آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل6؍ صفر المظفّر 1440ھ16؍اکتوبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

گزشتہ دنوںبچوں سے جبری مشقت کیخلاف عالمی دن منایاگیا جس کا بنیادی مقصد محنت کش بچوں کی تعلیمی اداروں تک رسائی ممکن بنانا ہے۔یہ ہمارا المیہ ہی ہے کہ سائنس و ترقی کے جدید دور میں بھی بچوں کو اس جبر سے نجات نہ دلائی جاسکی خصوصاًغریب ممالک کی صورتحال انتہائی توجہ طلب ہے کہ وہاں ہر چوتھا بچہ چائلڈ لیبر کا شکار ہے۔ چائلڈ لیبر کے حوالے سے مختلف ذرائع کے اعدادشمار کے مطابق دنیا میں 21کروڑ80لاکھ بجے محنت مزدوری میںمصروف ہیں ۔جن میں 15کروڑ 20 لاکھ اسکول جانے سے قاصر اور بچپن کے ان قیمتی ایام میں غیر محفوظ ماحول میں مشقت کررہے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ آئے روز مزدوری کے مقاما ت پر بچوں کے ساتھ تشدد اور جنسی استحصال کے کیسز منظر عام پر آتے رہتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق اس وقت 7کروڑ 30لاکھ بچے ایسے ماحول میں کام کررہے ہیں ۔ اس کے ساتھ یہ امر بھی تشویشناک ہے کہ دنیا کے کل چائلڈ لیبر کا نصف 5 سے11 سال کی عمر کے بچوں پر مشتمل ہے۔وطن عزیز میں بھی محنت کش بچوں کی حالت کسی طور تسلی بخش نہیں۔کمزورمعیشت اور بڑھتی ہوئی غربت کے سبب بچوں کی آبادی کا 30سے 40فیصد مزدوری کی چکی میں پس رہا ہے۔بتایا گیا ہے کہ ملک میں تین برسوں کے دوران اسٹریٹ چلڈرن کی تعداد12سے15لاکھ ہوگئی ہے، یہ بچے مختلف مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے ساتھ چائلڈ لیبر

کا بھی حصہ ہوتے ہیں ۔ اسی طرح سرجیکل انڈسٹری اورگھروں میں کام کرنے والے بچوں کو بنیادی حقوق سےبھی محروم رکھا جاتا ہے ۔دیکھا جائے توہمارے ہاں بچوں سے مشقت کیخلاف تمام ضروری قوانین موجود ہیں ۔اس کے باوجود چائلڈ لیبر میں اضافہ ہونا یقیناًغور طلب ہے ۔اس باب میں حکومتی سطح پرکمزور ملکی اقتصادیات بہتر بنانے کے ساتھ مفت تعلیم کی سہولت اور سماجی کفالت کا نظام وضع کرنے کی ضرورت ہے تاکہ بچوں کو مشقت کے اس جبر سے نجات دلائی جا سکے۔
اداریہ پر ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں00923004647998

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں