکستان کے خواب کی تعبیر کرنے کا بیڑا ایسے افراد کے ہاتھوں میں تھا جن کے سامنے آج کے حکمران تو بونے لگتے ہیں لیکن شاید و ہ ا س وقت کی نزاکت کو نہ سمجھ پائے۔ اس لوٹ مار کو روکنا تو شاید کسی کے بس میں نہ ہوا، لیکن اس کے بعد پاکستان کا مطلب ہمیشہ کے لئے تبدیل ہو کر رہ گیا۔ پاکستان کی تاریخ میں کرپشن، اقربا پروری اور دھوکے بازی کی جڑ یہی دور ہے۔ لیکن کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی…جب الاٹ منٹس کے نام پر لوٹ مار ختم ہوگئی اور نودولتیوں کے ایک نئے طبقے نے جنم لیا تو پھر دورآیا صنعتی کرپشن کا۔ اس دور کے معمارتھے ایوب خان، جنہوں نے پاکستان بنانے کے لئے جدوجہد کرنے والے قائد کے ساتھیوں سے جان چھڑا کر پاکستان کے رہے سہے خواب کو بھی ملیامیٹ کردیا۔ زمینوں کی کرپشن کے دور میں تو شاید ہزاروں نے فائد اٹھایا ، لیکن صنعتی کرپشن کا پھل کھانے والے صرف چند خاندان تھے۔ ان چند خاندانوں نے ایوب دور میں لائسنس اور پرمٹس کی بناء پر، ترقی کی جو منازل طے کیں وہ کرپشن کے بغیر نا ممکن تھیں۔ شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ” ایوب خان کے پاکستان “کے خواب کی تعبیر اب یہی استحصالی طبقہ کر سکتا تھا۔
گوکرپشن کا اژدھام ہمیشہ سے ہی پاکستان کے ساتھ رہا لیکن شاید ایوب خان دور تک اس کے اثرات معاشرے پر اتنے زیادہ سنگین نہ تھے جتنے اس دورکے بعد ہوئے۔ ایوب کے بعد یحییٰ خان نے کرپشن کے خاتمہ کے لئے صرف سول سرونٹس کے خلاف کارروائی کی اور اس دور میں تقریبا 303سرکاری ملازمین کے خلاف مقدمات بنائے گئے ،ان ملازمین میں کچھ ایسے بھی تھے کہ جن کی آل اولاد آج خود کو پاکستان سے کرپشن ختم کرنے کی واحد ضامن سمجھتی ہے۔ لیکن یحییٰ خان زیادہ دیر تک اقتدار میں نہ رہا اور پھر ذوالفقار علی بھٹو کا دور آیا۔ بھٹو کے فلسفے سے لوگ لاکھ اختلاف رکھ سکتے ہیں لیکن یہ بات بھٹو کے دشمن بھی تسلیم کرتے ہیں کہ انہوں نے کرپشن کو کسی صورت بھی اچھا نہیں سمجھا اور شاید یہی وجہ ہے کہ کرپٹ اور طاقتور افراد کے خلاف ہی پیپلز پارٹی کو زیادہ کامیابی ملی۔ بھٹو دور کے اختتام پر بھٹو کے خلاف دیگر جتنے بھی الزامات لگے، ان میں کوئی بھی کرپشن سے متعلق نہیں تھا۔
بھٹو کے دور کے بعد شاید ہمارے ملک میں لوٹ مار کی دوسری اننگز کا صحیح معنوں میں آغاز ہوا۔ ضیاء الحق نے پیپلز پارٹی کے بانی راہنما کو پھانسی دینے کے بعد پیپلز پارٹی کی سیاسی زندگی کے خاتمے کے لئے ایسے افراد کا استعمال کیا کہ جو شاید کسی صورت پاکستان کے اعلیٰ ایوانوں میں جانے کے قابل نہ تھے ۔یہ وہ لوگ تھے کہ جنہیں صرف پیپلز پارٹی کی مخالفت کے لئے کھڑا کیا گیا اور اسی مخالفت کو نبھانے کیلئے ان افراد نے دولت اور طاقت کابے دریغ استعمال کیا۔ پھر یہ افراد جو دولت لگاتے تھے، اس کا کم از کم دوگنا واپس وصول کرنے کو بھی تیار رہتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ضیاء دور میں سیاست کا آغاز کرنے والے بیشتر سیاستدانوں کے دامن کرپشن کے داغوں سے بھرے پڑے ہیں۔
ضیاء دور میں لگائے گئے کرپشن کے پودے کو پیپلز پارٹی اور اس کے مخالفین دونوں نے ہی خوب سینچا۔ پیپلز پارٹی خود کو اس ضمن میں مظلوم ظاہر کرتی رہی، اس کے خیال میں کرپشن دراصل ان کے مخالفین کا مقابلہ کرنے کے لئے اس کی ضرورت تھی۔ دونوں پارٹیوں کے ادوار کرپشن کی داستانوں سے بھرے پڑے ہیں لیکن پھر بھی نوے کی دہائی تک کرپشن کو معاشرے میں اتنا زیادہ فروغ نہیں مل پایا ۔اس کی وجہ شاید ہمارے معاشرے کی روایات تھیں ، جن میں پیسے والے سے ڈرا تو جاتا تھا لیکن اس کی عزت نہیں کی جاتی تھی۔
لیکن یہ دور بھی زیادہ دیر تک نہیں رہا، جنرل مشرف گو کہ ماضی کے دوسرے جرنیل حکمرانوں کی طرح، ملک سے کرپشن کا خاتمہ کرنے کا نعرے بلند کرتے ہوئے آئے تھے مگر ان کا دور اس ملک میں کرپشن کو انسٹی ٹیوشنلائز کرنے کا موجب بنا۔ مشرف کا دور وہ دور تھا کہ جب ہمارے معاشرے میں کرپٹ افراد کو برا سمجھنے کی بجائے ان کی تعریف اور تعظیم کی جانے لگی۔ رفتہ رفتہ سارے معاشرے میں کرپشن کو برا نہ سمجھا جانے لگا۔ پہلے پہل تو صرف طاقتور ملک کو لوٹنے پر لگے ہوئے تھے لیکن مشرف دور نے پہلی بار ہر کسی کو کھل کر لوٹ مار کرنے کی آزادی دے دی اور پھر جو ہوا وہ تاریخ کا حصہ ہے۔ آج پاکستان میں ہزاروں نہیں لاکھوں افراد ایسے ہیں کہ جو اپنے پاس موجود دولت اور اثاثوں کے بارے میں کوئی جائزذریعہ آمدن نہیں دکھا پائیں گے۔ مجھے دکھ تو یہ ہے کہ آزادی کے بعد سے شروع کی گئی لوٹ مار بڑھتی بڑھتی اس مقام پر آگئی ہے کہ اب اس کا ختم ہونا مشکل ہی نہیں ناممکن لگنے لگا ہے۔ کیونکہ معاشرہ میں دوغلا پن اس حد تک سرایت کر چکا ہے کہ اس کا مقابلہ کرنا شاید ممکن نہ ہو۔ ہم حرام کی کمائی سے حلال گوشت ڈھونڈتے ہیں۔ غیر قانونی ذرائع سے کمائی گئی دولت سے اللہ کو خوش کرنے کیلئے غریبوں کے مراکز اور دستر خوان چلتے ہیں۔کرپشن اب صرف امیر اور طاقتور تک محدود نہیں ، تندور پر روٹی بیچنے والا کم آٹے کی روٹی بیچ کر کرپشن کرتا ہے، پرچون کی دوکان پر ملاوٹ کا سامان بیچنے والا اپنی طرز کا کرپٹ ہے۔ کرپشن جب معاشرے کے ہر طبقے میں سرایت کر جائے اور دوسروں کی طرف انگلی اٹھا کر کرپشن کا الزام لگانے والے جب خود کرپٹ ہوں تو بہتری کی کوئی امید رکھنا محض خوش فہمی ہو گی۔ لیکن یہ سب کچھ چلتا رہا تو کیا ریاست چل سکے گی؟ مجھے عوام سے اس کا جواب چاہیے!

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں