آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار9؍ربیع الاوّل1440ھ 18؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ ملک بھر میں عید امن و امان سے منائی گئی اور کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا جس پر قانون نافذ کرنے والے ادارے مبارکباد کے مستحق ہیں۔ عید پر میرا معمول رہا ہے کہ یمن کے اعزازی قونصل جنرل کی حیثیت سے اپنے بھائی اشتیاق بیگ جو مراکش کے اعزازی قونصل جنرل ہیں، کے ہمراہ کراچی میں متعین مختلف اسلامی ممالک کے سفارتکاروں کے ہمراہ باغ جناح میں گورنر سندھ کے ہمراہ نماز عید ادا کرتا ہوں۔ اس بار نماز عید میں گورنر سندھ محمد زبیر اور میئر کراچی وسیم اختر کے علاوہ ایم کیو ایم پاکستان کے کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، ڈاکٹر فاروق ستار، عامر خان اور خواجہ اظہار الحسن بھی شریک تھے۔ نماز عید کی ادائیگی کے بعد ہم دونوں بھائی اپنے بیٹوں کے ہمراہ والدین کی قبروں پر فاتحہ کیلئے گئے اور وہاں سے واپسی پر بزنس کمیونٹی کے لیڈرز کے ساتھ گورنر ہائوس کراچی میں گورنر سندھ محمد زبیر سے ملاقات کی۔ بعد ازاں گھر پر میڈیا کے نمائندوں اور پیپلزپارٹی کے ورکرز سے ملاقاتیں کیں جبکہ شام میں کور کمانڈر کراچی شاہد بیگ مرزا اور ڈی جی رینجرز میجر جنرل محمد سعید نے ہمیں چائے پر مدعو کیا۔ فیملی میں بڑا ہونے کی حیثیت سے میری بہنیں اور بھائی اپنی فیملی کے ہمراہ عید کے پہلے روز میرے گھر کھانے پر مدعو ہوتے ہیں جس میں اس

بار میرے سمدھی سابق نیول چیف اور چیئرمین نیب ایڈمرل ریٹائرڈ فصیح بخاری جو اسلام آباد سے عید منانے خصوصی طور پر کراچی آئے تھے، نے بھی اپنی فیملی کے ہمراہ شرکت کی جبکہ دوسرے روز انہوں نے میری فیملی کے اعزاز میں نیول فلیٹ میس میں پرتکلف عشایئے کا اہتمام کیا۔ ڈائننگ ہال میں پاکستان نیوی کی وہ یادگاری تصویریں بھی آویزاں تھیں جس میں پاکستانی آبدوز سے بھارتی جہاز تباہ کرنے کی تصویریں بھی شامل تھیں۔ اس موقع پر فصیح بخاری نے بتایا کہ 1971ء کی پاک بھارت جنگ میں ہماری سب میرین نے صرف 3 راکٹ فائر کرکے بھارتی جنگی جہاز جس پر 194 سے زائد بھارتی میرین سوار تھے، کو تباہ کیا تھا۔ عشایئے کے دوران کارگل سے لے کر جنرل پرویز مشرف کی حکومت، نیول چیف کے عہدے سے استعفیٰ دینے، چیئرمین نیب بننے پر نواز شریف اور افتخار محمد چوہدری کی مخالفت کے حوالے سے ایڈمرل فصیح بخاری سے ہونے والی طویل اور دلچسپ گفتگو نے ماضی کی یادیں تازہ کردیں۔
عید کے دوسرے روز بزنس کمیونٹی کے لیڈر ایس ایم منیر نےمعروف ہوٹل میں بزنس کمیونٹی کے نمائندوں اور فیڈریشن کے عہدیداروں کے اعزاز میں ’’عید ملن‘‘ کا اہتمام کیا جس میں میرے علاوہ نگراں صوبائی وزیر جمیل یوسف، سراج قاسم تیلی، جنرل (ر) معین الدین حیدر، فیڈریشن کے سینئر نائب صدر مظہر اے ناصر، نائب صدور، خالد تواب، زبیر طفیل، عارف حبیب، یاسین ملک، عبدالسمیع خان، گلزار فیروز اور انور قریشی کے علاوہ بڑی تعداد میں بزنس مینوں نے اپنی فیملی کے ساتھ خصوصی طور پر شرکت کی۔ عید ملن میں آئندہ عام انتخابات میں بزنس کمیونٹی کے نمائندوں کا حصہ لینا اور حکومت کی نئی ایمنسٹی اسکیم زیر بحث رہی۔ عید کے تیسرے دن نگراں وزیر خزانہ اور سابق گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر شمشاد اختر نے نئی ایمنسٹی اسکیم کو کامیاب بنانے کیلئے چند بزنس مینوں سے اہم ملاقات کی جس میں مجھے بھی مدعو کیا۔ ڈاکٹر شمشاد کے بقول زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی کے پیش نظر بزنس مینوں کو 30 جون سے پہلے ایمنسٹی اسکیم سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔ شام میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ (NICH) میں زیر علاج بچوں میں تحائف تقسیم کئے۔ اس موقع پر میری بیٹی حیا بھی موجود تھیں جنہوں نے ان بیمار بچوں کیلئے خود تحائف پیک کئے اور NICH کی پہلی منزل سے چھٹی منزل تک بچوں میں تقسیم کئے۔ اس دوران زیادہ تر بیمار بچوں کے والدین نے NICH کی خدمات اور بچوں کے علاج پر مکمل اطمینان کا اظہار کیا۔ دورے میں میرے ساتھ سوشل اسٹوڈنٹس فورم کے نفیس احمد خان اور دیگر عہدیدار ، پیپلز پیرا میڈیکل فورم کے صدر اور ہیلتھ کوآرڈی نیٹر عامر شاہ، پیپلزپارٹی NICH یونٹ کے صدر چوہدری فیصل اور پیپلز اسٹوڈنٹس فورم (PSF) کے نمائندے بھی موجود تھے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت ایک پرائیویٹ این جی او نے حکومت سندھ کے اشتراک سے NICH میں جدید کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم نصب کیا ہے جس سے 190 سی سی ٹی وی کیمرے منسلک ہیں جن کے ذریعے NICH کے استقبالئے سے لے کر بچوں کے ہر وارڈ میں موجود افراد کی نقل و حرکت کی مانیٹرنگ کی جاتی ہے اور مانیٹرنگ سسٹم میں گزشتہ 40 دن کا ڈیٹا محفوظ رہتا ہے۔ کنٹرول سسٹم کے انچارج کے مطابق ماضی میں زیادہ تر نومولود بچے انکیوبیٹر سے اغواء کرلئے جاتے تھے جس کی روک تھام کیلئے NICH کے انکیوبیٹرز میں موجود 60 نومولود بچوں کے ہاتھوں پر ٹریکنگ آئی ڈیز (IDs) لگائی گئی ہیں جن کے ذریعے بچوں کی سخت نگرانی کی جاتی ہے۔ انکیوبیٹر میں اُن بچوں کو رکھا جاتا ہے جو پیدائش کے وقت انتہائی کمزور اور ناتواں ہوں۔ ایسے بچوں کو خصوصی نگہداشت کے ذریعے اِس قابل کیا جاتا ہے کہ وہ ماں کی آغوش میں دیئے جاسکیں۔ دوران علاج انکیوبیٹرز میں موجود تمام بچوں کی نقل و حرکت ریکارڈ کی جاتی ہے تاکہ اگر کوئی شخص کسی بچے کو اغواء کرنے کی کوشش کرے تو اطلاعی الارم بجنے پر اُسے فوراً پکڑا جاسکے۔ سینٹر کے انچارج کے بقول کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کی تنصیب کے بعد سے اب تک کسی بچے کے اغوا کی شکایت سامنے نہیں آئی جس سے نومولود بچوں کی مائوں کا NICH کی سیکورٹی پر اعتماد بحال ہوا ہے۔
ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان سمیت دنیا بھر میں ہر سال تقریباً 12 لاکھ سے زائد بچے اغوایا اسمگل کرلئے جاتے ہیں۔
پاکستان میں اغواکئے جانے والے زیادہ تر بچے یا تو بے اولاد جوڑوں کو فروخت کردیئے جاتے ہیں یا پھر اُنہیں بھیک منگوانے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔ بچہ چند دن کا ہو یا چند سال کا، اپنی ماں کی گود میں ہی سکون محسوس کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ماں کی قربت میں بچے کیلئے ایک انمول کشش رکھی ہے لیکن جو مائیں غفلت، کوتاہی یا کسی مجبوری کے باعث بچوں کو اپنی قربت سے محروم رکھتی ہیں، اُن کے بچے زندگی بھر ماں کی محبت کی کمی محسوس کرتے رہتے ہیں۔لخت جگر کے بچھڑنے کے کرب کا اندازہ والدین سے بڑھ کر کوئی نہیں لگاسکتا لہٰذا حکومت اور بچوں کے اغواکی روک تھام میں مصروف عمل این جی اوز سے درخواست ہے کہ وہ نومولود بچوں کے اغواکے سدباب کیلئے NICH میں نصب کیا گیا کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم ملک بھر میں متعارف کرائیں تاکہ کسی ماں کی گود نہ اُجڑ سکے۔میرے لئے یہ بات تکلیف دہ ہے کہ عید کے پرمسرت موقع پر جب پوری قوم خوشیاں منارہی تھی، یہ غریب بچے بیماری سے تنہا جنگ لڑرہے ہیں اور ان کے والدین محدود وسائل کے باعث ان بچوں کو عید کی چھٹیوں پر اندرون سندھ یا بلوچستان اپنے گھر لے جانے کی استطاعت نہیں رکھتے تھے۔ پروفیسر زینت عیسانی نے کئی دہائیوں پہلے بینظیر دور حکومت میں کراچی میں حکومت سندھ اور پرائیویٹ سیکٹر کے تعاون سے NICH کی بنیاد رکھی تھی لیکن اندرون سندھ اور بلوچستان میں کمسن بچوں کیلئے اس طرح کے اسپتال اور سہولتیں نہ ہونے کی وجہ سے والدین کو اپنے بیمار بچوں کا علاج کروانے کیلئے دور دراز علاقوں سے کراچی تک طویل سفر کرنا پڑتا ہے جس کے باعث کئی کمسن بیمار بچے زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں۔ حکومت سے درخواست ہے کہ اسی طرز پر اندرون سندھ اور بلوچستان میں بھی کمسن بچوں کے علاج کیلئے اسپتال قائم کئے جائیں تاکہ والدین کو دور دراز علاقوں سے علاج کیلئے کراچی نہ آنا پڑے۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں