آپ آف لائن ہیں
بدھ8؍ محرم الحرام1440ھ 19؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکی ڈالر کا ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچنا تشویش ناک امر ہے۔ نگراں حکومت نے بھی آتے ساتھ ہی عوام پر پٹرول بم گرادیا ہے، اس ناروا اقدام سے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوجائے گا۔ حالیہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کو فی الفور واپس لیا جانا چاہئے۔ ڈالر کا 121.50روپے تک پہنچنا اور روپے کی بے قدری سے تنخواہوں اور سرکاری ملازمین کی پنشن میں اضافہ غیرموثر ہوکر رہ گیا ہے۔ ملک میں زرمبادلہ کے ذخائر 10ارب ڈالر رہ گئے ہیں جوکہ حکمرانوں کی بدترین کارکردگی کا مظہر ہے۔ ڈالر کی قیمت میں اضافے سے قرضوں کا بوجھ 450ارب تک جاپہنچا ہے۔ روپے کی بے قدری ملک میں مہنگائی کے طوفان کا پیش خیمہ ہے۔ نگراں حکومت کو 22کروڑ عوام کا احساس کرنا چاہئے، اگر وہ عوام کیلئے آسانیاں پیدا نہیں کرسکتی تو ان کے مسائل میں اضافے کا باعث بھی نہ بنے۔ حکمرانوں نے معاشی لحاظ سے پاکستان کو ایشیا کا کمزور ترین ملک بنانے کیلئے کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ چین، بھارت، بنگلہ دیش معاشی طور پر دن بدن مضبوط سے مضبوط تر ہوتے جارہے ہیں جبکہ پاکستان میں آئے روز معیشت دگرگوں نظر آتی ہے جس کو مصنوعی سہارا دینے کیلئے قرض پہ قرض لئے جارہے ہیں۔ پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں اضافہ کرکے عوام کی زندگی اجیرن بنانے سے بہتر تھا کہ حکومت فی لیٹر پٹرول کے

سرکاری منافع میں کمی کرتی تاکہ عوام کو ریلیف ملتا۔ سپریم کورٹ کی جانب سے موبائل فون کارڈز پرٹیکس کٹوتی کو معطل کرنا قابل تحسین اقدام ہے، اس پر اب عملدرآمد بھی ہونا چاہئے نگراں حکومت عوام کو لوٹنے میں مصروف ہے۔ ٹیکسوں کی بھرمار نے رہی سہی کسر پوری کردی ہے۔ جب تک بڑے مگرمچھوں کو ٹیکس کے نظام میں نہیں لایا جائے گا اس وقت تک ملک ترقی نہیں کرسکتا۔ حکومت سرکاری اداروں میں موجود ان کالی بھیڑوں کا محاسبہ کرے۔
کرپشن پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔ دبئی میں پاکستانیوں کی 4ہزار 440ارب روپے کی جائیداد کی موجودگی لمحہ فکریہ ہے۔ ہر سال غیرقانونی طریقے سے اربوں ڈالر باہر منتقل ہورہے ہیں۔ حکمرانوں کی عاقبت نااندیش پالیسیوں کی بدولت کاروباری طبقہ حکومتی اقدامات پر اعتماد کرنے کو تیار نہیں اس لئے وہ اپنے اثاثے اور منافع بیرون ملک منتقل کررہا ہے۔ ایمنسٹی اسکیم بھی بری طرح فلاپ ہوگئی ہے۔ کرپشن اور کرپٹ عناصر کی لوٹ مار نے ملکی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ جب تک ملک میں ہونے والی 12ارب روپے کی روزانہ کرپشن کی روک تھام کیلئے عملاً اقدامات نہیں کر لئے جاتے تب تک نہ عوام کی زندگی میں خوشحالی آسکتی ہے اور نہ ہی ملک ترقی کی منازل طے کرسکتا ہے۔ کرپشن نے ملک بھر کے تمام اداروں کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ نااہل اور بدعنوان افراد کو منافع بخش اداروں میں اہم عہدوں پر تعینات کرکے میرٹ کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں۔ پاناما لیکس، پیراڈائز لیکس اور دبئی لیکس میں بے نقاب ہونے والے دیگر کرپٹ اور ٹیکس چور افراد کے خلاف بھی سخت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ 70برسوں سے ملک و قوم کو چوروں اور لٹیروں نے لوٹنے کا کوئی موقع خالی ہاتھ نہیں جانے دیا۔ مٹھی بھر 5فیصد اشرافیہ سیاہ و سفیدکی مالک بنی بیٹھی ہے جبکہ باقی95فیصد غریب عوام کو جاگیرداروں، وڈیروں اور سرمایہ داروں نے یرغمال بناکر رکھا ہوا ہے۔ ان کا کوئی پرسان حال نہیں۔ ماضی کے حکمرانوں کی ڈنگ ٹپائو پالیسیوں کا خمیازہ پوری قوم بھگت رہی ہے۔ عام انتخابات میں عوام اس ظالمانہ اور فرسودہ نظام کے خلاف علم بغاوت بلند کریں اور ایسی صالح، باکردار اور محب وطن قیادت کو موقع دیں جو حقیقی معنوں میں عوام کی خیرخواہ اور مخلص ہو۔ اب وقت آگیا ہے کہ ظلم کے ان سومناتوں کو زمین بوس کیا جائے۔ موجودہ حالات میں متحدہ مجلس عمل کی بحالی تازہ ہوا کا جھونکا ہے۔ متحدہ مجلس عمل کی بحالی سے سیکولر قوتیں خوفزدہ ہوچکی ہیں۔ دینی جماعتوں کا اتحاد ملکی سلامتی کا ضامن ہے۔ غریب عوام کو درپیش مسائل کا حل ایم ایم اے کے پاس ہے۔ ایم ایم اے کا منشور یہ ہے کہ ہم ملک و قوم کو امریکی غلامی سے نجات دلائیں گے۔ امید کی جارہی ہے کہ عام انتخابات میں مجلس عمل پورے ملک میں بھرپور کامیابی حاصل کرے گی۔ دینی جماعتوں کا ایک پلیٹ فارم سے انتخابات لڑنا بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔ قوم ان سیکولر اور لادین افراد کو مسترد کردے گی جنہوں نے 70برسوں سے ملک وقوم کو لوٹا اور ایسے اقدامات کئے جو اللہ اور اس کے رسولؐ کی ناراضی کا باعث بنے۔ المیہ یہ ہے کہ اسلام کے نام پر وجود میں آنے والے ملک کی بنیادوں کو کھوکھلا کیا جارہا ہے۔ فحاشی و عریانی کو فروغ دے کر ہماری نوجوان نسل کو بے راہ روی کی دلدل میں دھکیلا جارہا ہے اور اسے دین سے دور کیا جارہا ہے۔ اگر ہم نے اسلام اور ملک دشمن قوتوں کا راستہ نہ روکا تو ہمارا معاشرہ اخلاقی دیوالیہ پن کا شکار ہوجائے گا۔ ملکی سلامتی کو یقینی بنانے کیلئے نظام مصطفیؐ کا نفاذ ازحد ضروری ہے۔ 2018کے عام انتخابات میں عوام دیانتدار قیادت کو موقع فراہم کریں۔ ملک کو چوروں، لٹیروں، ڈاکوئوں، ٹیکس چوروں، ظالم جاگیرداروں، سرمایہ داروں اور وڈیروں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جاسکتا۔ پاکستان کے85فیصد نوجوان ملک میں شریعت کا نفاذ چاہتے ہیں۔ قومی خزانہ لوٹنے والوں نے ملک کو کنگال کرکے رکھ دیا ہے۔ کرپشن کی انتہا ہوچکی ہے۔ بااثر افراد بینکوں سے اربوں کا قرض لے کر کھا جاتے ہیں اور کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا۔ سپریم کورٹ کی جانب سے54ارب روپے معاف کروانے والے 222کمپنیوں اور افراد کیخلاف کارروائی کا اعلان خوش آئند ہے مگر ضرورت اس امر کی ہے کہ اس کارروائی کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے۔ ملکی معیشت کو سب سے زیادہ نقصان کرپشن اور کرپٹ عناصر نے ہی پہنچایا ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق حکمرانوں نے ڈنگ ٹپائو پالیسیوں کے سوا کچھ نہیں کیا۔ ملک و قوم کی ترقی و خوشحالی کیلئے ضروری ہے کہ حکمران شاہانہ انداز حکمرانی چھوڑ کر حقیقی معنوں میں عوام کی فلاح و بہبود کیلئے اقدامات کریں۔ پاکستان وسائل کی دولت سے مالا مال ملک ہے۔ اللہ تعالیٰ نے معدنیات سے لے کر بہترین جغرافیائی حدود تک سے نوازا ہے مگر المیہ صرف محب وطن قیادت کے فقدان کا ہے۔ ملک وقوم کو ایماندارقیادت میسر آجائے تو پاکستان دن دگنی رات چوگنی ترقی کرسکتا ہے۔ پاکستان باصلاحیت افراد کاملک ہے جس کی60فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ ان کی صلاحیتوں کو نکھارتے ہوئے انہیں ملک و قوم کی تعمیر و ترقی کیلئے بروئے کار لانا ہوگا۔ نئےآبی منصوبے بھی ملک کی بقا اور سلامتی و خوشحالی کے ضامن ہیں، یہ خواہ کسی بھی نام سے بنیں تعمیر ہونے چاہئیں۔ آنے والے دنوں میں پانی بحران سنگین سے سنگین تر ہوتا نظر آرہا ہے۔ آنے والے وقت میں جنگیں پانی پر ہوا کریں گی۔ اس سے پانی کی اہمیت کا احساس ہوتا ہے جبکہ بھارت متواتر پاکستان کے حصے میں آنے والے دریائوں پر آبی جارحیت کرکے ڈیمز تعمیر کرنے میں مصروف ہے۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں