آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل11؍ربیع الاوّل 1440ھ20؍نومبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
پاکستان میں جو ناگزیر سیاسی، سماجی تبدیلی 18 کروڑ پاکستانیوں اور ان کی نسلوں کو مطلوب ہے، بالآخر قدم بڑھانے کے لئے اسے جگہ ملنا شروع ہو گئی ہے۔ اسیSocio-Political تبدلی کے آغاز میں ہماری عوامی اور قومی اقتصادی حالت ایک توازن کے ساتھ تبدیل ہونے لگے گی جو ہمارے اقتصادی ترقی کے پوٹینشل سے میچ کرے گی۔ سٹیٹس کو (جاری نظام بد) آنے والے انتخاب میں ایک بار پھر اپنی قوت کا مہلک مظاہرہ کرتا نظر آتا ہے اور یہ بھی کہ بعد از انتخاب اس کی اگلی (ان شاء اللہ حتمی) ناکامی تبدیلی کی جانب تنگ و تاریک اور رکاوٹوں سے اٹی پڑی راہوں کو غیر معمولی طور پر کھولتی جائے گی۔
گزشتہ پانچ سالوں میں یہ امر بھی واضح ہو گیا کہ پاکستان میں تبدیلی کا راستہ عوامی انقلاب نہیں اور نہ بیمار اور لاغر سیاسی و جمہوری عمل۔ عوام نے تو اس عمل کے شروع ہونے پر ایک بہتر حکومت لانے کی مکمل آزادی کے باوجود جو منفی طاقتور سیاسی ڈھانچہ پارلیمنٹ، صوبائی اسمبلیوں اور منتخب حکومتوں کی شکل میں اپنے پر مسلط کیا، اس کو وفاقی حکومت بار بار ثابت کر چکی کہ جمہوری عمل کی بحالی کے بعد کتنی جمہور نواز اور کتنی خود غرض اور خود پرست ہے۔ ضمنی انتخابات نے بھی یہ ثابت کیا کہ ہمارے اصل عوام کا اجتماعی شعور کتنا ہے؟ اور بطور ووٹر ان کا اجتماعی رویہ کتنا خطرناک ہے۔ صرف ضمنی

انتخابات کے حلقہ ہائے انتخاب کے ووٹروں سے ہی عوامی رویے کی یہ مایوس کن کیفیت بے نقاب نہیں ہوئی، حکومتی خزانے، ترقیاتی پراجیکٹس اور عوامی خدمات کے اداروں کی جس طرح لوٹ مار ہوئی، ملک بھر میں بیروزگاری اور غربت پھیلانے والی مہنگائی اور لوڈ شیڈنگ نے جو حال کیا اس پر عوام کی مکمل بے بسی یا بے حسی تاریخی نوعیت کی ہے۔ اس پر تحقیق بہت دلچسپ بھی ہو گی اور بہت اہم بھی، صرف پاکستان نہیں پوری عالمی برادری کے لئے کہ وہ کون سے محرکات ہیں جب شمالی افریقہ کے گھٹے ہوئے عرب معاشروں میں بھی کسی آثار اور توقع کی عدم موجودگی میں جمہوریت کی بہار آ گئی تو گہرا جمہوری اور سیاسی مزاج رکھنے والے کرپٹ حاکموں کے ہاتھوں لٹتی پٹتی پاکستانی قوم کو سانپ کیوں سونگ گیا؟ سونگ گیا تو سونگ گیا، بغیر کسی جدوجہد اور سیاسی اور عوامی شعور کے بنے حادثاتی سیاست دانوں کی بنائی سیاسی جماعتوں اور حکومتوں نے برسوں میں جو عوامی رویے تشکیل دیئے، اب مکمل بے نقاب ہو چکے ہیں۔ یہ مایوس کن عوامی خودی اور انسانی زندگی کی اعلیٰ و ارفع و اقدار سے یکسر محروم ہیں۔ ثبوت اس کا یہ ہے کہ آج سٹیٹس کو دانش اور صحافت کو بھی درباری سرکاری، سیاسی اور خاندانی بنانے میں جزوی کامیابی حاصل کر رہا ہے لیکن ابلاغ کی آزادی اور طاقت نظام بد کو پاش پاش کرنے میں اپنا کام بھی دکھا رہی ہے۔ اس کے مقابل نظامِ بد کی طاقت درباری دانش اور ایسی ہی صحافت کو وسعت دینے پر اتنی ہی محنت کر رہی ہے جتنی آسانی سے اس کے ہاتھ ناجائز دولت کے انبار لگے۔ اپنی دولت کے اسی ایک معمولی حصے سے وہ تبدیلی کے ان ذرائع پر حملہ آور ہے جو سٹریٹ پاور سے نکلا ہے نہ اس سے بنی کسی خاندانی آمریت کی سیاسی جماعت سے، نہ تازگی کی کوئی دعویدار جماعت نے یہ کارنامہ انجام دیا، پھر بھی اَن ہونی، ہوتی نظر آ رہی ہے۔ تو اس کا ذریعہ کون اور کہاں ہے؟ ”کوئی تو ہے جو نظام ہستی چلا رہا ہے، وہی خدا ہے“ یااللہ تیری شان، سٹیٹس کو، کو اپنا اور اپنی نسلوں کا سب کچھ سمجھنے والے تو اب بھی نہیں سوچیں گے کہ تیونس، لیبیا، مصر اور یمن کے محبوس معاشروں میں تبدیلی بغیر کسی عوامی شعور اور جمہوری عمل (بیمار ہی سہی) کے کیسے آ گئی؟ ڈرے دبے آپس میں بھی ایک دوسرے سے خوفزدہ عوام چند ہفتوں اور مہینوں میں اتنے باشعور اور طاقتور کیسے ہو گئے کہ انہوں نے خاندانی آمریتوں کے بت بحیرہ روم اور بحیرہ عرب میں غرق کر دیئے، وہ بت جن کے پتھر جیسے دل و دماغ میں عوام کے لئے کوئی جگہ ہی نہیں بن پاتی تھی اور عوام کا کام بس ان کی تابعداری و وفاداری قرار پائی تھی۔ قارئین کرام ملاحظہ فرمائیں! کہ شمالی افریقہ کے گھٹے عرب معاشروں کے ان بے بس و بے کس عوام سے بھی زیادہ بے بس و بے حس پاکستانیوں کے جامد رویے کے باوجود آخر وہ کون سے ذرائع ہیں جہاں سے لٹیروں، جاہلوں اور بڑے بڑے قومی مجرموں کے ہتھے چڑھے قائداعظم اور اقبال کی اسلامی جمہوریہ میں تبدیلی رونما ہو رہی ہے۔ بغیر کسی خون خرابے کے، وہ تو جو ملک میں ہو رہا ہے، وہ سٹیٹس کو کی طاقت کے نتائج میں سے ایک نتیجہ ہے نہ کہ کسی انقلابی تبدیلی کے لئے۔
ہماری برپا ہوتی تبدیلی کے راستے کون سے ہیں؟ اور ان میں یہ صلاحیت کیسے آئی؟ تحقیق کی روشنی میں ان سوالات کے جواب جمہوریت، سیاست، نظام ریاست، حکومتی اور عوامی رویوں، سماجی تبدیلی، اقتصادی ترقی میں حائل رکاوٹوں اور جامد معاشروں میں برپا ہوتے تغیر پر تحقیق کرنے والے دنیا بھر کے محققین کے لئے انتہائی اہم اور دلچسپ تحقیقی مفروضے کے طور پر خاکسار اس کا جواب ”آزاد عدلیہ اور میڈیا“ کو قرار دیتا ہے جو باوجود سٹیٹس کو کے طرح طرح کے حملوں (میڈیا اور عدلیہ پر) اور حربوں کے مختصر وقت میں اپنے شاندار ذمہ دارانہ کردار سے انتہائی بنیادی نوعیت کے ایسے نتائج دے رہے ہیں جن کے نکلنے میں سٹیٹس کو میں دراڑیں پڑنے کی رفتار تیز ہوتی جا رہی ہے۔ آزاد عدلیہ کی ذمہ داری اور سرگرمی سے معصوم اور قابل رحم حد تک سادہ ووٹروں کے دولا شاہی رویے سے منتخب ہونے والے وزیراعظم کی عدالتی احکامات کی مسلسل حکم عدولی پر ملک کے طاقتور ترین عہدے سے علیحدگی اور نااہلی اس کا پہلا ثبوت ہے۔ اس کے کرپشن زدہ بیٹوں کے خلاف عدالتی کارروائی دوسرا، خود چیف جسٹس کے بیٹے پر میڈیا میں انگلیاں اٹھنے پر، اس کا عدالتی کٹہرے میں آ جانا تیسرا، پوری طاقت سے عدالتی احکامات کی طویل مزاحمت کے بعد خط لکھنے کی آمادگی چوتھا ثبوت ہے۔ اصغر خان کیس میں سابق آرمی چیف اور آئی ایس آئی کے سابق سربراہ کے خلاف کارروائی کا حکم پانچواں اور ریلوے اراضی کیس میں ایک اور ریٹائرڈ جنرل کی عدالت میں طلبی اور حاضری چھٹا۔ دوہری شہریت کے حامل پارلیمنٹ میں گھسے ہوئے اراکین پارلیمنٹ کی رکنیت سے محرومی ساتواں، حج سکینڈل میں ملوث ایک لمبی پگڑی والے وزیر صاحب کو جیل آٹھواں، بلوچستان کی نااہل حکومت کو حکمرانی کا حق کھونے کی عدالتی آبزرویشن نواں اور اختیارات کے ناجائز استعمال کو روک دینے اور بھاری بھرکم کرپشن پر آزاد عدلیہ کے دسیوں اور فیصلے ہمیں بتا رہے ہیں کہ پاکستان میں حقیقی انصاف کے فلسفے یعنی قانون کے عمودی (ٹاپ ڈاؤن) عملی نفاذ کا عمل شروع ہو گیا ہے اور اس کے افقی (گراس روٹ لیول پر) اطلاق میں کمی نہیں آئی تو یہ اول الذکر (عمودی اطلاق) سے توازن کی طرف بڑھ رہا ہے۔
یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کا آغاز اور ہم پر رحم کی شکل ہے، ظالموں کی رسی دراز کرنے کے بعد ہم دولاشاہی عوام پر اللہ نے رحم کھا لیا۔ تبدیلی کا ذریعہ عدلیہ اور میڈیا کو بنا دیا۔ بلاشبہ یہ صورتحال پیدا کرنے میں میڈیا کے تاریخ ساز کردار کی وضاحت ایک الگ کالم کی متقاضی ہے۔ خاکسار فراہمی انصاف کے تقاضوں کے مطابق یہ تقاضا جلد پورا کرے گا۔ فی الحال چیف جسٹس آف پاکستان کے ان ریمارکس سے میڈیا کے کردار کو سمجھنے کی کوشش کی جائے، جو انہوں نے عدلیہ میں بن بلائے حاضر ہونے والے وزیر داخلہ رحمن ملک سے مکالمے میں دیئے کہ ”میڈیا کی وجہ سے ہی بلوچستان کی صورتحال اجاگر ہوئی اور عدلیہ میں زیربحث آئی“۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں