آپ آف لائن ہیں
منگل2؍ذوالحجہ 1439ھ 14؍اگست 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
’’کراچی کچی آبادی کا منظر پیش کر رہا ہے‘‘

سپریم کورٹ کے جج جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے ہیں کہ 90 فیصد کراچی کو تباہ کردیا گیا اور پورا شہر کچی آبادی کا منظر پیش کررہا ہے۔

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں شہر کےپارکوں اور کھیل کے میدانوں پر قبضے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔

عدالت نے پارکوں اور کھیلوں کے میدانوں پر قبضے اور معاونت کرنے والوں، قبضے میں معاونت کے ذمہ دار سرکاری افسران کے خلاف بھی انکوائری کا حکم دیا۔

عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ کو قبضہ مافیا کے خلاف انکوائری کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے ایک ماہ میں رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا۔عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ ایک ایک رفاعی پلاٹ کا جائزہ لے کر رپورٹ پیش کی جائے۔

دوران سماعت پارکوں سے قبضے ختم نہ کرانے پر عدالت نے شدید برہمی کا اظہار کیا۔جسٹس گلزار نے ریمارکس دیئےکہ پورا کراچی کچی آبادی کا منظر پیش کررہا ہے، 90 فیصد کراچی کو تباہ کردیا گیا۔

ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ کراچی پر 250 ارب روپے خرچ کیے، اس پر جسٹس گلزار نے استفسار کیا کہاں خرچ ہوئے؟ حساب لینے والا یا حساب دینے والا کوئی ہے؟ جو حساب لینے والے ہیں وہ اپنا حساب بنارہے ہیں۔

جسٹس گلزار نے ریمارکس دیئے کہ یہ ملک صرف دعاؤں سے نہیں چل سکتا، کچھ کرنا ہوگا، صرف دعاؤں سے چلنا ہوتا توافغانستان، عراق اور شام کا یہ حال نہ ہوتا، خدا کے لیے قدرت سے مت چھیڑ چھاڑ کریں۔

جسٹس گلزار نے مزید کہا کہ دنیا دیکھ رہی ہے کراچی والے کیسے زندگی گزار رہے ہیں، اس خوبصورت شہر کو عمارتوں کا شہر بنادیا گیا ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں