آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار 11؍صفر المظفّر 1440ھ 21؍اکتوبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں مختلف مقدمات کی سماعتکے دوران موبائل فون کے بیلنس ری چارج کارڈ پر ٹیکس کٹوتی معطل کرتے ہوئے چیئر مین ایف بی آر کو عدالتی حکم پر عملدرآمد کیلئے دو دن کی مہلت دیدی۔انہوں نے ریمارکس دئیے کہ آج کل تو ریڑھی والا بھی موبائل فون استعمال کرتا ہے ، وہ ٹیکس نیٹ میں کیسے آ گیا، لوگوں کو لوٹا جا رہا ہے۔ ٹیکس اس سے لیں جس کے فون کا استعمال مقررہ حد سے زیادہ ہو۔ موبائل فون عصر حاضر میں گویا ایک بنیادی ضرورت بن چکا ہے اور بلا مبالغہ پاکستان کے کروڑوں شہری موبائل فون استعمال کر رہے ہیں۔ جب یہ پاکستان میں متعارف ہوا تو ایک اسٹیٹس سمبل تھا کہ اس کے قیمتی اور مہنگے استعمال کے باوجود صرف طبقہ امراء ہی اس کو استعمال کرنے کا متحمل تھا۔ مبصرین کا کہنا تھا کہ چند کمپنیوں نے اس کاروبار سے مختصر عرصے میں اتنا پیسہ کمایا کہ شاید ایسٹ انڈیا کمپنی نے مجموعی طور پر اتنا کمایا ہو۔ خیر یہ تو قصہ پارینہ ہے، موبائل فون کمپنیوں میں مقابلہ بازی کی فضا پیدا ہوئی تو موبائل فون متوسط طبقے کی پہنچ میں آ گئے۔ موبائل فون کارڈ ری چارجنگ پر ٹیکس کٹوتی کوئی نیا مسئلہ نہیں، قریباً سات سال قبل ٹیکس کٹوتی میں یکدم بلا تخصیص ہوشربا اضافہ کر دیا گیا ۔ عوام چیخے چلائے

لیکن شنوائی نہ ہوئی۔ 100روپے کا بیلنس لوڈ کرنے پر 64.38روپے کا بیلنس آتا ہے جو بقول جسٹس اعجاز الاحسن غیر قانونی ہے اور اتنا ٹیکس کاٹنے کا اختیار نہ تو کمپنیوں کو ہے نہ ایف بی آر کو ۔ چیف جسٹس کے بقول اس امتیازی سلوک پر عدلیہ کو مداخلت کا مکمل اختیار ہے۔ چیف جسٹس کا مذکورہ اقدام لائق صد تحسین ہے کہ یہ ٹیکس سماج کے پسماندہ ترین طبقے سے متعلق عوام سے بھی جبراً وصول کیا جارہا ہے۔عدالت ِ عظمیٰ نے اس ضمن میں حکم جاری کر دیا ہے اب یہ اداروں کا کام ہے کہ اس حکم پر من و عن عملدرآمد کرائیں۔
اداریہ پر ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں00923004647998

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں