آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ4؍ربیع الثانی 1440ھ 12؍دسمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ترک صدررجب طیب ایردوان نے آسٹریا کے چانسلر سیباستیان کرس کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ آگ سے مت کھیلے ’’صلیب‘‘ اور ’’ہلال‘‘ کے مابین جنگ کو ہوامت دے۔ اگر انہوں نے صلیبی جنگ کو بھڑکانے کی کوشش کی تو اس کا جواب ہمارے پاس بھی موجود ہے۔ ہم بھی جوابی کارروائی کا حق رکھتے ہیں۔ صدر ایردوان نے ان خیالات کا اظہار اس وقت کیا جب گزشتہ ہفتے آسٹریا کے چانسلر سیباستیان کرس کی حکومت نے آسٹریا بھر میں موجود ایسے تمام اماموں کو ملک بدر کرنے اور مساجد کو بند کرنے کا حکم جاری کیا جن کو غیر ممالک سے مالی معاونت حاصل ہو رہی تھی۔ تادم تحریر آسٹرین حکومت نے سات مساجد کو سربمہر کردیا ہے اور ان مساجد میں عبادت پر پابندی عائدکردی گئی ہے جبکہ درجنوں اماموں کو ملک بدر کرنے کے احکامات بھی جاری کردئیے گئے ہیں۔ یہ فیصلہ نسل پرست دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے چانسلر سیباستیان کُرس کی حکومت نے اپنے قیام کے فوراً بعد ہی کرلیا تھا بلکہ یہ کہا جائے تو زیادہ بہتر ہوگا سیباستیان کُرس نے اپنے ملک میں مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی آبادی سے چھٹکارا پانے، انتہا پسندی کو ختم کرنے اور قومیت پسندی کو ہوا دیتے ہوئے ہی ووٹ حاصل کیے تھے اور اب وہ عوام سے کئے گئے وعدوں کو پورا کرنا چاہتے ہیں۔ ان کی حکومت نے اس سلسلے میں مسلمانوں کے

اعدادو شمار اکھٹے کرنے کے علاوہ ملک بھر میں موجود مساجد، مدرسوں اور بچوں کے کنڈر گارٹن تک کا سروے کروایا تھا۔ ویانا یونیورسٹی کے ترک نژاد آسٹرین شہری عدنان اسلان کی زیر نگرانی تیار کی جانے والی رپورٹ میں صرف ویانا شہر ہی میں ڈیڑھ سو کے لگ بھگ کنڈر گارٹن کی نشاندہی کی گئی تھی جہاں دو سے چھ برس تک کی عمر کے قریب دس ہزار بچے زیر تعلیم تھےجہاں ان کو بڑے مذہبی اور سخت ماحول میں مذہبی تعلیم فراہم کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ ان بچوں کے خاندان والے بھی آسٹرین خاندانوں سے کسی قسم کا میل جول رکھنے کی بجائے آپس میں مسلمانوں ہی کے ساتھ روابط قائم رکھنے کو ترجیح دیتے ہیں جس سےآسٹرین سوسائٹی مختلف گروہوں میں تقسیم ہو کر رہ گئی ہے۔ چانسلر کُرس کی حکومت نے ملک میں انتہاپسندی کے خاتمے کے لیے اپنے وزیر داخلہ ہیر برٹ کیکل کو اس سلسلے میں اقدامات اٹھانے کے احکامات جاری کیے جس پر کیکل نے ایسی تمام مساجد کی تالہ بندی کرنے اور ان مساجد کے اماموں کو ملک بندر کرنے کا فیصلہ2015میں بنائے جانے والے قانون کے تحت کیا ہے۔ مساجد کی تالہ بندی اور اماموں کی ملک بدری کا فیصلہ مذہبی معاملات کی نگرانی کرنے والے ادارے کے تفتیشی عمل کے بعد کیا گیا ہے۔ آسٹریا کے اس ادارے نے اس تفتیش کا آغاز رواں برس اُ ن تصاویر کی اشاعت کے بعد کیا تھا جن میں ترکی کے محکمہ مذہبی امور کی زیر نگرانی مساجد میں پہلی عالمی جنگ میں معرکہ ہائے چناق قلعے (گیلی پولی) کو ڈرامائی شکل میں پیش کیا گیا تھا۔ ترکی کا معرکہ ہائے چناق قلعے دراصل ترکی کی تاریخ کا رخ تبدیل کرنے والے معرکے کی حیثیت رکھتا ہے جس میں اتاترک کی قیادت میں ترک فوج نے اتحادی قوتوں کو شکست دیتےہوئے یورپی ممالک کےترکی پر قبضے کے خواب چکنا چور کردئیے تھے۔ علاوہ ازیں یورپی ممالک جن میں آسٹریا، اٹلی جرمنی جیسے ممالک شامل ہیں آج بھی سلطنتِ عثمانیہ کی عظیم الشان فوج اور ترکوں کی عظمت کا خوف اپنے دل میں محسوس کرتے ہیں اور اسی وجہ سے آج بھی جرمنی، آسٹریا اوریورپ کے دیگر ممالک جہاں بائیں بازو کی قومیت پسند جماعتیں برسراقتدار ہیں ترکی کے خوف کو ہوا دیتے ہوئے ترکی کی یورپی یونین کی مستقل رکنیت کی مخالفت کرتی چلی آرہی ہیں اور ترکی کو مختلف حیلوں، بہانوں اور شرائط کے ذریعے یورپی یونین کی رکنیت دینے سے گریز کررہی ہیں۔
یورپی یونین کے یہ رکن ممالک دراصل ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان کے خلاف بھی سخت رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں کیونکہ وہ ایردوان کے بھی ترکی کو سلطنتِ عثمانیہ جیسی عظمت دلوانے کا عزم رکھنے سے پوری طرح آگاہ ہیں۔ اس وقت یورپ میں چھ ملین کے لگ بھگ ترک آباد ہیں جن میں سب سے زیادہ جرمنی، آسٹریا اور ارد گرد کے یورپی ممالک میں ہیں۔ ترک تارکینِ وطن کو اپنے ملک میں ووٹ ڈالنے کا حق حاصل ہونے کی وجہ سےترک سیاستدان یورپ میں آباد ترک ووٹروں سے ووٹ حاصل کرنے کے لیےوہاںاپنی سیاسی مہم جاری رکھنے کے خواہاں ہیں جن میں صدر ایردوان پیش پیش ہیں لیکن یورپی ممالک کے رہنماؤں کے رویے کے باعث صدر ایردوان یورپ کےکسی بھی ملک میں اپنی سیاسی مہم جاری نہیں رکھ سکے جبکہ یہی ممالک ترکی کی دہشت گرد تنظیم ’’پی کے کے‘‘ کو ہر طرح کی سہولتیں فراہم کرتے ہوئے اسے اور اس کی حامی جماعتوں کو ریلی نکالنے اور پروپیگنڈہ کرنے کی اجازت دیتےہیں۔ ترک صدر ایردوان نے یورپی ممالک کی ان دوغلی پالیسیوں کو بھی اپنی انتخابی مہم کا حصہ بنا رکھا ہے اور آسٹریا کی بائیں بازو کی قومیت پسند جماعت کے رہنما اور چانسلر سیباستیان کُرس کے مساجد کی تالہ بندی اور اماموں کی ملک بدری پر اپنے شدید ردِ عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ آسٹریا حکومت کا فیصلہ ’’صلیب‘‘ اور ’’ہلال‘‘ کے درمیان جنگ چھیڑ نے کے مترادف اور آسٹرین چانسلر کو اس جنگ کو ہوا دینے سے گریز کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے برملا کہا کہ اگر آسٹریا نے اس قسم کی کارروائیوں کو جاری رکھا تو پھر ترکی بھی آسٹریا کے خلاف جوابی کارروائی کرنے سے گریز نہیں کرےگا۔ استنبول میں ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ترک صدر کا کہنا تھا کہ ان کو خدشہ ہے کہ آسٹریا کے چانسلر کا یہ فیصلہ دنیا کو ’’صلیب‘‘ اور ’’ہلال‘‘ کے مابین جنگ کی طرف جھونک دے گا۔ انہوں نے کہا کہ تمام یورپی ممالک کے رہنماؤں کو عقل سلیم سے کام لینے اور ترکی کے بارے میں متعصبانہ رویہ اختیار کرنے سے باز آنے رہنے کی ضرورت ہے۔ صدر ایردوان اس بات کا برملا اظہار کرچکے ہیں کہ ترکی کو یورپ کی نہیں بلکہ یورپ کو ترکی کی ضرورت ہے۔ اس صورتِ حال کو دیکھتے ہوئے ہی آسٹریا اور دیگر مغربی ممالک کو درست فیصلہ کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے یورپی یونین کے رہنماؤں کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ترکی کو ایک اسلامی ملک ہونے کے ناتے یورپی یونین کے ’’ کرسچین کلب‘‘ کی رکنیت نہیں دی جا رہی ہے تو ہمیں بتا دیا جائے تاکہ ترکی اپنا روڈ میپ خود وضع کرسکے۔ اس سلسلے میں یورپی یونین کے رہنماؤں کو صاف گو ہونے کی ضرورت ہے۔ ترکی کے وزیراعظم بن علی یلدرم نے بھی آسڑیا کی سات مساجد کوسربمہر کرنے کے فیصلے کے خلاف شدید رد عمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ’’یہ حرکت اسلام دشمنی‘‘ کی عکاس ہے۔
ایک ٹیلی وژن چینل پر بیان دیتے ہوئے وزیراعظم بن علی یلدرم نے کہا کہ یہ فیصلہ عالمی قوانین، یورپی یونین کی اقدار اور اقلیتی حقوق کے منافی ہےجو یورپی یونین کے رکن ملک کو کسی طرح زیب نہیں دیتا ہے۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں