آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر2؍ربیع الثانی 1440ھ 10؍دسمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مادام تساؤ اور ان کے مومی مجسموں کے بارے میں کون نہیں جانتا۔ اٹھارہویں صدی کے فرانس میں پیدا ہونے والی میری تساؤ نے چھوٹی عمر ہی میں سوئٹزرلینڈ کے ایک ڈاکٹر سے مجسمہ سازی سیکھ لی تھی۔ روسو ، والٹیئر اور رابسپیئر جیسی قدآور شخصیتوں کے مومی مجسمے بنائے۔ انقلاب فرانس میں کچھ مدت کے لئے قید رہی، سزائے موت کا حکم تھا۔ کسی طور بچ نکلی۔ یورپ کے مختلف ملکوں میں گھومتی پھری، بالآخر برطانیہ کو مسکن بنایا۔ 1836ء میں لندن کی بیکر اسٹریٹ پر اپنی تخلیقات کی نمائش گاہ قائم کی۔ آج مادام تساؤ کے مجسموں کو گزشتہ دو صدیوں کی بصری تاریخ سمجھا جاتا ہے۔ سیاست، علوم، ادب، فنون اور کھیلوں کی دنیا میں درجہ کمال کو پہنچنے والوں کو اس فہرست میں جگہ ملتی ہے۔ مادام تساؤ کے مومی مجسمے اب ایک فن کار کی انفرادی تخلیق کے بجائے ایک اجتماعی روایت کا درجہ پا گئے ہیں۔ دنیا کے مختلف حصوں میں مادام تساؤ کے کل 24 میوزیم قائم ہیں۔ پاکستان میں مادام تساؤ کا کوئی میوزیم نہیں۔ اور ہمیں اس نوع کے عجائبات سے محرومی پر کچھ ایسا ملال بھی نہیں۔ وجہ جاننا ہو تو محبی پرویز رشید کے اس بیان پر توجہ فرمائیے جو انہوں نے گزشتہ ہفتے اسلام آباد میں ’آزادی اظہار رائے کو درپیش خطرات اور آئندہ انتخابات‘ کے موضوع پر سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے

دیا۔ پرویز رشید اقتدار کی غلام گردشوں کے شناور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’پاکستان میں اقتدار اور اختیار کا منبع اس عمارت میں نہیں ،جس پر کلمہ لکھا ہوا ہے‘۔ اب سے کوئی بیس برس قبل ڈاکٹر مبشر حسن نے ایک کتاب لکھی تھی، The Mirage of Power (اقتدار کا سراب)۔ ڈاکٹر صاحب نے ذوالفقار علی بھٹو کے دور اقتدار (2071-77) کے دوران اپنے مشاہدات کی روشنی میں یہی بات کہی تھی جو پرویز رشید نے حال ہی میں اپنی آئینی معیاد مکمل کرنے والی حکومت کے بارے میں کہی۔ مذکورہ سیمینار میں سابق سینیٹر فرحت اللہ بابر نے تو ایک ایسی بات بھی کہہ دی جو پاکستان میں ہر خاص و عام جانتا ہے لیکن بوجوہ کہنے اور لکھنے سے گریز کر رہا ہے۔ عبرت گورکھپوری یاد آ گئے… ہر اک کو رہنما تھیں فقط اپنی غفلتیں۔ پرویز رشید اور فرحت اللہ بابر تو عاقبت نااندیش لیوانے فلسفی ہیں۔ جو درست سمجھتے ہیں، کہہ ڈالتے ہیں۔ مڑ کر دیکھتے ہیں تو ان کے اپنے لیڈر خلائی حملے سے بچاؤ کی خندقوں میں بیٹھے نظر آتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ اگر پارلیمنٹ اقتدار کا منبع نہیں، تو اگلے مہینے ہم عام انتخابات کی مشق سے کیوں گزرنا چاہتے ہیں۔ پارلیمنٹ کے ارکان عوام کے ووٹوں سے منتخب نمائندے ہوتے ہیں۔ پارلیمنٹ قانون ساز ادارہ ہے۔ آئین میں ترمیم کا اختیار پارلیمنٹ کو دستور کی شق 239 میں دیا گیا ہے۔ پارلیمنٹ میں قائد حزب اقتدار وزیر اعظم کے منصب پر فائز ہو کر کابینہ تشکیل دیتا ہے۔ کابینہ پالیسی ساز فورم ہے۔ ریاستی ادارے منتخب حکومت کے تابع ہیں۔ گویا دستور کے مطابق تو پارلیمنٹ اقتدار اور اختیار کا منبع ہے۔ اب اگر اصحاب دانش ہمیں بتاتے ہیں کہ پارلیمنٹ حقیقی اختیار سے محروم ہے تو کیا ہم 25 جولائی کو مادام تساؤ کے مومی مجسمے منتخب کرنے جا رہے ہیں۔ موم کی ناک کا محاورہ تو ہر شخص سمجھتا ہے۔ مگر اردو زبان میں ناک سے متعلقہ محاوروں کی فہرست خاصی طویل ہے۔ محاورہ بیان کرنے کا بھی کوئی موقع محل ہوتا ہے۔ اس میں قومی مفاد کا خاص خیال رکھنا چاہئے۔ انتخابات کا وقت قریب آتے ہی اہل سیاست کی صفوں میں جو بھگدڑ مچی ہے، اس سے بحیثیت ایک قوم ایک بات تو واضح ہو گئی۔ ستر برس پر محیط ہماری تاریخ میں ہمارا اجتماعی اخلاقی معیار مخدوش رہا ہے۔ انفرادی معاملات سے لے کر قومی امور تک ہم نے اعلیٰ اخلاقی معیارات قائم نہیں کئے۔ ایک دوسرے کی ڈھارس بندھانے کے لئے ہم نے قابل تحسین افراد کی ایک فہرست مرتب کر رکھی ہے اور موقع کی مناسبت سے چند نام پیش کر کے گویا اپنی ناک بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ نہیں بتاتے کہ جب یہ لوگ زندہ تھے اور اپنی سانسوں کا تاوان ادا کر رہے تھے تو ہم نے ان کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ فیض کی نظم صبح آزادی پر الطاف گوہر نے کیا تبصرہ کیا تھا؟ سعادت حسن منٹو کے ساتھ ہمارا سلوک کیا تھا؟ حسن ناصر کی موت پر کتنوں نے آواز اٹھائی؟ ملک میں پہلی مرتبہ دستور منسوخ کیا گیا تو ہم کہاں تھے؟ مشرقی پاکستان میں فوجی کارروائی کی گئی تو ہمارا ردعمل کیا تھا۔ عدالتوں کو صاحبان اختیار کے ہاتھ کی چھڑی بنایا گیا تو ہم نے کہاں احتجاج کیا۔ دستور میں 58 دو (الف) شامل کی گئی تو ہم لکیر کے کس طرف تھے۔ صحافت کو بیڑیاں پہنائی گئیں تو ہم نے کب اور کہاں آواز بلند کی۔ سیاسی کارکنوں کو تخریب کار اور شر پسند قرار دیا گیا تو ہماری چشم گریہ ناک کن نیندوں سوتی رہی۔ آج جو سیاسی گروہ زیر عتاب ہے، اس کے قصیدے لکھنے والوں میں کون کون سے زعما شامل تھے۔ جو قوم ننگی آمریت کے چار تجربوں اور نیم جمہوری اقتدار کی سات دہائیاں گزار کر بھی جمہوریت اور آمریت کی بحث میں شرح صدر حاصل نہ کر سکے، اسے پارلیمنٹ نہیں، مومی مجسموں کے عجائب گھر ہی کا مستحق سمجھنا چاہئے۔ امریکی تاریخ میں ایک چلتا ہوا جملہ عام ہے۔ کسی اہم واقعے کا ذکر کرتے ہوئے پوچھا جاتا ہے کہ جب یہ وقوعہ پیش آیا، تم کہاں تھے۔ مثلاً جب پرل ہاربر ہوا تو آپ کہاں تھے۔ جب جان ایف کینیڈی قتل ہوا تو آپ کہاں تھے؟ نائن الیوں کی خبر آئی تو آپ کیا کر رہے تھے۔ امریکیوں کے ہاں یہ فہرست شاید زیادہ طویل نہیں، ہمارے ہاں تو… لمحے لمحے میں ہے آواز شکست، میری تاریخ ندامت کی ہے۔
انیسویں صدی کے مباحث میں ایک اصطلاح استعمال ہوتی تھی، بورژوا۔ بودلیئر سے تھامس مان تک اور دوستوئیفسکی سے ایمل زولا تک، مغربی ادب گویا بورژوا طبقے کے خلاف ایک فرد جرم ہے۔ بورژوا کہتے کسے ہیں؟ اس کی طبقاتی تعریف تو شاید بھائی تیمور رحمن بہتر بتا سکیں، سماجی مفہوم عرض کئے دیتا ہوں۔ جب اپنی روشنی تلاش کرنے کا حوصلہ نہ ہو، تخلیق کی صلاحیت نہ ہو، جھوٹ سے انکار کی جرات نہ ہو، ناانصافی کے خلاف احتجاج کا حوصلہ نہ ہو، تو فرد ہو یا گروہ، مصنوعی تقدس، جعلی شرافت اور دہری اخلاقیات کا بہروپ دھار لیتا ہے۔ بی بی سی کے پروگرام ہارڈ ٹاک میں عمران خان صاحب نے بہت کچھ کہا، ایک بات تو ایسی کہی کہ اہل درد کو پنجابیوں نے لوٹ لیا۔ فرمایا، ’میں واحد سیاست دان تھا جسے پرویز مشرف نے جیل میں ڈالا‘۔ اللہ اللہ، قبلہ گاہی 2007ء کی وکلا تحریک کے دوران اپنی عارضی قانونی تحویل کی طرف اشارہ فرما رہے تھے۔ گویا اکتوبر 1999ء میں نواز شریف، خواجہ آصف، مشاہد اللہ خان، پرویز رشید، شاہد خاقان، سعد رفیق اور صدیق الفاروق سمیت سینکڑوں قابل احترام سیاسی کارکن عقوبت خانوں میں تفریحی دورے پر تھے۔ بی بی سی کی زینب بدوی نے انٹرویو کے لئے بہت اچھی تیاری کر رکھی تھی مگر ایسے سفید جھوٹ کی شاید اسے بھی توقع نہیں تھی۔ اسی لئے پلٹ کر پوچھ نہیں سکی کہ کہ حضور، آپ تو اپریل 2002 کے ریفرنڈم تک آمریت کی بیساکھی تھے، اکتوبر 2002 کے انتخابات تک امید کا دامن تھامے رہے، آپ کا سن شریف 66 برس کا ہونے کو آیا، اس ملک پر اچھے برے ادوار گزرتے رہے، مزاحمت کے کسی ورق پر آپ کا نام کہیں نہیں ہے۔آپ کا تازہ آموختہ اداروں کے تحفظ کا ہے، مالی برس 2018-19کا بجٹ اٹھا کر ایک نظر دیکھ لیجئے۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ مالی وسائل کی مجموعی تقسیم کے اس نمونے کو برقرار رکھتے ہوئے تعلیم اور صحت کی تصویر بدلی جا سکتی ہے، پارلیمنٹ کے اختیارات پر جنبش ابرو کا اشارہ قائم رکھتے ہوئے اداروں میں اختیارات کی علیحدگی کا اصول قائم رکھا جا سکتا ہے تو خاطر جمع رکھئے، آپ کو اسلام آباد کی اس عمارت میں داخلہ ضرور ملے گا جہاں تک رسائی کے لئے بہت سے مومی مجسمے بے تاب ہیں۔
زوال عصر ہے کوفے میں اور گداگر ہیں
کھلا نہیں کوئی در باب التجا کے سوا
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں