آپ آف لائن ہیں
جمعرات6؍شوال المکرم 1439ھ21؍جون 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

چیف جسٹس جناب ثاقب نثار کے حوالے سے ایک اچھی خبر سامنے آئی ہے جس کے مطابق ان کا کہنا ہے کہ ریٹائرمنٹ کے بعد وہ کوئی نوکری نہیں کریں گے۔ یہ وہ بات ہے جو ایک عرصے سے میرے دل میں تھی۔ کاش! عدلیہ کے تمام جج صاحبان یہ طے کرلیں کہ ریٹائرمنٹ کے بعد وہ کوئی ملازمت سرکاری یا غیر سرکاری قبول نہیں کریں گے۔ صرف عدلیہ نہیں بلکہ یہ ا علان دفاعی اداروںکے سربراہوں کی طرف سے بھی سامنے آنا چاہئے، اسی طرح ہمارے سفیروں اور فارن افیئر کے سربراہان کا بھی یہ اخلاقی فرض ہے کہ ریٹائرمنٹ کے بعد وہ کوئی ملازمت نہ کریں۔پولیس کے سربراہان کو بھی یہ عہد کرنا چاہئے جس کا ذکر ان سطور میں آیا ہے۔ اسی طرح پاکستان کے دوسرے حساس معلومات رکھنے والے جتنے بھی ادارے ہیں ان کا بھی فرض بنتا ہے کہ وہ یہ عہد کریں کہ ریٹائرمنٹ کے بعد کوئی عہدہ قبول نہیں کریں گے۔
یہ بات میں اس لئے کہہ رہا ہوں کہ اتنے اہم اور قابل احترام پوزیشن رکھنے والے افراد کو اپنے دور ملازمت کی عزت پر اکتفا کرنا چاہئے اور دوسرے اس لئے بھی کہ جن پوزیشنوں پر وہ رہے ہیں، ان محترم شخصیات کو ملازمت دینے والا کوئی ادارہ اپنے اس’’احسان‘‘ کی قیمت کسی نہ کسی حوالے سے وصول کرنے کی کوشش کرسکتا ہے۔ اس سے بھی زیادہ اہم یہ کہ ریٹائرمنٹ کے بعد کسی اور عہدے کی خواہش رکھنے والے دوران

x
Advertisement

ملازمت مختلف طبقوں کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں اور یوں یہ سوچ رکھنے والے دوران ملازمت اپنے فرائض کی ادائیگی میں کمپرومائز کرنے پر بھی مجبور ہوسکتے ہیں۔
ان سب امور سے بڑھ کر ایک بات جو مجھے بہت کھٹکتی ہے بلکہ اس پر دل کڑھتا ہے کہ بہت سے اداروں کے اہم افراد غیر ملکی پاسپورٹ کے حامل ہیں۔ میں ایسے سفیروں کو بھی جانتا ہوں جنہوں نے اپنی مدت ملازمت کے بعد اسی ملک کی شہریت اختیار کرلی یا کسی اور ملک کا پاسپورٹ لے لیا۔ آپ خود ہی سوچیں ایسے لوگوں نے پاکستان کی سفارت کس انداز سے کی ہوگی اور جو لوگ اس وقت سروس میں ہیں اور انہوں نے غیر ملکی پاسپورٹ لے رکھا ہے انہیں پاسپورٹ لیتے وقت یہ حلف اٹھانا پڑتا ہے کہ اگر انہیں کسی اپنے سابقہ ملک کے خلا ف جنگ بھی کرنا پڑے تو وہ اس کا ساتھ دیں گے۔ میرے نزدیک ایسے لوگ ننگ قوم و وطن ہیں۔ انہیں فوری طور پر ٹرمینیٹ کرنا ضروری ہے۔ یہ وہ سانپ ہیں جو ہمارے دودھ پر پل رہے ہیں۔ پاکستان نے ان کی تعلیم کے اخراجات برداشت کئے، انہیں عزت دی اور انہیں اس مقام پر فائز کیا جس کے بارے میں یہ کبھی سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔
مجھے اس وقت پاکستان کے سابق چیف جسٹس کارنیلیس یاد آرہے ہیں ۔ وہ ساری عمر لاہور کے ایک ہوٹل کےکمرے میں مقیم رہے، ان کے لئے غیر ملکی شہریت کا حصول کوئی مسئلہ نہیں تھا مگر وہ اپنی مٹی کے وفادار رہے اور آج بھی اس دھرتی میں آسودہ خاک ہیں۔ جو لوگ مجبوراً ترک وطن کرتے ہیں مثلاً بے روزگاری کی وجہ سے، غربت کی وجہ سے یا کسی جانب سے جان و مال کے خطرے کے سبب تو مجھے ان کے ترک وطن کے فیصلے سے اتفاق نہیں، تاہم جن لوگوں کو اس وطن نے نام اور مقام دیا، وہ کھاپی کر جب اپنے اس محسن کو حقارت کی نظروں سے دیکھتے ہوئے امریکہ اور یورپ کا رخ کرتے ہیں تو ان کی احسان فراموشی قابل معافی نہیں ہے۔ ایسے تمام لوگ جو غیر ملکی شہریت کے حامل ہیں اور کھاتے پاکستان کا ہیں، ان سب کے خلاف فوری کارروائی کی ضرورت ہے۔ میں چیف جسٹس جناب ثاقب نثار سے امید رکھتا ہوں کہ وہ اس ضمن میں ضروری اقدام اٹھائیں گے اور جاتے جاتے وطن کے ان ناسوروں کا حساب ضرور چکائیں گے۔
اب آخر میں اس کالم کا ایک اور محرک بیان کرتا چلوں جو ایک اشتہار کی صورت میں سامنے آنے پر میرے لئے اذیت کا سبب بنا۔ اس اشتہار میں ریٹائرڈ افسروں سے مختلف اسامیوں کے لئے درخواستیں طلب کی گئی تھیں۔ یہ اشتہار تیر کی طرح میرے سینے میں لگا۔ ہمارے وہ افسر جنہوں نے ساری عمر ملکی دفاع کے لئے وقف رکھی اور فوج کے ڈسپلن کے تحت کام کرتے رہے، کیا اب وہ رئیل اسٹیٹ کے منصوبوں کی کامیابی کے لئے کام کریں گے اور اپنے نئے باس کے زیر کمان ہوں گے۔ بہت سے لوگوں کو ملک کے سب سے بڑے کاروباری سے بہت سی شکایات ہیں، وہ ان پر طرح طرح کے الزامات عائد کرتے ہیں، ممکن ہے ان میں کچھ حقیقت بھی ہو مگر مجھے یہ بےشمار سرمایہ داروں سے بہت بہتر لگتے ہیں، وہ ایک سیلف میڈ شخص ہیں، انہوں نے اپنے شعبے میں بہت خوبصورت رنگ بھرے، ان کی ساری انویسٹمنٹ پاکستان میں ہے اور فلاحی کاموں میں بھی وہ آگے آگے نظر آتے ہیں۔ میرے بہت عزیز دوست جاوید چودھری ان کے بہت مداح ہیں اور میں ان کی رائے کو اس لئے بھی اہمیت دیتا ہوں کہ جب دوست اکٹھے ہوتے ہیں تو بعض اوقات اس کی عدم موجودگی میں اس کی شخصیت کی خامیاں بھی زیر بحث لاتے ہیں مگر جاوید چودھری اور میں جب کبھی ملتے ہیں اور ان کی گفتگو سننے والا کوئی تیسرا بھی وہاں نہیں ہوتا وہ اس وقت بھی ان کی شخصیت کے روشن پہلو سامنے لاتے ہیں۔ اس بیک گرائونڈ کے باوجود مجھے وہ اشتہار بالکل اچھا نہیں لگا۔ میں ان کے پراجیکٹس کے لئے درخواستیں بھیجنے کوفوجی افسروں کی کسر شان سمجھتا ہوں۔ پاک فوج کے اپنے بہت سے ایسے منصوبے ہیں جن میں وہ اپنے ریٹائرڈ افسروں کے لئے جگہ بناسکتے ہیں، مگر مجھے یہ بالکل اچھا نہیں لگے گا کہ ہمارے فوج کے سپوت کسی ایسے پرائیویٹ منصوبوں کے لئے کام کریں جن میں اگر کوئی بےضابطگی ہو تو اس میں ان کا نام بھی شامل ہو۔ میں نے اپنی بات کہنا تھی وہ میں نے کہہ دی فیصلہ تو بہرحال میں نہیں کرسکتا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں