آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار19؍ربیع الاوّل 1441ھ 17؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

شاعری کی ٹرین میں درمیانی درجہ نہیں ہوتا

ظفراقبال

شاعری کی ٹرین میں درمیانی درجہ نہیں ہوتا، فرسٹ کلاس ہوتی ہے یا تھرڈ کلاس۔ اگر کوئی نظم یا شعر درمیانے درجے کا ہو بھی تو تھرڈ کلاس ہی میں شمار ہو گا، جس کی گنجائش ہے نہ ضرورت۔ جو حضرات مجھے فرسٹ کلاس میں بیٹھا ہوا دیکھتے ہیں، وہ شاید نہیں جانتے کہ میرے پاس تو اس درجے کا ٹکٹ ہی نہیں ہے اور وقت کا ٹکٹ چیکر کسی لمحے بھی آکر مجھے اپنی اصلی جگہ پر بھیج سکتا ہے؟

میں اپنی باتوں کو اکثر دہراتا رہتا ہوں کہ دہرانے سے بات کے باقی رہ جانے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ حضرت علیؓ کا قول ہے کہ ’’جو باتیں اب تک کی گئی ہیں، اگر انہیں دہرایا نہ جاتا تو وہ کب کی ختم ہو چکی ہوتیں‘‘۔ چناں چہ میرے ’’اقوال‘‘ میں سے ایک یہ بھی ہے کہ جو شاعر خراب شعر کہنے سے ڈرتا ہے۔ وہ کبھی اچھا شعر نہیں کہہ سکتا کہ خراب شعر ہی سے اچھے شعر کا سراغ ملتا ہے اور گم راہی سے ہی کوئی نیا رستا نکالا جا سکتا ہے کہ ناک کی سیدھ میں چلنا آپ کو کہیں نہیں پہنچا سکتا، تجربہ کر کے دیکھ لیں؟

بات شروع ہوئی تھی درمیانے درجے کی اُس شاعری سے، جو دراصل تیسرے ہی درجے کی ہوتی ہے۔ ہم نے کبھی اس بات پر غور نہیں کیا کہ شاعری کی ٹرین میں تھرڈ کلاس ہی کے ڈبے کیوں پورم پور بھرے ہوئے ہوتے ہیں اور فرسٹ کلاس میں کوئی سواری خال خال ہی کیوں دکھائی دیتی ہے، جس کی وجہ پہلے بھی کہیں عرض کر چکا ہوں کہ جہاں تہاں موزوں گوئی ہی کو شاعری سمجھا اور باور کرایا جا رہا ہے۔ موزوں گوئی اور شاعری میں فرق کا سب سے زیادہ ادراک نقاد حضرات کو ہونا چاہئے، جو کہ شاید و باید ہی کہیں نظر آتا ہو۔

دراصل مسئلہ یہ ہے کہ موزوں ہونے کے ساتھ ساتھ شعرکو بننا بھی چاہئے۔ کسی زمانے میں رعایت ِ لفظی ہی شعر کا معیار ہوا کرتا تھا یا زیادہ سے زیادہ یہ کہ شعر میں کوئی نیا، یا نسبتاً نیا مضمون باندھ لینا ہی کافی سمجھا جاتا، حالاں کہ وہ کوئی اور چیز ہے، جو شعر کو شعر بناتی ہے، کیوں کہ بات مضمون سے بہت آگے نکل چکی ہے۔ ہر مضمون ویسے بھی اتنی بار دہرایا جا چکا ہے کہ اُس میں کوئی نیا پن باقی رہ ہی نہیں گیا۔ زیادہ سے زیادہ آپ کسی مضمون کا زاویہ ذرا سا تبدیل کر کے اُسے کسی حد تک نیا کر سکتے ہیں اور بس۔

نقّاد کو چوں کہ خود معلوم نہیں ہے کہ شعر موزوں گوئی سے گزر کر کب شعر کے مدار میں داخل ہوتا ہے۔ اس لئے وہ اپنے دیباچوں اور تحریروں میں تھرڈ کلاس شاعری ہی کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملائے رکھتے ہیں، جس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ قاری بھی باور کر لیتا ہے کہ یہی شاعری ہے، جس کی تعریف بڑا نقّاد کر رہا ہے، چناں چہ وہ قاری کو اس کی سطح سے اوپر اٹھنے ہی نہیں دیتا اور نہ ہی وہ شاعر سے بہتر شاعری کا متقاضی ہوتا ہے۔ اس لئے قاری آگے بڑھتا ہے، نہ شاعری ۔

اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ شاعری صرف میں کر رہا ہوں اور باقی سب گھاس کھود رہے ہیں، بلکہ اپنا سب سے بڑا نقّاد تو ماشاء ا للہ میں خود ہوں اور یہ شکایت اپنے آپ سے مجھے بھی ہے، یعنی:

شعر بنتا نہیں، آتا تو بتاتا آ کر

شاعری سے مرا پیچھا ہی چھڑاتا آ کر

اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ اچھا شعر کہا ہی نہیں جا رہا۔ یقیناً ایسا ہو بھی رہا ہے، لیکن محض آٹے میں نمک کے برابر۔ اسی لئے میں کہا کرتا ہوں کہ شاعروں کو شعر کی تنقید خود لکھنی چاہئے، تاکہ نقّاد کے اثرات سے وہ بھی بچ سکیں اور دوسرے بھی۔

میں غزل ہی کی بات کیا کرتا ہوں، چناں چہ عرض کروں گا کہ غزل میں ڈل، بے کیف اور بے تاثیر شعر کی گنجائش نہیں ہے۔ غزل کے ساتھ ایک ظلم یہ بھی ہوا کہ اس کے اصل موضوع یعنی عشق سے دُور کر کے اسے غیر محدود کرنے کی کوشش کی گئی، چناں چہ وہ ا پنے اصل سے دُور ہوتی چلی گئی۔ اس سے اُس کے اندر نئے نئے موضوعات تو آنے لگے، لیکن یہ تازگی سے خالی ہوتی چلی گئی۔ مقصد یہ نہیں کہ اسے عشق تک ہی محدود کر دیا جائے، البتہ اس کا خالص پن برقرار رکھنے کے لیے اگر عشق نہیں تو اس میں دل کی بات کہنے کا تلازمہ ضرور برقرار رہنا چاہئے، تاکہ شعر خوش مزہ ہو اور دل پر اثر بھی کر ے، کیوں کہ قاری کی ذہنی کیفیات اور ان کے نشیب و فراز سے کوئی دل چسپی نہیں رکھتا۔ ایسے معاملات کا اظہار آپ دوسری اصنافِ سخن میں کر سکتے ہیں، چناں چہ ہم یہ بات اکثر اوقات بھول جاتے ہیں کہ قاری، غزل سے لطف اندوز ہونا چاہتا ہے، کائنات کے اسرار و رموز، خدا اور بندے کی درمیانی پیچیدگیاں اور ایسی گتھیاں سلجھانے یا گیان دھیان حاصل کرنے کے لیے نہیں۔ بظاہر اس بات سے اتفاق کیا جانا مشکل ہے، لیکن اگر غزل کے زوال پر غور کیا جائے تو اس کی وجوہات میں یہ بات ضرور شامل نظر آئے گی۔ایک بار پھر عرض کروں گا، قاری کا غزل سے تقاضا ہی مختلف ہے اور اسے اپنے جذبات کی آسودگی کا اس میں امکان زیادہ نظر آتا ہے، لیکن غزل کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے، اُس نے اسے اپنی اصل حالت میں رہنے ہی نہیں دیا۔ قاری کو شاعری کے علم و فضل اور اُس کے اظہار سے کوئی دل چسپی نہیں ہوتی۔ وہ شعر پڑھتا ہے تو اس کے اپنے اندر جو شاعری موجود ہوتی ہے، وہ اس کے ساتھ اسے ملا کر لطف اندوز ہونا چاہتا ہے، لیکن ہمارے ہاں غزلوں کے مجموعے تو روز بہ روز شائع ہو رہے ہیں، لیکن یہ محض کتابوںمیںاضافہ ہوتا ہے۔ شاعری میں نہیں۔

قرطاسِ ادب سے مزید