آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ18؍ربیع الاوّل1441ھ 16؍ نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

غلام حیدر وائیں اور مسلم لیگ کی قیادت !

کیا آپ جانتے ہیں غلام حیدر وائیں کون تھے؟ مجھے یقین ہے کہ میڈیا سے وابستہ لوگوں کو تو ان کا نام اور کام یاد ہو گا لیکن عوام خصوصاً نوجوانوں کی اکثریت کو ان کے بارے میں کچھ علم نہیں ہو گا۔ وائیں صاحب سچے پاکستانی تھے اور مسلم لیگ ان کی تمام دلچسپیوں کا محور تھی۔ ایک درویش صفت انسان جو پنجاب کا وزیر اعلیٰ بننے کے بعد بھی میاں چنوں کے ایک محلے کے ایک چھوٹے سے مکان میں رہتا تھا اور جس نے تمام عمر اپنی اس فاقہ مستی پر فخر کیا اور سیاست میں ان کا مقابلہ علاقے کے جاگیرداروں اور وڈیروں سے تھا جو لینڈ کروزرز پر گھومتے پھرتے تھے اور ان کا ”حریف“ غلام حیدر وائیں کبھی کسی سائیکل کے کیریئر اور کبھی کسی موٹر سائیکل کی پچھلی سیٹ پر بیٹھ کر کوچے کوچے اور گاؤں گاؤں مسلم لیگ کا پیغام لوگوں تک پہنچانے میں لگا رہتا تھا۔ قائد اعظم اور پاکستان کا یہ عاشق جب پنجاب کا چیف منسٹر بنا تو چیف منسٹر ہاؤس کے ایک ویران سے کمرے میں، میں نے اسے چارپائی پر بیٹھے دیکھا۔ اس نے دھوتی باندھی ہوئی تھی، سامنے حقہ دھرا تھا اور چارپائی کے نیچے اگالدان رکھا ہوا تھا۔ گھر میں ان کا رہن سہن ایسا ہی تھا لیکن جب وہ بطور وزیر اعلیٰ گھر سے نکلتے تو پورے پروٹوکول کے ساتھ نکلتے۔ میں نے ایک دن ان سے اس تضاد کی وجہ پوچھی تو کہا ”میرا مقابلہ جس طبقے سے ہے،

انہیں یہ پہلو دکھانا بھی ضروری ہے“۔ ان کی دیانت اور امانت کا یہ عالم تھا کہ ایک دفعہ انہوں نے کسی تنظیمی سلسلے میں ملک سے باہر جانا تھا، میاں شہباز شریف نے انہیں ذاتی جیب سے غالباً دس ہزار ڈالر دیئے اور کہا ”آپ یہ رکھیں تاکہ آپ کو پردیس میں کوئی پرابلم نہ ہو“ وائیں صاحب نے ڈالر رکھ لئے، جب غیرملکی دورے سے واپس پاکستان لوٹے تو انہوں نے جیب سے دس ہزار ڈالر نکالے اور شہباز شریف کے سپرد کرتے ہوئے کہا ”یہ آپ واپس لے لیں، ان کی ضرورت نہیں پڑی تھی!“
یہ وہی غلام حیدر وائیں تھے جنہوں نے والٹن میں ”باب پاکستان“ کے نام سے ایک یادگاری دروازہ تعمیر کیا جہاں 1947ء میں لٹ پٹ کر پاکستان میں داخل ہونے والوں نے پڑاؤ ڈالا تھا۔ انہی غلام حیدر وائیں نے پنجاب کے ضرورت مند ادیبوں اور دانشوروں کے لئے ایک فنڈز قائم کیا جس سے آج تک ہزارہا ادیب مستفید ہو چکے ہیں اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے اور انہی غلام حیدر وائیں نے لاہور کی سب سے مہنگی جگہ پر پریس کلب تعمیر کرایا۔ میں ان کے دوسرے کاموں کی بجائے ان دو کاموں کا ذکر محض اس لئے کر رہا ہوں کہ صحافی اور ادیب دونوں نے اپنے اس محسن کو کبھی یاد نہیں کیا۔ سب سے زیادہ شکایت مسلم لیگ کی موجودہ قیادت سے ہے۔ ان کا ایک قیمتی اثاثہ ظالموں نے شہید کر دیا (اسے شہید ہونا ہی تھا) مگر کبھی ان کی برسی نہیں منائی گئی، کبھی بھول کر بھی ان کا نام زبان پر نہیں لایا گیا، ایسا کیوں ہے؟ کیا اس گناہ کی تلافی نہیں کی جا سکتی ؟
مجھے لگتا ہے میری یہ صدا، صدابصحرا ثابت ہو گی تاہم ذیل میں ، میں احسان شاہد کا ایک خط درج کر رہا ہوں جو انہوں نے میرے نام لکھا ہے۔ احسان شاہدکا تعلق وائیں صاحب کے شہر میاں چنوں ہی سے ہے اور وہ کئی برسوں سے لندن میں مقیم ہیں۔ اس خط میں جن افراد سے گلہ کیا گیا ہے امید ہے وہ اس کے تلخ لہجے کو نظر انداز کر کے اپنے اس گناہ کا کفارہ ادا کرنے کی کوشش کریں گے جو برسہا برس سے ان سے سرزد ہو رہا ہے۔ خط ملاحظہ فرمائیں :
محترم عطاء الحق قاسمی صاحب
السلام علیکم ! میرے دل کی آہ شاید آپ محسوس کر سکیں۔ مجھے تو کوئی اور جانتا نہیں وائیں صاحب کی برسی کا دن مجھے ہر سال ملول کر جاتا ہے۔ اس سال بھی آیا اور اداسیاں میرے صحن میں بکھیر کر چلا گیا مگر کتنے دکھ سے کہنا پڑ رہا ہے، وہ جو مسلم لیگ کو مقدس ماں کہتے ہیں اور اس ماں کے تقدس کے دعویدار ہیں، اس کے کسی بڑے لیڈر کو اتنی توفیق نہیں ہوئی کہ اس موجودہ مسلم لیگ کو زندگی دینے والے، اسے مقدس ماں بنانے والے درویش منش انسان غلام حیدر وائیں شہید کی برسی کے موقع پر ایک روایتی پیغام ہی جاری کر دیتے۔ رائٹرز ویلفیئر فنڈ کی وساطت سے کروڑوں روپے کی امداد لینے والے اور کروڑوں روپے سے شملہ پہاڑی پر لاہور پریس کلب بنانے والے صحافی بھائی اپنے اس محسن اور بانی کو بھول گئے۔ مسلم لیگ (ن) مسلم لیگ (ق) اور مسلم لیگ دیگر گروپس کے موجودہ عہدیداران نے سیاست کا پہلا سبق غلام حیدر وائیں سے لیا۔ وائیں صاحب نے انہیں تقریریں لکھ کر بھی دیں اور تقریریں کرنے کا سلیقہ بھی سکھایا مگر سب کے سب لگتا ہے اپنے عظیم محسن کو بھول گئے ہیں۔ وہ قومیں زندہ قومیں نہیں ہوتیں جو اپنے محسنوں کو بھول جاتی ہیں۔
غلام حیدر وائیں نے پنجاب بھر میں پرائمری مسلم لیگ کے ایک کامیاب طریقہ کار کو متعارف کروایا۔ مسلم لیگ کی مکمل تنظیم سازی کی، تمام مسلم لیگی گروپس کو ایک پلٹ فارم پر اکٹھا کیا، غریبوں کے لئے سات مرلہ اور تین مرلہ مکانوں کی اسکیموں کو فروغ دیا، تحریک پاکستان کے کارکنوں کیلئے گولڈ میڈل ایوارڈ کا اجراء کیا۔ لاہور ”والٹن“ مہاجروں کی آمد کی یادگار کے طور پر باب پاکستان کا اہم منصوبہ شروع کرایا، بھل صفائی کے نام پر پنجاب بھر کی نہروں کی صفائی کا سالانہ سلسلہ شروع کرایا، ہندو پاک مشاعروں کی سرپرستی کی۔ ان کا گھر، ان کا دفتر مسلم لیگ کی رکنیت سازی کے فارموں سے بھرا رہتا تھا۔ کتنے افسوس کی بات ہے کہ مسلم لیگ کے لئے دن رات ایک کر دینے والے اس شخص کی برسی کو تمام مسلم لیگی جماعتوں نے اسی طرح فراموش کر دیا ہے جیسے اس کے قتل کو بھلا دیا گیا تھا۔
غلام حیدر وائیں کی شہادت سے لے کر آج تک پنجاب میں مسلم لیگ کی ہی حکومت رہی۔ کبھی پرویز الٰہی کی صورت میں تو کبھی شہباز شریف کی شکل میں! مگر یہ مسلم لیگی اس شخص کی قبر کی طرف دیکھتے بھی نہیں جو انہیں یہاں تک لایا ہے۔ مسلم لیگ کو مقدس ماں کہنے والوں کو اس نعرے کا خالق یاد بھی آ جائے تو شاید ذہن سے جھٹک دیتے ہیں کہ اب وہ قبر میں پڑا ہے۔ اب اس سے ہمیں کیا لینا دینا ہے؟ غلام حیدر وائیں کی روح بھی سوچتی ہو گی کہ یہ وہی لوگ ہیں جو مجھے میاں چنوں کا سر سیّد کہا کرتے تھے۔ یہ وہی ہیں جو دیوار پر لکھا کرتے تھے ”جب تک سورج چاند رہے گا، وائیں تیرا نام رہے گا“ ۔ مسلم لیگ والو! سورج بھی موجود ہے اور چاند بھی چمک رہا ہے مگر تم غلام حیدر وائیں کو بھول گئے ہو۔ تمہارے دل مردہ ہو چکے ہیں یا پہلے ہی نہیں دھڑکتے تھے یونہی بس پتھر کے جسموں میں سانس کی مشین لگا رکھی ہے۔
غلام حیدر وائیں وزیر اعلیٰ پنجاب رہے، وزیر صنعت رہے، قومی اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف رہے، چاہتے تو اتنا کچھ بنا لیتے جتنا کچھ بنانے کی روایت پاکستانی سیاست میں نظر آتی ہے۔ مگر وہ کیا عظیم انسان تھا کہ دو گز کی قبر کے سوا دنیا میں کہیں اس کا کوئی ذاتی گھر نہیں۔ اس نے کوئی بنک بیلنس، کوئی جائیداد نہیں چھوڑی۔ غلام حیدر وائیں کی اپنی کوئی اولاد نہ تھی مگر اس نے مسلم لیگ کی نئی نسل کو اپنی اولاد کی طرح پروان چڑھایا۔ اس نے انہی مسلم لیگیوں کو اپنا بھائی بھی سمجھا اور اپنا بیٹا بھی جانا۔ غلام حیدر وائیں اب وہاں ہے جہاں سب نے جانا ہے۔ کسی وقت ہماری باری بھی آنی ہے اور غلام حیدر وائیں ہمارا استقبال کریں گے۔ ہم کس منہ سے ان کا سامنا کریں گے؟
میاں صاحب ! آپ سے میری آخری درخواست ہے کہ غلام حیدر وائیں کے شہر کو اس کے گھر کو اور اس کی قبر کو عزت دیں اور خود میاں چنوں سے الیکشن لڑ کر اور ان کے تمام قومی اور ملی قرض اتار کر اپنا فرض پورا کریں۔
نواز شریف قرض اتارو اور آخرت سنوارو ۔
خیر اندیش، آپ کا اپنا
احسان شاہد…لندن