آپ آف لائن ہیں
بدھ5؍شوال المکرم 1439ھ 20؍جون2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دنیا کے کسی جمہوری ملک میں نگران حکومت کا تصور نہیں ہے۔ اسمبلی تحلیل کرکے تازہ مینڈیٹ کی طرف جانا منتخب وزیراعظم کا جمہوری و آئینی حق ہوتا ہے مگر پاکستان میں منتخب وزیراعظم اس حق سے بھی محروم رہتا ہے۔ اسمبلی تحلیل کرکے انتخابات کے اعلان میں نگران حکومت رکاوٹ ہوتی ہے جن سے اختلاف کی وجہ سے الیکشن کے لئے رجوع کرنا ہوتا ہے، ان کی مشاورت کے بغیر نگران وزیراعظم کا تقرر ممکن نہیں ہوتا۔ وزیراعظم کو اپنے اس اختیار کو استعمال کرنے کے لئے بھی اپوزیشن سے مدد لینا پڑتی ہے۔ اپوزیشن لیڈر راضی نہ ہو تو معاملہ کھٹائی میں پڑ جاتا ہے اور منتخب وزیراعظم کو الیکشن کمیشن کے فیصلے پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ دنیا کی واحد جمہوریت ہے جہاں پر چھ ماہ کے لئے حکومت نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی۔ انتخابات سے تین ماہ قبل حکومت جانے کی تیاریوں میں لگ جاتی ہے اور ہر شے مفلوج ہوجاتی ہے اور اسی طرح نگران حکومت بننے کے بعد تین ماہ تک ملک میں کوئی اہم فیصلہ نہیں لیا جاتا۔ نگران حکومت منتخب حکومت کے انتظار میں بیٹھی رہتی ہے۔ دنیا بھر کے مہذب معاشروں میں منتخب حکومت ہی انتخابات کراتی ہے، جبکہ الیکشن کمیشن کو انتخابات سے متعلق ہر معاملہ سونپ دیا جاتا ہے اور الیکشن کمیشن مکمل بااختیار ہوتا ہے۔ میرے خیال سے آج پاکستان میں جتنا الیکشن کمیشن

x
Advertisement

بااختیار اور خودمختار ہے، شاید ہمسایہ ملک بھارت میں بھی نہیں ہوگا۔ اس سے بڑی خودمختاری اور کیا ہوسکتی ہے کہ نگران وزیراعلیٰ، چیف سیکرٹری اور آئی جی کی تعیناتی الیکشن کمیشن کی منظوری سے کی جارہی ہے۔ مگر نگران حکومت کا تصور کسی بھی طرح سے ملک کے مفاد میں نہیں ہے۔
آج ڈالر آسمان سے باتیں کررہا ہے۔ منتخب حکومت کے جاتے ہی مہنگائی کا جن بوتل سے باہر آچکا ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں دن بدن بڑھتی جارہی ہے۔ نگران حکومت کے لئے ممکن ہی نہیں کہ مہنگائی کے اس طوفان کو روک سکے۔ حکومتی معاملات کو سمجھنے کے لئے بھی چند ماہ درکار ہوتے ہیں۔ جامع پالیسیاں بنانے کے لئے تھوڑا وقت چاہئے ہوتا ہے مگر چونکہ نگران حکومت خود 45سے60دن کے لئے آتی ہے تو وہ روزمرہ کے معاملات نپٹائے یا پھر معاشی و خارجی پالیسیاں بناتی رہے۔ منتخب حکومت کے ختم ہوتے ہی ملک کو کمزور کرنے والا مافیا سر گرم ہوجاتا ہے۔ روپے کی قدر گرانے کے لئے اقدامات کئے جاتے ہیں۔ اسٹاک مارکیٹ سے سرمایہ نکال لیا جاتا ہے۔جان بوجھ کر ایسے حالات پیدا کئے جاتے ہیں کہ چند ہفتوں کے لئے آنے والی نگران حکومت کو کچھ سمجھ نہ آسکے۔ مخصوص لوگوں کے مفاد کے لئے اقدامات کئے جاتے ہیں۔ نگران حکومت شفاف انتخابات پر توجہ دے یا پھر ڈالر اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لئے جامع اقدامات کرے۔ ہر مرتبہ نگران دور میں ملک اتنا پیچھے چلا جاتا ہے کہ منتخب ہوکر آنے والی حکومت بھی کئی ماہ تک صورتحال پر قابو نہیں پاسکتی۔ دراصل نگران دور کا تصور ہی غلط ہے۔ جس جماعت کی بھی حکومت ہو، اسے عام انتخابات کرانے چاہئیں جبکہ الیکشن کمیشن جس طرح اب کام کررہا ہے، تب بھی ویسے ہی کام کرے اور ہر طرح کے انتظامی معاملات خود سنبھال لے۔
گزشتہ روز نگران وفاقی وزرا کی پریس کانفرنس سے بجلی کی پیداوار سے متعلق شکوک و شبہات دور ہوگئے۔ پانچ سال پہلے گیارہ ہزار میگاواٹ پیدا کرنے والے ملک کی صلاحیت چھبیس ہزار میگا واٹ تک ہوچکی ہے جبکہ اس وقت بائیس ہزار میگاواٹ تک بجلی نیشنل گرڈ میں آرہی ہے۔ بجلی کی کھپت تقریباً چوبیس ہزار میگاواٹ ہے یعنی کے دو ہزار میگاواٹ کا فرق آرہا ہے۔ بہتر انتظامی صلاحیت اور اچھی مینجمنٹ سے اس فرق پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ مگر نگران حکومت کوئی جن یا بھوت نہیں ہے۔ اسے بھی معاملات سمجھنے کے لئے کچھ عرصہ درکار ہوگا۔ اگر سابق حکومت چل رہی ہوتی تو شاید اس کمی کو باآسانی مینیج کیا جاسکتا تھا۔ نگران وزیراعظم جسٹس (ر) ناصر الملک شریف اور دیانتدار آدمی ہیں۔ قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں۔ مگر معاملات حکومت اس قدر پیچیدہ ہیں کہ چند ہفتوں کے لئے عہدہ سنبھالنے والا وزیراعظم کچھ نہیں کرسکتا۔ ابھی نگران حکومت کے لئے مزید پیچیدگیاں پیدا ہوں گی۔ نئے نئے مسائل سامنے آئیں گے۔ آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک سے مذاکرات میں جتنی تاخیر کی جائے گی، اس کا نقصان پاکستان کو ہوگا۔ مگر ظاہر ہے حتمی اور جامع پالیسیاں تو منتخب حکومت نے بنانی ہیں، اس لئے نگران حکومت چاہتے ہوئے بھی کچھ نہیں کرسکتی۔
جبکہ نگران حکومت سے جڑا دوسرا اہم معاملہ بروقت شفاف انتخابات کا ہے۔ ناصر الملک کے ہوتے ہوئے برملا کہا جاسکتا ہے کہ وہ شفاف انتخابات کے بروقت انعقاد کو یقینی بنانے کے لئے کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں۔ مگر انہیں نیچے تک نظر رکھنے کے لئے دور بین لگانا پڑے گی اور باریک بینی سے معاملات کی ذاتی طورپر نگرانی کرنا ہوگی۔ اچھی بات ہے کہ زلفی بخاری کےنام کے چند گھنٹو ں کے اندر اندر ای سی ایل سے اخراج کا وزیراعظم نے نوٹس لیا ہے۔ اگر معاملات یونہی چلتے رہے اور ناصر الملک شفاف انتخابات کرانے میں کامیاب ہوگئے تو تاریخ دان ان کا نام سنہری حروف سے لکھے گا۔ ریٹرننگ افسران سے لے کر اسسٹنٹ ریٹرننگ افسران اور تمام پریذائنڈنگ افسران تک ایسا نظام وضع کرنے کی ضرورت ہے کہ ہر افسر ووٹوں کی گنتی مکمل ہوتے ہی فارم پر انگوٹھا لگا کر اس کی تصویر الیکشن کمیشن کے واٹس ایپ گروپ پر بھیج دے تاکہ رزلٹ میں ردو بدل او ر شفافیت پر کوئی انگلی نہ اٹھ سکے۔ نگران وزیراعظم کو الیکشن کمیشن کے ساتھ مل کر اس حوالے سے مربوط او ر موثر حکمت عملی بنانی چاہئےاور الیکشن کے دن کسی بھی جماعت کے کسی امیدوار یا اس کے حمایتی کو من مانی اور دھونس دھاندلی کی اجازت ہر گز نہیں دینی چاہئے۔ جب انتخابات کا مرحلہ مکمل جائے تو تمام جماعتیں پارلیمنٹ کی چھت کے نیجے اکٹھی ہوں اور نگران دور کے حوالے سے موثر قانون سازی کریں اور یوں ہر پانچ سال بعد ملک کو تین ماہ کے لئے بے یارو مدد گار چھوڑنے کے بجائے منتخب حکومت سے ہی انتخابات کرانے کو ترجیح دیں۔جس میں الیکشن کمیشن آف پاکستان اتنا بااثر اور خودمختار ہو کہ کوئی بھی اس پر اثر انداز نہ ہوسکے وگرنہ اتنا نقصان پانچ سالوں کے دوران ملک کا نہیں ہوتا جتنا نگران دور کے چند ہفتوں کے دوران ہوجاتا ہے۔ اس حوالے سے ہمیں دنیا کے دیگر جمہوری ممالک کے نظام کا جائزہ لیتے ہوئے آئین میں ترمیم کرنی چاہئے۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں