آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ7؍ ربیع الاوّل 1440ھ 16؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

میں مادرپدر آزاد صحافت کا کبھی بھی قائل نہیں رہا۔ کسی بھی دوسرے شعبہ زندگی کی طرح صحافت کو بھی آئین و قانون کے تابع ہونے کے ساتھ ساتھ ذمہ دار بھی ہوناچاہیے۔ لیکن آج پاکستانی صحافت کا المیہ یہ ہے کہ نہ یہ آزادہے اور نہ ہی ذمہ دار۔ جہاں تک آئین و قانون کے مطابق آزادی کا سوال ہے تو جتنے پاکستانی صحافت کے حالات آج خراب ہیں اتنے شاید کبھی تاریخ میں نہیں ہوئے۔ مجھے صحافت میں آئے تقریباً اٹھائس سال ہو چکے، میںنے بحیثیت صحافی جنرل مشرف کا مارشل لا بھی دیکھا لیکن آزاد صحافت پر دبائو کی جو صورتحال اور جو انداز اس وقت ہے اُس کا مارشل لا دور سے بھی موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔ اس بارے میں مبہم انداز میں کبھی کبھار کوئی صحافی یا کوئی صحافتی ادارہ بات کر دیتا ہے لیکن اس مسئلہ پر کھل کر کوئی صحافتی تنظیم بات کرتی اور نہ ہی میڈیا کا کوئی ادارہ۔ جائز سچ بولنےپر بھی پابندی ہے اور زیادتی کے خلاف آواز اٹھانے کی بھی اجازت نہیں۔ دوسری طرف صحافت کا شعبہ خود بھی اس حد تک غیر ذمہ دار اور گندہ ہو چکاہے کہ صحافیوں کی اکثریت پریشان ہے کہ ہمارا میڈیا کس خطرناک ڈگرپر چل رہا ہے۔ غیر ذمہ داری کی یہ حد ہے کہ لوگوں کی کھلے عام پگڑیاں اچھالی جا رہی ہیں، جسے دل چاہے کرپٹ ڈاکو بنا دو، جھوٹے الزمات لگا دو، دوسروں کی زندگیوں کو

خطرہ میں ڈال دو، اداروں کا مذاق اڑا دو، ریاستی اداروں کے خلاف پروپیگنڈہ کر دو، دوست ممالک کے خلاف بات کر لو، گالی دو، بد زبانی کر لو، جو چاہیے دکھا دو، فحاشی و عریانی جتنی چاہے پھیلا دو کوئی روک ٹوک نہیں۔ قانون جو مرضی کہے، ضابطہ اخلاق کتنا ہی اچھا کیوں نہ ہو، میڈیا خصوصاً ٹی وی چینلز کی حالت ایک ایسے بے لگام گھوڑے کی طرح ہے جو جس رخ ٖ پہ چاہیے بھاگ دوڑتا ہے۔ ویسے تو پیمرا کا دارہ چینلز کو آئین و قانون کے مطابق ریگولیٹ کرنےکےلیے بنایا گیا لیکن پیمرا کی کوئی سنتا نہیں۔ پہلے تو پیمرانے کبھی اپنے آپ کو ایک بااثر ریگولیٹر کے طور پر ثابت کرنے کی کوشش ہی نہیں کی لیکن اگر کبھی اس ادارہ کو ہوش آتا بھی ہے کہ اس کی بھی کچھ ذمہ داریاں ہیں تو پھر اسٹے آرڈر پیمرا کو کچھ کرنے نہیں دیتے۔ نتیجتاً ٹی وی چینلز میں جس کا جو جی چاہتاہے کرتاہے اور یوں غیر ذمہ دارانہ صحافت میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے اور معاشرے میں بہتری لانے کی بجائے میڈیا خرابیاں پھیلانے کا سبب بن رہاہے۔ گویا پاکستان کی صحافت کا آج سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ایک طرف جائز سچ بولنے سے بھی اسے روکا جا رہا ہے، گلہ گھونٹا جا رہا ہے تو دوسری طرف غیر ذمہ دارانہ صحافت جھوٹ، فراڈ، سنسنی خیزی وغیرہ کی کھلی چھٹی ہے۔ حکومت، عدلیہ، پارلیمنٹ یا کسی دوسرے ادارے سے کوئی کیا گلہ کرے ، افسوس کا مقام تو یہ ہے میڈیا کو ان مسائل سے نکالنےکےلیے پاکستانی صحافت خود سنجیدہ ہے نہ متحد۔ صحافیوں کی تنظیمیں ہوں، ایڈیٹرز یامیڈیا مالکان کی ایسو سیئشنز وہ نہ تو پاکستانی صحافت کو ناجائز دبائو سے نکالنے کے لیے یکجا ہیں اور نہ ہی غیر ذمہ دارنہ صحافت کو کنٹرول کرنے میں سنجیدہ۔ ان حالات میں پاکستانی صحافت ہر گزرتے دن کے ساتھ تنزللی اورتباہی کے ایک ایسے راستہ پر گامزن ہے جس کے آگے کوئی بند باندھنے والا نہیں۔
(کالم نگار کے نام کے ساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں 00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں