آپ آف لائن ہیں
جمعہ 10؍محرم الحرام 1440ھ 21؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دنیا میں جب سے تھیٹر بنا ہے اس کی پہچان شور شرابے، اونچے ڈائیلاگ، شوخ و شنگ لباس اور بلند آہنگ لہجے رہے ہیں۔ یونانی ڈرامہ نویس ہوں یا رومن کردار، شیکسپیئر کے المیہ ڈرامے ہوں یا طربیہ ڈرامے، سب کی قدر مشترک اونچی آوازیں رہی ہیں۔ اس زمانے میں لائوڈاسپیکر نہیں ہوتے تھے مگر اداکار اتنا زور سے بولتے تھے کہ تھیٹر کے آخری کونے میںبیٹھا ہوا شخص بھی ان کے مکالمے آسانی سے سن سکتا تھا۔ دنیا بدلتی رہی مگر تھیٹر کا شورشرابہ اسی طرح چلتا رہا تاآنکہ برطانیہ کے نوبیل انعام یافتہ ہیرالڈ پنٹر (1930تا 2008) نے اس ریت کو توڑا اور خاموش تھیٹر (Theatre of Silence)کا آغاز کیا۔ پنٹر نے خاموشی سے وہ کام کیا جو شورشرابے کے ڈرامائی تاثر سے بھی زیادہ تھا۔ خاموشی ٹوٹتی ہے تو مشکلات آتی ہیں، خطرات بڑھتے ہیں۔ زندگی کے سکون کو ہلا دینے والا ہر پتھر نقصان دیتا ہے۔
اگر تھیٹر کی نگاہ سے دیکھیں تو پاکستان ہیرالڈپنٹر کے ڈرامے "The Room" کی وہ بڑھیا ہے جو کمرے میں خاموش اور تنہا بیٹھی ہے۔ اسے نسبتاً سکون حاصل ہے مگر جب بھی دروازہ کھلتا ہے کوئی نہ کوئی تکلیف، کوئی نہ کوئی مسئلہ اس بڑھیا کی مشکلات میں اضافہ کرتا ہے۔ ’’کمرہ‘‘ کی کہانی ہوبہو ریلوے کے اس ڈبے کی کہانی ہے جس میں پہلے سے بیٹھے لوگ ہر نئے آنے والے کو خشمگیں نگاہوں سے دیکھتے ہیں

اور اگلے اسٹاپ پر وہی نئے آنے والے اگلے نئے آنے والوں کو ناپسندیدگی سے دیکھتے ہیں۔
آج کا پاکستان، ہیرالڈ پنٹر کا خاموش تھیٹر ہے۔ ہر کسی کا اس تھیٹر کے بار ےمیں اپنا نقطہ نظر ہے۔ ہر کسی نے اپنے اپنے تعصب کی عینک پہن رکھی ہے۔ کوئی بھی حقائق کو کھلی آنکھوں سے دیکھنے کو تیار نہیں بلکہ ہر معاملے کو تعصب کی عینک لگا کر دیکھتا ہے، جس سے حقائق توڑے موڑے نظر آتے ہیں۔ معاشرہ سیاسی طور پر اتنا سخت تقسیم زدہ کبھی نہ تھا۔ ایک دوسرے کی مصیبتیں بھی ہمیں جھوٹ نظرآتی ہیں۔ کلثوم نواز کینسر کی بیماری میں مبتلا ہیں۔ نواز شریف اور مریم ان کی عیادت کے لئے لندن میںموجود ہیں مگر اب بھی کئی لوگوں کو تعصب کی عینک سے یہ سیاسی اسٹنٹ لگ رہا ہے۔ دوسری طرف عمران خان کی طرف انتخابی گھوڑوں کی اڑان سے پتا چل رہا ہے کہ اگلی وفاقی حکومت ان کی ہوگی مگر تعصب کے چشمے پہنے کئی لوگوں کو یہ جیت نظر نہیں آ رہی۔ اسی طرح آصف زرداری جب انتخابات میں اترتے ہیں ان کے خلاف تعصب رکھنے والے ان کی کرپشن کے قصے نکال لاتے ہیں اور یہ بھول جاتے ہیں کہ ریاستی ادارے سالہا سال کی کوششوں کے باوجود ایک بھی مقدمے کا فیصلہ زرداری کے خلاف نہیں کرواسکے۔
خاموش تھیٹرکی خاموشی کسی نہ کسی قیامت کا پیش خیمہ ہوتی ہے۔ پاکستان کی خاموشی بھی کسی بڑی تبدیلی کا اشارہ نہ بن جائے۔ نوازشریف کو نااہل قرار دیا گیا کوئی احتجاج نہ ہوا البتہ جب وہ جی ٹی روڈ پر نکلے تو انہیں کافی رسپانس ملا۔ کل کلاں اگر عمران خان کے خلاف کوئی ٹھوکر لگائی گئی تو تب بھی کوئی انقلاب نہیں آئے گا۔آصف زرداری تو جب سے اقتدار سے اترے ہیں وہ نشیب و فراز میں پھنسے ہوئے ہیں۔ نشیب میں گرتے ہیں تو کوئی ان کے لئے آہ و بکا کرنے کونہیں نکلتا۔ پیپلزپارٹی کی اسٹریٹ پاور ختم ہو چکی ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے ایسا کیوں ہے؟ جب لوگ انہی 3لیڈروں کوووٹ دیتے ہیں، انہی کو پسند یاناپسند کرتے ہیں تو پھر ان کے لئے باہرکیوں نہیں نکلتے؟ کیا لوگوں کی یہ خاموشی، یہ غیرفعالیت، یہ بے حسی، تھیٹر کی اس خامشی کی طرح ہے جو کسی ایک بڑے واقعے سے لاوے کی طرح پھٹتی ہے یا پھر عوام سہم چکے ہیں اور ابھی رعب و دبدبے اورخوف میں گرفتار ہیں۔ ایک تیسرا امکان تشکیک کا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ لوگ اپنی پسندیدہ پارٹی کو ووٹ تو دیتے رہیں لیکن ان کی جماعت باہر نکلنے کو اس لئے تیار نہیں کہ وہ تشکیک کا شکار ہیں۔ انہیں اپنی اپنی سیاسی قیادت پر اندھا اعتماد نہیں رہا۔ اب وہ اپنی حمایت میں محتاط ہیں، خاموشی سے ووٹ دے دیں گے پرجوش جذبے سے باہر نہیں نکلیں گے۔
ہیرالڈ پنٹر کا خاموش تھیٹر اپنی مخصوص خوبیوں کی وجہ سے دنیا بھر میں ممتاز سمجھا جاتا ہے۔ ان کے ڈراموں میں شک، خوف، دھمکیاں، رعب، ڈر، خاموشی کے لمبے وقفے اور انسانی سکون و آرام میں بیرونی مداخلت جیسے عناصر اہم سمجھے جاتے ہیں۔ پاکستان کے آنے والے انتخابات بھی شکوک، خوف اور ڈر کے ماحول میں ہونے جارہے ہیں۔ الیکشن میں ابھی تک ماضی جیسی ہنگامہ خیزی، شور شرابہ اور جوش و جذبہ نظر نہیں آرہا۔ ہاں البتہ شک، الزام تراشی اور گالی گلوچ کاماحول سج رہا ہے۔ ہیرالڈ پنٹر کے فن ڈرامہ کو Abstract Theatreبھی کہا جاتا ہے یعنی پنٹرکے ڈرامے عقل اور دلیل کے مطابق نہیں ہوتے۔ وہ انتہائی بے معنی، لغو اور عقل سے عاری لگتے ہیں لیکن پھر بھی اس سب کا ایک مطلب ہوتا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ پاکستان بھی پنٹر کے اسی Abstract Theatre کا حصہ ہے۔ ہمیں پنٹر کے کرداروں اور ڈراموں کی طرح اپنے اوپر کوئی اختیار نہیں ہے۔ کوئی انجانی، ان دیکھی طاقت حالات کو کسی انجانی سمت لے کر جارہی ہے۔ ہمارے الیکشن اور اس کے بڑے بڑے کردار پنٹر کے ’’بے معنی تھیٹر‘‘ کا حصہ ہیں بظاہر اگلا الیکشن ایک معلق پارلیمان کو لے کر آئے گا یوں مستقبل میں مخلوط حکومت بنے گی جو کمزور ترین ہوگی۔ صوبہ پنجاب میں کسی اور جماعت کی حکومت متوقع ہے جبکہ وفاقی حکومت کسی اور جماعت کی ہوگی۔ یو ں ہم انتخابات کی طرف جاتے ہوئے بجائے استحکام لانے کے عدم استحکام لائیں گے۔ ہیرالڈ پنٹر کو اس دنیا سے رخصت ہوئے 10رس ہوگئے لیکن بڑے ڈرامہ نویس اور ادیب مستقبل کا نقشہ پڑھنے پر قادرہوتے ہیں۔اسی لئے شاید پنٹر نےخاموش تھیٹراور Abstract Theatre میں جوکردار لکھے وہ آج کے پاکستان میں ہمارے اردگرد پھرتے نظر آتے ہیں مگر اس تھیٹر کے کرداروں کا خوف بالآخر دکھ تکلیف اور خراب حالات کو جنم دے گا۔ آنے والے دنوں میں پاکستان میں سیاسی استحکام نہیں انتشار آئے گا۔ ہے کوئی جو اس پر سوچے اور خاموش تھیٹر سے خوف کو دیس نکالا دے تاکہ پاکستان اپنے معمول کے سفر پر روانہ ہو۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں