آپ آف لائن ہیں
بدھ8؍ محرم الحرام1440ھ 19؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

چین ایک غیر فوجی مگر معاشی حکمت عملی کے طریقہ کار کو اختیار کرتے ہوئے دنیا میں اپنے تعلقات کو قائم کر رہا ہے۔ جبکہ سعودی عرب یہ دیکھ رہا ہے کہ امریکہ کی منڈی میں پٹرول کی مصنوعات کی کھپت گھٹ رہی ہے اور سعودی عرب کی چونکہ معیشت کی بنیاد تیل کی آمدن پر ہے تو وہ اپنی ایکسپورٹ کو برقرار رکھنے کیلئے چین اور ایشیاء کے دیگر ممالک کی جانب دیکھ رہا ہے۔ بالکل اسی طرح چین کو اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کی خاطر سعودی عرب کے تیل پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے۔ چین نے اپنی ان ضروریات کا احساس گزشتہ صدی کی آخری دہائی میں کر لیا تھا اور چین کے رہنماء جیانگ زیمن نے پہلی بار 1996ء میں عرب لیگ سے وابستہ ممالک کا دورہ کیا تھا۔ اور چین کے تعلقات کی داغ بیل ڈال دی تھی۔ پھر اس کے بعد 2004ء میں چائنا عرب اسٹیٹس کوآپریشن فورم کا قیام عمل میں آ گیا تھا۔ شام میں جو خانہ جنگی کی صورتحال بنی اس میں ابتداء میں امریکہ نے اس انداز میں کردار ادا کرنا چاہا کہ جیسے وہ جو چاہے گا کر گزرے گا۔ اور دنیا کی کوئی دوسری طاقت اُسے اپنے عزائم سے باز رکھنے کی طاقت نہیں رکھتی۔ مگر ہوا یہ کہ روس نے تو بغیر کسی پردے کے امریکی عزائم کی راہ میں مقابلے کی ٹھان لی اور چین بھی اپنے موقف اور حکمت عملی کے ساتھ سامنے آیا کہ جس سے یہ تصور پاش پاش ہو گیا کہ

امریکہ مشرق وسطیٰ میں تنہا طاقت کے طور پر موجود ہے۔ جب میں طاقت کا ذکر کر رہا ہوں تو اس سے مطلب صرف فوجی برتری نہیں بلکہ وہ معاشی مفادات بھی ساتھ ساتھ ہیں جو ان ممالک کی معیشت میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ جیسا کہ پہلے ذکر کیا ہے کہ امریکہ میں تیل کی کھپت گر گئی ہے جبکہ چین کے حوالے سے ان کا سرکاری دعویٰ یہ ہے کہ 2030ء تک چین کو یومیہ 13.8 ملین بیرل تیل کی ضرورت ہوگی اور یہ ضرورت صرف عرب ممالک سے ہی پوری کی جا سکتی ہے۔ چین کی سعودی عرب سے تیل خریدنے کی یہ صورتحال ہے کہ 2009ء میں چین سعودی عرب سے امریکہ سے زیادہ پٹرول خریدنے کی سطح تک چلا گیا تھا۔ جبکہ چین، جاپان، جنوبی کوریا ، بھارت اور سنگا پور کو سعودی عرب اتنا تیل دے رہا ہے کہ جو یورپ کو تیل فراہم کرنے کے مقابلے میں تین گناہ زیادہ ہے۔ اس سے یہ بالکل واضح ہوتا ہے کہ سعودی عرب کی تیل کی معیشت کا اب زیادہ دارومدار چین اور دیگر ایشیائی ممالک پر ہے۔ اسی سبب سے چین نے اپنے تعلقات کو سیاسی اور سفارتی سطح پر بھی سعودی عرب سے مضبوط کرنے کی غرض سے اقدامات اٹھانے شروع کر دیئے ہیں۔ خیال رہے کہ بڑے مسلمان ممالک جیسے پاکستان، نائجیریا، ترکی، ایران اور ملائیشیاء وغیرہ پہلے ہی اپنی معیشت کے معاملات میں چین کے ساتھ قریبی تعلقات استوار کر رہے ہیں۔ مگر 2016ء میں چین کے صدر شی پنگ نے ریاض اور تہران کا ایک ہی بار میں اکٹھا دورہ کر کے اور دونوں ممالک سے ایک ساتھ خیر سگالی کے تعلقات کا پیغام سمیٹ کر یہ واضح کر دیا کہ چین عالمی طاقتوں میں وہ واحد طاقت ہے جو ایک ساتھ نہ صرف کہ ان دونوں ممالک سے تعلقات رکھتی ہے بلکہ یہ تعلقات باہمی مفاد پر بھی مشتمل ہے۔ اس دورے کے دوران چین کے صدر نے ایران میں 600 ارب ڈالر کے معاہدوں پر دستخط کیے جو کہ 10 سال میں عمل پذیر ہونگے۔ اس دورے سے چین اور سعودی عرب کے ابھرتے ہوئے تعلقات کا بھی واضح طور پر اظہار ہو رہا تھا ۔ بات صرف ایران تک ہی محدود نہیں تھی۔ مگر اس سے یہ مطلب اخذ نہیں کر لینا چاہیے کہ سعودی عرب اپنا کیمپ تبدیل کر رہا ہے۔ یہ بات بالکل واضح ہے کہ سعودی عرب اور سعودی شاہی خاندان کو اپنی بقاء کی خاطر بہت حد تک امریکہ پر تکیہ کرنا پڑتا ہے۔ اس لئے امریکہ کو مطمئن کرنے کی غرض سے سعودی عرب امریکہ سے تیل کی معیشت کے متبادل معاشی تعلقات استوار کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ سعودی ولی عہد اس ضمن میں نہایت متحرک ہے اور وہ نئے منصوبے پیش کر رہے ہیں۔ ویسے بھی سعودی عرب یہ بات اچھی طرح سے جانتا ہے کہ خلیج فارس اور وہاں کی بحری تجارت کی حفاظت کی خاطر جو فوجی صلاحیت درکار ہے وہ صرف امریکہ کے پاس ہے۔ اور چین بھی اس حقیقت سے اچھی طرح سے آگاہ ہے۔ اسی لئے چین نے فوجی اعتبار سے وہاں پر اپنے قدم نہیں جمائے کیونکہ چین معاشی ، سیاسی اور سفارتی تعلقات کی مضبوطی کی ڈاکٹرائن پر مشرق وسطیٰ میں کام کر رہا ہے۔ اور امریکہ کی فوجی برتری اس سبب سے بھی ہے کہ امریکہ کے پورے خلیج فارس میں فوجی اڈے موجود ہیں۔ اگر چین اس کی حفاظت کی خاطر فوجی مقاصد کا آغاز کر دے تو اس کی معیشت پر ایک غیر معمولی بوجھ اور سرد جنگ کی کیفیت پیدا ہو جائے گی۔ لہٰذا یہ اس وقت چین اور سعودی عرب دونوں کے مفاد میں ہے کہ امریکہ کی فوجی طاقت اپنی جگہ پر موجود رہے۔ سعودی عرب کے اس لئے بھی مفاد میں ہے کہ امریکہ کی فوجی برتری کے سبب سے سعودی عرب ایران کے خطرے کو کم محسوس کرے گا۔ لیکن اگر امریکہ اس خطے میں کسی وجہ سے بھی پیچھے ہٹ جاتا ہے اور چین آگے آ جاتا ہے تو اس کا فوجی رویہ ایران سے وہ نہیں ہوگا جو امریکہ کا ہے۔ اور اس سے ایران کو اپنے مقاصد حاصل کرنے میں نسبتاً آسانی ہو جائے گی۔ لیکن یہ بھی نوشتہ دیوار ہے کہ اگر سعودی عرب چین پر معاشی اعتبار سے انحصار کرے گا تو چین ، ایران اور سعودی عرب کو اپنے اپنے کیمپوں تک محدود رکھنے کی طرف چل سکتا ہے۔ کیونکہ اپنے حلیفوں کے درمیان لڑائی چین کے مفاد میں نہیں ہو گی۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں