آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار 11؍صفر المظفّر 1440ھ 21؍اکتوبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
سزا ہوگئی تو الیکشن  میں نواز شریف کابڑا نقصان ہوگا، احمد اویس

کراچی(جنگ نیوز)وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل کامران مرتضیٰ نے کہا ہے کہ نواز شریف انصاف نہ ہونے کا تاثر قائم کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں، اگر نواز شریف کے کیس میں چھ ہفتے دیدیئے جاتے تو کوئی حرج نہیں تھا۔ وہ جیو نیوز کے پروگرام ”کیپٹل ٹاک“ میں میزبان حامد میر سے گفتگو کررہے تھے۔ پروگرام میں ن لیگ کے رہنما بیرسٹر ظفر اللہ خان،سابق صدر اسلام آباد ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن عارف چوہدری اور سابق صدر لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن احمد اویس بھی شریک تھے۔بیرسٹر ظفر اللہ نے کہا کہ نواز شریف کو نیب ریفرنسز میں سنگل آؤٹ کیا جارہا ہے، دو سابق وزرائے اعظم کے کرپشن کیس بھی احتساب عدالت میں چل رہے ہیں مگر کسی کی پیشی نہیں ہوتی ،نواز شریف کو سزا دینے کا طے کرلیا گیا ہے تو ٹرائل کیے بغیر دیدی جائے، عمران خان سعودی عرب کی سرزمین پر ننگے پاؤں اترے ہیں تو اچھی بات ہے۔احمد اویس نے کہا کہ نواز شریف کو سزا ہوگئی تو ن لیگ کوا نتخابات میں بڑا نقصان ہوگا،پی ٹی آئی کو نگران حکومت پر تنقید کے بجائے انتخابی مہم پر توجہ دینی چاہئے، عمران

خان اپنی ذاتی حیثیت میں سعودی عرب جاکر اہم شخصیات سے ملتے ہیں تو کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہے۔عارف چوہدری نے کہا کہ نوازشریف کیخلاف ریفرنسز میں دو مہینے کی توسیع پر سب سے زیادہ احتجاج ن لیگ نے کیا تھا، شریف خاندان کیخلاف ریفرنسز کا الیکشن سے کوئی تعلق نہیں ہے، ایسے معاملات سے الیکشن میں تاخیر ہوتی نظر آرہی ہے ۔کامران مرتضیٰ نے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انصاف نہ صرف ہونا چاہئے بلکہ انصاف نظر بھی آنا چاہئے، نواز شریف انصاف نہ ہونے کا تاثر قائم کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں، اگر نواز شریف کے کیس میں چھ ہفتے دیدیئے جاتے تو کوئی حرج نہیں تھا، ن لیگ کا بیانیہ لوگوں میں مقبول ہوگیا ہے کہ نواز شریف کے کیس کا فیصلہ انتخابات سے پہلے ہوگیا تو الیکشن پر اثر پڑے گا، آج تک نیب کے کسی کیس کا فیصلہ چھ مہینے میں نہیں ہوسکا ہے، عدالت کی مجبوری نہیں کہ الیکشن سے پہلے نیب ریفرنسز کا فیصلہ دیا جائے، یہ کمال ہے کہ پرویز مشرف کو غیرحاضری میں سزا نہیں دی گئی بلکہ غیرحاضری میں بری بھی کردیا۔پی ٹی آئی کی نگران حکومت پر تنقیدسے متعلق کامران مرتضیٰ کا کہنا تھا کہ نگران حکومت کا کام الیکشن کرواکے عزت احترام سے گھر جانا ہے، نواز شریف کے اچھے کام تسلیم کرنا کوئی غلط بات نہیں ہے۔بیرسٹر ظفر اللہ خان نے کہا کہ نواز شریف کو نیب ریفرنسز میں سنگل آؤٹ کیا جارہا ہے، پرویز مشرف کے کیس میں پراسیکیوشن کے دلائل دو سال سے مکمل ہیں مگر اسے نہیں چلایا جارہا،سابق وزرائے اعظم یوسف رضا گیلانی اور راجہ پرویز مشرف کے کرپشن کیس بھی احتساب عدالت میں چل رہے ہیں مگر کسی کی پیشی نہیں ہوتی جبکہ نواز شریف سو پیشیاں بھگت چکے ہیں، واضح طور پر نظر آرہا ہے نواز شریف کے کیس میں فرق کیا جارہا ہے، نواز شریف کے وکلاء سحری تک بیٹھ کر کام کررہے ہوتے ہیں مگر کیس میں تاخیر نہیں ہونے دی، اب وکلاء سے ہفتے اور اتوار کو بھی بیٹھنے کا کہا جارہا ہے جبکہ باقی کیسوں میں ایسا نہیں ہورہا ، خواجہ حارث کہتے ہیں کہ اتنا کام کرنا ان کیلئے ممکن نہیں ہے۔ظفر اللہ خان کا کہنا تھا کہ کیس میں تاخیر ہم نہیں نیب کرنا چاہتا ہے، ہر چار ہفتے بعد کہتے ہیں ہمیں نیا مواد مل گیا ہے، اگر نواز شریف کو سزا دینے کا طے کرلیا گیا ہے تو ٹرائل کیے بغیر دیدی جائے، عمران خان سعودی عرب کی سرزمین پر ننگے پاؤ اترے ہیں تو اچھی بات ہے، نگراں حکومت نے سیاست میں نہ پڑ کر بہت اچھا کیا ہے، دنیا میں قرضے لینا ترقیاتی عمل کا حصہ ہوتا ہے۔احمد اویس نے کہا کہ نواز شریف اپنے ساتھ زیادتی کا تاثر دے رہے ہیں حالانکہ ان کے کیس میں کافی وقت دیا جاچکا ہے، شریف خاندان کیخلاف ریفرنسز میں صاف نظر آرہا ہے کیا ہونے والا ہے، نواز شریف نے نہ دفاع پیش کیا نہ سوالنامہ کے واضح جوابات دیئے، نیب ریفرنسز میں نواز شریف کو سزا ہوگئی تو ن لیگ کوا نتخابات میں بڑا نقصان ہوگا۔احمد اویس کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کو حکومت میں آتے ہی پرویز مشرف کیخلاف کیس چلانا چاہئے تھا، پرویز مشرف کیخلاف مقدمہ چلانے کی نیت کسی کی نہیں تھی، پرویز مشرف ن لیگی حکومت کے فیصلے کے تحت ملک سے باہر گئے۔پی ٹی آئی کو نگران حکومت پر تنقید کے بجائے انتخابی مہم پر توجہ دینی چاہئے، نگران حکومت کو کسی تنازع میں شامل نہیں کرنا چاہئے۔ احمد اویس نے کہا کہ عمران خان اپنی ذاتی حیثیت میں سعودی عرب جاکر اہم شخصیات سے ملتے ہیں تو کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہے، صاف و شفاف انتخابات اور کرپشن پر کسی قسم کا سمجھوتہ پاکستان کی ترقی کیلئے ضروری ہے، کرپشن کے کیسوں میں فوری فیصلے کیے جائیں کسی کو رعایت نہ دی جائے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں