آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر 5؍صفر المظفّر 1440ھ 15؍اکتوبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بجلی کے شدید بحران پر قابو پانے کے دعوے تو بہت کئے جاتے ہیں مگر ان دعوئوں میں کتنی صداقت ہے اس کا اندازہ ملک کے اکثر علاقوں میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاج سے لگایا جاسکتا ہے۔ بجلی کے بحران نے ہر شعبہ ہائے زندگی کو متاثر کیاہے ۔ اس صورتحال میں یہ خبر یقیناً اطمینان کا باعث ہے کہ دریائے سندھ میں پانی کی آمد میں اضافے اور دستیابی کے بعد تربیلا چوتھے توسیعی منصوبے کے پہلے یونٹ نے 8جون سے بجلی کی پیداوار شروع کردی ہے۔ اس منصوبے کے مکمل ہونے کے بعد تربیلا ہائیڈرل پاور اسٹیشن کی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت میں 470میگاواٹ کا اضافہ ہوگا۔ یہ یونٹ ریلائی ایبلٹی دور سے گزر رہا ہے اور اس وقت نیشنل گرڈ کو اوسطاً 335میگاواٹ بجلی فراہم کررہا ہے مذکورہ یونٹ کو بتدریج اس کی پوری پیداواری صلاحیت 470میگاواٹ پر لے جایا جارہا ہے۔ اس منصوبے کا پہلا یونٹ اپریل میں مکمل ہوا تھا مگر دریائے سندھ میں پانی کے بہائو میں کمی اور عدم دستیابی کے باعث اس یونٹ سے بجلی کی پیداوار شروع نہیں کی جاسکی تھی۔واضح رہے کہ تربیلا چوتھے توسیعی منصوبے کے دوسرے یونٹ کی بھی ایبل ویٹ کمیشنگ شروع ہوچکی ہے یہ یونٹ بھی جولائی کے پہلے ہفتہ میں ریلائی ابیلٹی کے مرحلے میں داخل ہوجائے گا۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ تربیلا کے چوتھے توسیعی منصوبے کے تحت تربیلا

ڈیم کی سرنگ نمبر 4پر بجلی پیدا کرنے کے لئے 3یونٹ نصب کئے گئے ہیں اور ہر یونٹ کے 470میگاواٹ بجلی فراہم کرے گا یعنی 1410میگا واٹ بجلی سسٹم میں داخل کی جائے گی۔ تربیلا چوتھا توسیعی منصوبہ کم لاگت میں بجلی پیدا کرنے کی حکمت عملی کا حصہ ہے، ہمارے خیال میں بجلی پیدا کرنے کے تمام منصوبوں کی کامیابی کا انحصار بجلی کے ترسیلی نظام پر ہے جب تک اس نظام کو جدید خطوط پر استوار نہیں کیا جائے گا بجلی کی مطلوبہ ضروریات پوری کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ اس منصوبے کی تکمیل کے بعد ملک میں بجلی کی ضروریات کو پورا کرنے اور قومی نظام میں پن بجلی کا تناسب بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں