آپ آف لائن ہیں
جمعہ 10؍محرم الحرام 1440ھ 21؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
عام انتخابات امریکہ میں ہوں یا پاکستان میں، دونوں صورتوں میں اس کے گہرے اثرات ملکی سیاست، معیشت اور عوام پر مرتب ہوتے ہیں جس میں پاکستان کو بہرحال زیادہ فوائد تو حاصل نہیں ہوتے البتہ کئی خطرات اور مسائل میں قدرے کمی آجاتی ہے۔ امریکہ میں تو آئندہ چار سال کے لئے انتخابات6نومبر کو ہورہے ہیں جس میں امریکی عوام یہ فیصلہ کریں گے کہ آئندہ وائٹ ہاؤس میں کس نے بیٹھنا اور واشنگٹن ڈی سی کس کے پاس ہوگا ، اس سلسلہ میں صدر باراک اوباما رومنی دونوں پرامیدہیں۔ وہاں حالیہ سمندری تباہی(سینڈی) کی تباہ کاریوں کے باوجود مقررہ وقت پر الیکشن ہورہے ہیں۔ امریکی حکومت نے حالیہ سمندری تباہی کو سینڈی کا نام شاید اس لئے دیا ہے کہ سٹی بنک کے ایک سربراہ سینڈی برگر بھی ہیں جو ہمارے سابق وزیر اعظم شوکت عزیز کے دوستوں میں سے ہیں۔ وہ جب بھی امریکہ جاتے ہیں سینڈی سے نیویارک میں ضرور ملتے ہیں، دونوں ہی مالی طور پرمضبوط ہونے کی وجہ سے بڑے گہرے دوست ہیں۔ اب امریکہ میں حالیہ سمندری تباہی کو جب سینڈی کا نام دیا گیاتو ہمیں سٹی بنک اور نیویارک سٹاک ایکسچینج والے سینڈی کا خیال آگیا۔ امریکہ میں غالباً 1845ء سے ہمیشہ نومبر کے پہلے منگل کے روز الیکشن کرانے کا سلسلہ چلا آرہا ہے، اس وقت امریکہ میں آبادی کی اکثریت کاشتکاری سے وابستہ تھی جو صرف

منگل ہی کے روز فارغ ہوتی تھی۔ کاش پاکستان میں بھی عام انتخابات کے لئے پانچ نہیں تو کم از کم چار سال کے بعد کی مدت کا کوئی ایک ہفتہ مقرر کرایا جائے، اس سے ہمارے سیاسی اور جمہوری نظام کی میچورٹی اور استحکام میں بڑی مدد ملنے سے ملک میں عوامی احتساب اور معیشت دونوں شعبوں کو بڑا فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ انتخابات کے حوالے سے دلچسپ بات یہ ہے کہ جب یہ امریکہ میں ہوتے ہیں تو اس کے بھی بڑے گہرے اثرات ہمارے پورے حالات خاص کر گورننس ،معیشت اور سلامتی پر مرتب ہوتے ہیں تاہم دونوں بڑی پارٹیوں میں ایک چیز پر اتفاق ہوتا ہے کہ پاکستان کو معاشی طور پر آزادی سے چلنے نہیں دیتا اور نہ ہی انہیں ایٹمی طاقت ہونے کے باوجود خود اعتمادی اور اپنی سلامتی کا دفاع کرنے کی صلاحیت کو استعمال کرنے کی ہمت دینا ،اس کے لئے پاکستان میں کمزور سیاسی قیادت ہر دور میں بڑی مدد گار ہوتی ہے جس کے پاس عوامی مینڈیٹ تو ہوتا ہے مگر ملکی سیاسی، معاشی اور عوامی مسائل حل کرنے کی صلاحیت نہیں ہوتی۔ اس کی مثال موجودہ حکومت سے لے کر 1980ء کے بعد سے قائم ہونے والی تقریباً تمام حکومتیں ہیں۔ اس کے برعکس پاکستان میں جب الیکشن ہوتے ہیں تو اس کے اثرات بھی امریکی خارجہ اور دفاعی پالیسیوں پر برے پڑے ہیں۔
امریکہ میں یہودی اور بھارتی لابی، امریکی حکومت کو یہ بار آور کرانے میں کامیاب ہوجاتی ہیں کہ پاکستان ایک غیر سنجیدہ ملک ہے جہاں نہ گورننس بہتر ہے اور نہ امن و امان کی صورتحال اطمینان بخش ہے۔ وہاں کوئی بھی غیر ملکی شخص یا سرمایہ محفوظ نہیں ہے، کئی دفعہ تو امریکی حکام اس پاکستان دشمن لابی کے زیر اثر آجاتے ہیں لیکن کئی بار وہ اپنے مخصوص مفادات کے پس منظر میں دفاعی ،معاشی اور قومی سلامتی کے شعبوں کو کمزور کرنے کے باوجود تھوڑی بہت مالی سپورٹ کرتے یا عالمی بنک یا آئی ایم ایف وغیرہ سے کراتے رہتے ہیں۔ اس طرح الیکشن امریکہ میں ہوں یا پاکستان میں دونوں صورتوں میں اس کے اثرات پاکستانی نظام اور عوام دونوں پر پڑتے ہیں۔ امریکہ میں تو عام انتخابات کا مرحلہ6نومبر کو مکمل ہوجائیگا جبکہ پاکستان میں اگلے سال اپریل سے پہلے ممکن ہے کہ انتخابات کا انعقاد ہوجائے بشرطیکہ اس سے پہلے کچھ اور نہ ہوجائے۔ خدا کرے پاکستان میں صحیح طریقے سے غیر جانبدارانہ اور بروقت انتخابات کا رواج پڑجائے۔ اس سے جمہوریت اور عوام دونوں کو بڑا فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ اس وقت امریکی اور پاکستانی معیشت بھی دباؤ میں نظر آرہی ہے وہاں حالیہ سمندری طوفان جس کے بارے میں یہ کہانیاں بھی زیر بحث ہیں کہ چونکہ امریکہ نے اسامہ بن لادن کو سمندر میں پھینکا تھا۔ یہ طوفان اس کے ردعمل میں آیا ہے جس کی ذمہ داری بھی طالبان نے قبول کرلی ہے تاہم یہ بات طے ہے کہ اس سمندری طوفان سے امریکی معیشت کو اربوں ڈالر کا بالواسطہ اور بلاواسطہ نقصان ہوگا لیکن وہاں بنیادیں مضبو ط ہونے کی وجہ سے شاید اس کے ا ثرات طویل نہ ہوں۔ پاکستان تو بدانتظامی کرپشن، سماجی اور معاشی ناہمواری ، امن و امان کی پریشان کن صورتحال ،بے روزگاری، غربت ،بے قابو گرانی اور ذخیرہ اندوزی کے حالات سے دو چار ہے اور ایسے لگتا ہے کہ یہ منفی صورتحال اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک ملک کو جمہوری اور معاشی طور پر مضبوط بنانے اور اپنے وسائل پر انحصار بڑھانے والی سیاسی قیادت میسر نہیں آجاتی۔ اس وقت تو عوامی ریڈار سکرین دھندلی نظر آرہی ہے۔ روشنی کی کرن کی امید سب کو ہے لیکن یہ امیدکیسے بر آئے گی اس کے لئے فیصلہ امریکہ، بھارت یا یہودی لابی نے نہیں بلکہ پاکستانی عوام نے کرنا ہے جنہیں پریشان کن معاشی حالات نے ذہنی طور پر کئی مسائل سے دوچار کردیا ہے۔ اب تو سیاسی قائدین کے نعروں پر جانے کی بجائے انکے عمل اور مستقبل کے پروگراموں کو دیکھنے اور پرکھنے کی ضرورت ہے۔ اس سے امریکی نہیں، پاکستانی انتخابات کی طرف عوام کا رجحان بڑھے گا جو وقت اور حالات کا سب سے بڑا تقاضا ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں