آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل11؍ربیع الاوّل 1440ھ20؍نومبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
میرے اپنے سابقہ وطن بھوپال جنت مقام نے بہت سی مشہور شخصیات پیدا کی ہیں ان میں حکمراں (خواتین و مرد)، عسکری مہارت داں، ڈاکٹرز، سائنسدان، سیاست داں اور اعلیٰ شعراء کی لمبی فہرست ہے۔ بھوپال کا تذکرہ اکثر کرتا رہتا ہوں اور کیوں نہ کروں کیا آپ کسی لاہوری سے یہ توقع کرسکتے ہیں کہ لاہور بھول جائے یا کراچی والا کراچی اور پشاور اور کوئٹہ والے اور سوات، ہنزہ، چترال والے اپنے پرانے پیدائشی اور رہائشی علاقوں کو کبھی بھول سکتے ہیں۔ نہیں، کبھی نہیں۔ اسی بھوپال جس کی خوبصورتی کو ہمیشہ الفاظ کے دائرے میں مقید کرنے سے قاصر رہا ہوں ایک عربی قصیدے کے ذریعے بیان کرنے کی جسارت کر رہا ہوں۔ یہ قصیدہ ابن خفاجہ (1058-1138) جو اندلس کے رہنے والے تھے، کے دیوان سے مستعار لے رہا ہوں اور اَلا ُندلس کو بھوپال سے تبدیل کرکے بھوپال کی خوبصورتی کا اظہار ان الفاظ میں بیان کررہا ہوں۔
”اے بھوپال کے رہنے والو، اس کے خوبصورت سایوں، تالابوں اور درختوں میں رہنے والو۔ تم کس قدر خوش قسمت ہو۔ جنت بھوپال میں ہے کہیں اور نہیں، اور اگر مجھے جنت اور تمہارے ملک میں سے انتخاب کرنا ہوتا تو میں تمہارے ملک کو ہی پسند کرتا۔ جہنم میں جانے سے خوفزدہ نہ ہو کیونکہ جس نے اس جنت میں لطف اندوزی کی ہے وہ کبھی جہنم میں داخل نہیں ہوگا“۔ سبحان اللہ کیا پیارے الفاظ

میں خفاجہ نے اندلس (اسپین) کی خوبصورتی کو بیان کیا تھا ۔ وہ سب کچھ ہمارا، مسلمانوں کا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے تحفے میں دیا تھا مگر ہم نے اپنی بدکرداری اور باہمی نفاق اور لڑائیوں سے اس کو کھو دیا اور آج ہم اپنے پیارے ملک پاکستان کو اسی طرح تباہ و بربار کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور کسی حد تک کامیاب بھی ہو گئے ہیں۔ تمام نعمتوں کے نوازے جانے کے باوجود ہم غریب، فقیراور بدنام ترین قوم بن گئے ہیں۔
بھوپال کے لاتعداد اعلیٰ شعراء میں محسن بھوپالی کو امتیازی حیثیت حاصل ہے۔ کالم کا ٹائٹل میں نے ان کے اس شعر کی مناسبت سے چنا ہے۔
ہر فسانہ غور سے سنتا ہوں محسن اس لئے
ایک حقیقت کے بھی بن جاتے ہیں افسانے بہت
اگر فیض امروہوی صاحب کا اس سے ملتا جلتا شعر بیان نہ کروں تو ان کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔
بات کتنی ہی حقیقت پہ ہو مبنی لیکن
لوگ ہر بات کو افسانہ بنا دیتے ہیں
میں نے اس کالم کی تمام تمہید اس لئے باندھی ہے اور یہ اشعار اس لئے بیان کئے ہیں کہ پچھلے چند دن تمام اخبارات و ٹی وی پروگرام اصغر خان کیس اور سپریم کورٹ کے فیصلے پر خبروں اور تبصروں سے پُر ہیں۔ سپریم کورٹ نے اصغر خان کی تقریباً 18 سالہ درخواست پر فیصلہ سنا دیا اور اس کی روشنی میں مرحوم صدر غلام اسحاق خان، سابق آرمی چیف جنرل اسلم بیگ اور آئی ایس آئی کے سابق سربراہ اور جرمنی اور سعودی عرب میں سابق سفیر لیفٹیننٹ جنرل اسد درانی کو موردِالزام ٹھہرایا کہ انہوں نے دستور اور قانون کی خلاف ورزی کرکے یونس حبیب سے رقم لے کر سیاست دانوں میں تقسیم کی، آئی جے آئی کی تشکیل کی اور الیکشن پر اثر انداز ہوکر بینظیر کو اور پی پی پی کو شکست دلوائی۔ عدلیہ کے فیصلے کے بعد ہی فرشتوں اور شیطانوں کی صف بندی ہوگئی اور حمایت اور مخالفت میں دھواں دھار الزامات ، لغویات کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ جن لوگوں نے رقومات حاصل کیں اور جن کے نام جنرل اسد درانی اور جنرل نصیر اللہ بابر کے حلفیہ بیانات میں موجود ہیں وہ بھی ان رقومات کی وصولیابی سے منحرف ہوگئے۔ سوال جو اہم ہے اور اس سازش کی بنیاد ہے وہ یہ کہ یونس حبیب جو ایک نہایت کم پڑھا لکھا چھوٹا سا بنکر تھا اس کو کس نے یہ کلیدی رول سپرد کیا اور کس طرح وہ اسٹیٹ بنک اور حبیب بنک کی نگاہوں سے بچ کر ان کے اعلیٰ عہدیداروں کو دھوکہ دے کر اتنی بڑی رقم لٹاتا رہا۔
اصغر خان کیس کی سماعت، گواہوں کے بیانات، متاثرہ لوگوں کے بیانات اور صفائیاں اور عدلیہ کے فیصلے کے بعد کیس نے حقائق اور فسانے کی حیثیت اختیار کرلی ہے۔ الزامات لگانے والے الزامات لگاتے رہے اور ملزمان اپنی صفائیاں پیش کرتے رہے۔ دو اہم شخصیات یعنی غلام اسحاق خان اور جنرل نصیر اللہ بابر رحلت فرما چکے ہیں۔ جنرل بابر کا حلف نامہ موجود ہے مگر بدقسمتی سے غلام اسحاق خان کو ان کی زندگی میں اپنی صفائی کا موقع نہیں دیا گیا اور یہ مقدمہ ان کے انتقال کے 6 سال بعد پایہٴ تکمیل کو پہنچا۔ میرا چونکہ غلام اسحاق خان سے اوائل 1976ء سے بہت ہی قریبی تعلق رہا تھا جو تقریباً 25 سال سے زیادہ عرصہ قائم رہا اور جنرل اسلم بیگ سے اسّی کے عشرہ کے اوائل سے جب وہ چیف آف جنرل اسٹاف بن کر جی ایچ کیو میں آئے تھے اس وقت سے آج تک قریبی تعلقات ہیں۔ جب میں نے یورینیم کی افزودگی کا چارج لیا تو بھٹو صاحب نے اے جی این قاضی، غلام اسحاق خان اور آغا شاہی کا ایک بورڈ بنا کر اور اس کو اپنے تمام اختیارات دے کر ایٹمی پروگرام کو نہایت مضبوط بنیاد پر رکھ دیا۔ اس وقت سے لے کر 20ویں صدی کے اواخر تک خان صاحب اور میرے درمیان نہایت ہی قریبی اور پُراعتماد تعلقات تھے اور بیشمار ملاقاتیں ہوتی تھیں۔ اسی طرح جب جنرل بیگ سی جی ایس بنے تو ہمارے درمیان بہت قریبی تعلقات قائم ہوگئے کہ کے آر ایل اس وقت آرمی کے لئے کئی دفاعی ہتھیار بنانے میں مصروف تھی۔ میں لاتعداد مرتبہ ان سے گھر پر بھی ملا اور ساتھ کھانا کھانے کا شرف بھی حاصل ہوا۔ وہ جب وائس چیف بنے تو بھی اور بعد میں جب آرمی چیف بنے تو بھی نہایت قریبی اور اچھے تعلقات رہے۔ وہ ایک پڑھے لکھے مہذب اور وسیع مطالعہ افسر تھے۔ انہی کی مدد سے میں نے چین کے ساتھ M-II میزائل کا کنٹریکٹ کیا تھااور خانپور کے پاس فیکٹری بھی میری ہی نگرانی میں قائم ہوئی اور شروع میں میزائل بھی میری ہی سرپرستی میں تیار ہوئے۔ ایڈمرل سروہی چےئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف بنے تو انہوں نے مجھے میزائل پروگرام کا چیف کوآرڈینیٹر بنا دیا تھا اور میں نے یہ ذمہ داری دس سال تک انجام دی اور مشرف کے حکومت کا تختہ اُلٹنے کے بعد میرا سلسلہ ختم ہوا۔
میں یہاں یہ عرض کرنا چاہ رہا ہوں کہ اتنے طویل، برسوں کے نہایت قریبی تعلقات اور باقاعدہ ملاقاتوں میں، میں نے غلام اسحاق خان کو کبھی بھی کسی سیاسی کارروائی میں ملوث نہیں دیکھا، کبھی بھی ان کے منہ سے کسی بھی سیاست داں کے بارے میں ایک لفظ بھی نازیبا نہیں سنا۔ وہ فرشتہ خصلت نہایت ایماندار، محب وطن پاکستانی تھے۔ ان سے بہتر نہ کوئی صدر ملا اور نہ ہی ملنے کی توقع ہے۔ ایوان صدر کی ملاقاتوں میں میں نے کبھی وہاں اصغر خان کیس سے متعلق کسی شخص کو خان صاحب یا ان کے ایم ایس بریگیڈیئر محمد عجائب کے پاس دیکھا۔ بریگیڈیئر عجائب ایک ہیرا افسر تھے اور غالباً خان صاحب کے ساتھ 5 سال وفاداری سے کام کرنے کے جرم میں وہ پروموشن سے محروم ہوگئے۔
جنرل اسلم بیگ کے ساتھ میری موجودگی میں ہونے والے ایک واقعے کا تذکرہ کرنا چاہوں گا۔ بیگ صاحب آرمی چیف تھے میں ان سے ملاقات کرنے جی ایچ کیو میں ان کے دفتر میں موجود تھا۔ چیف الیکشن کمشنر جسٹس نصرت ان سے ملنے آئے۔ میں نے جانا چاہا بیگ صاحب نے روک لیا۔ گفتگو الیکشن کی جانب رخ کرگئی اور جسٹس نصرت نے کہا کہ ایسا اندازہ ہے کہ بینظیر بھٹو اور ان کی پی پی پی پارٹی الیکشن جیت لے گی۔ وہ غالباً جنرل بیگ کا ردعمل دیکھنا چاہتے تھے۔ بیگ صاحب نے ایک لمحہ تردد کئے بغیر کہا کہ اگر محترمہ الیکشن جیتتی ہے تو وہی حکومت بنائے گی، یہ ان کا دستوری حق ہے۔ بعد میں بھی میں نے کبھی بھی بیگ صاحب سے بینظیر صاحبہ یا کسی اور سیاست داں کے بارے میں ایک مخالفانہ لفظ نہیں سنا۔
اب سوال یہ ہوتا ہے کہ اگر نہ ہی خان صاحب اور نہ ہی جنرل بیگ نے کبھی کوئی ایسا اظہار کیا تو پھر بینظیرصاحبہ کی حکومت کو گھر بھیجنے کی اور آئندہ الیکشن میں شکست دلوانے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ میں اس کی ممکنہ وجہ بتاتا ہوں، یہ میرا ذاتی خیال ہے۔
بینظیر صاحبہ کی حکومت بنتے ہی زرداری صاحب کی رشوت ستانی کے واقعات بین الاقوامی شہرت حاصل کرگئے اور انہوں نے دنیا میں قابل رشک ٹائٹل مسٹر ٹین پرسنٹ حاصل کرلیا۔آئی بی، آئی ایس آئی، ایف آئی اے وغیرہ مسلسل مصدقہ تفصیلات سے صدر کو اور آرمی چیف کو آگاہ کررہے تھے۔ اس واقعے نے بہت بُرا رول ادا کیا۔ اس کے علاوہ سکھ مزاحمت پسندوں اور خالصتان کے سرکردہ لیڈروں کی تفصیلات اپنے خاص رفیق کار کے ذریعے ہندوستان کو دینا بھی سب ہی کو وطن دشمنی نظر آئی۔ ہندوستان مشرقی پنجاب میں الجھا ہوا تھا اور کشمیریوں کو کچھ سکون مل گیا تھا۔ ان دو واقعات سے زیادہ اہم اور الارمنگ محترمہ کی کوشش تھی کہ یورینیم کی افزودگی کو 5 فیصد پر منجمد کردیا جائے۔ اپنا اختیار سنبھالنے کے چند ماہ بعد ایوان صدر میں ایک اہم میٹنگ ہوئی جس میں غلام اسحاق خان، جنرل اسلم بیگ،جنرل امتیاز، محترمہ بینظیر صاحبہ اور میں شامل تھے وہاں انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ کیونکہ وہ امریکہ جانے والی تھیں اس لئے امریکہ کی خوشنودی حاصل کرنے اور مدد لینے کے لئے ضروری تھا کہ افزودگی کو 5 فیصد پر منجمد کردیا جائے اور مجھے یہ ہدایت دے دی۔ یہ بات کسی کو بھی پسند نہ آئی کیونکہ نہایت مشکل حالات میں اور دباؤ میں بھٹو صاحب اور جنرل ضیاء نے ایٹمی پروگرم پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا تھا۔ فوج اور آئی ایس آئی اس سے بہت ناراض ہو گئے تھے اور بعد میں انہی (اور زرداری صاحب کی کارستانیوں کی) وجہ سے جنرل وحید کاکڑ نے ایٹمی پروگرام کو مکمل طور پر آرمی کنٹرول میں لے لیا تھا۔ میرے خیال میں یہ وہ وجوہات تھیں جن کی وجہ سے حکومت برخاست کی گئی، آئی جے آئی بنائی گئی اور شکست کے اسباب پیدا کئے گئے لیکن ان کی جانب سے جنرل درانی کی پذیرائی اور سفیر بنانا ناقابل سمجھ ہے ۔ میں غلام اسحاق خان اور بیگ صاحب کی حب الوطنی کے بارے میں شک نہیں کرسکتا ۔ میری جنرل درانی سے سرسری واقفیت تھی اور سینئر فوجیوں کی ان کے بارے میں اچھی رائے نہ تھی۔ وہ غالباً ان سے زیادہ واقف تھے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں