آپ آف لائن ہیں
پیر 13؍محرم الحرام 1440ھ 24؍ ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

انگریزی میں صحتِ زباں اورالفاظ و محاورات کے درست استعمال کے موضوع پرکتابیں کثیر تعداد میںدست یاب ہیں۔ ایسی ہی ایک کتاب کے مصنف نے اپنی کتاب کے آغاز میں قارئین کو الفاظ کی اہمیت اس طرح سمجھائی تھی:

Words are fragile, handle with careیعنی الفاظ نازک ہوتے ہیں ، احتیاط سے برتیے ۔

یہ الفاظ عام طور پر ان اشیا کے ڈبوں پر لکھے جاتے ہیں جو نازک ہوتی ہیں اور اٹھانے اور رکھنے میں جن کے ٹوٹ جانے کا خدشہ ہوتا ہے۔ گویا الفاظ کے سلسلے میں بھی ایسی ہی احتیاط کرنی چاہیے جیسی کانچ کے برتنوں کو اٹھاتے وقت کی جاتی ہے۔ لیکن مشتاق احمد یوسفی نے تو لکھا ہے کہ جن پیٹیوں پر FRAGILE (نازک) لکھا ہوتا ہے بندرگاہ پر مزدور ان کو اٹھا اٹھا کر پھینکتے ہیں۔ یوسفی صاحب شاید یہ اضافہ کرنا بھول گئے کہ کچھ یہی رویہ ہم الفاظ کے ساتھ روا رکھتے ہیں اور انھیں بے دردی سے برتتے ہیں۔ آئیے کچھ الفاظ اور تراکیب کے استعمال پر ایک نظر ڈالتے ہیں ، لیکن ذرا احتیاط سے۔

٭قسائی یا قصائی ؟

اردو میں’’ قصائی ‘‘(یعنی ص کے ساتھ)رائج ہوگیا ہے، لیکن کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ درست املا’’ قسائی‘‘ (یعنی س کے ساتھ)ہے ۔دراصل عربی میں ایک لفظ ہے’’ قسو‘‘اور ’’قسا‘‘نیز’’قسوۃ‘‘۔ اس کے معنی ہیں سخت ہونا۔ یہ سخت دل یا سنگ دل ہونا کے معنی میں بھی آتا ہے۔ چونکہ قسائی ،جانوروں کو بے دردی سے ذبح کردیتا ہے اور یہ کام کوئی سخت دل ہی کرسکتا ہے، لہٰذااسے بھی قسائی کہنے لگے ۔انہی معنوں میں ’’قصّاب‘‘بھی لکھا جاتا ہے،یعنی قصائی یا قسائی کے معنوں میںقصاب کا لفظ بھی اردو میںرائج ہے۔ سوال یہ ہے کہ درست املا کیا ہے؟قسائی یا قصائی؟

ُمعروف انگریز لغت نویس جان ٹی پلیٹس کے مطابق’’ قصائی ‘‘دراصل ’’قصّاب‘‘ کا بگاڑ ہے۔ اس نے لفظ قصاب کاعربی مادّہ ’’قصب ‘‘ دیا ہے اور معنی لکھے ہیں کاٹنا ، ٹکڑے کرنا۔ قصّاب چونکہ جانور وں کو کاٹتا ہے اور گوشت کے ٹکڑے کرتا ہے لہٰذا وجہ تسمیہ بھی ظاہر ہے، لیکن پلیٹس نے ’’قسائی ‘‘(س کے ساتھ)کو ’’قصائی ‘‘(ص کے ساتھ) کی تخریب قراردے کر اسے ’’قصائی‘‘ سے رجوع کرایا ہے ۔ گویا اس کے نزدیک قصائی ہی درست ہے، جو قصاب کا بگاڑ ہے۔اردو میں لفظ’’ قساوت ‘‘بھی رائج ہے اور اس کے معنی ہیں دل کی سختی ،بے رحمی۔پلیٹس نے قساوت کا مادّہ’’ قسو‘‘ بتایا ہے اور قسو کے معنی لکھے ہیں (دل کا) سخت ہونا، لیکن وہ قسائی کو درست نہیں مانتا۔

فرہنگ ِ آصفیہ کے مطابق اسے ’’قسائی‘‘ ہی لکھنا چاہیے۔مولوی سید احمد دہلوی نے لکھا ہے کہ یہ لفظ چونکہ عربی سے بگاڑ کر اردو میں بنالیا گیا ہے اور عربی نہیں رہا، لہٰذا اسے ’’سین سے لکھنا واجب ہے‘‘۔ انھوں نے فرہنگ ِ آصفیہ میں اس لفظ کے تمام مشتقات اور ذیلی مرکبات بھی قسائی(یعنی س نا کہ ص) کے تحت میں درج کیے ہیں۔ایک اور انگریز لغت نویس فیلن نے قصائی درج کیا ہے، لیکن وارث سرہندی نے فیلن کی لغت پراپنے جائزے میں لکھا ہے کہ یہ قصاب کا بگاڑ ہے اور یہ لفظ قصائی کی صورت میں عربی میں نہیں ملتا۔

نور اللغات نے ’’قسائی ‘‘(سین کے ساتھ)درج کیا ہے اوراس کے ذیلی مرکبات بھی قسائی ہی کے تحت میں درج کیے ہیں۔نیز قوسین میں لکھا ہے کہ یہ اردو میں بنالیا گیا ہے ۔نور اللغات کے مطابق اصل میں عربی میں ’’قصّ‘‘ یعنی کاٹنا ، کترنا ہے۔البتہ ’’قصائی ‘‘(یعنی ص سے)کا اندراج نوراللغات میں نہیں ہے۔اثر لکھنوی نے نوراللغات پر جو تنقید ،فرہنگ ِ اثر کے نام سے لکھی ہے، اس میں نور اللغات پر بہت اعتراضات کیے ہیں، جن میں سے بعض بہت سخت بھی ہیں، لیکن انھوں نے بھی اس لفظ کو ’’ص‘‘ کی بجاے ’’س‘‘ سے لکھنے پر مولف نورا للغات سے کوئی تعرض نہیں کیا۔ گویا اثر لکھنوی کے خیال میں بھی قسائی درست ہے۔

رشید حسن خان نے اپنی کتاب ’’اردو املا‘‘ میں لکھا ہے کہ: ’’قسائی، قساوت سے تراشا گیا ہے ۔ اردو میں اس کو قسائی لکھنا چاہیے۔ اس کی تانیث قسائینی یا قسینی ہوگی‘‘ (ص ۱۶۸)۔گویا دو انگریز لغت نویسوں کو چھوڑ کر اردو کے ماہرین اور لغت نویس قسائی کو درست اور قصائی کو غلط سمجھتے ہیں۔ فیصلہ آپ خود کرلیجیے۔

٭براہِ مہربانی یا براے مہربانی؟

براہِ مہربانی کے لفظی معنی ہیں ’’مہربانی کی راہ سے‘‘۔ اسی لیے اس کو ’’ازراہِ مہربانی‘‘ (یعنی مہربانی کی راہ سے)بھی لکھا جاتا ہے ۔اسی طرح ’’ازراہِ کرم‘‘ (یعنی کرم کی راہ سے )کی ترکیب بھی مستعمل ہے۔گویادرست ترکیب ہے براہِ مہربانی ،لیکن آج کل لوگ بالعموم ’’براے مہربانی ‘‘ بولتے اور لکھتے ہیں ۔ یہ درست نہیں ہے۔ ’’براہِ مہربانی ‘‘یا ’’مہربانی فرما کر ‘‘لکھنا چاہیے۔

امید ہے کہ آپ براہِ مہربانی آئندہ’’براہِ مہربانی‘‘لکھا کریں گے نہ کہ براے مہربانی۔

٭’’کا شکریہ ‘‘یا ’’کے لیے شکریہ‘‘ ؟

ایک اور بدعت، جو زبان کے معاملے میں جائز تصور کرلی گئی ہے، وہ انگریزی محاورے یا روزمرہ کا لفظی اردو ترجمہ ہے۔ مثلاً اردو میں جب کسی چیز یا کام کا شکریہ ادا کرنا ہو تو کہا جاتا ہے ’’کا شکریہ‘‘۔ جیسے کتاب کا شکریہ، تشریف لانے کا شکریہ۔ انتظار کرنے کا شکریہ۔ لیکن اب ہم ٹی وی پر بھی اور عام گفتگو میں بھی کچھ اس طرح کے جملے سنتے ہیں کہ ’’کتاب کے لیے شکریہ‘‘ یا ’’انتظار کرنے کے لیے شکریہ‘‘ ۔ اردو روزمرہ کے لحاظ سے یہ بالکل غلط ہے اور غالباً انگریز ی کی ترکیب Thank you for کا لفظی ترجمہ ہے، جو اردو میں بہت بھونڈا معلوم ہوتا ہے ۔صحیح استعمال ہوگا ’’کا‘‘ شکریہ۔ بہرحال، اس تحریر کو یہاں تک پڑھنے ’’کا‘‘ شکریہ۔

(جاری ہے)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں