آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ5؍ ربیع الاوّل 1440ھ 14؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جہاں بیوہ ماں کو اس بات کی خوشی تھی کہ بیٹے کوایک ایسی یونیورسٹی میں داخلہ مل گیا تھا جہاں صرف میرٹ اور صرف میرٹ پرداخلہ ملتا ہے۔ شاید ماں کو اتنی باتوں کا نہیں پتہ تھا کہ میرٹ بھی کوئی بلا ہوتی ہے ہاں اسے یہ معلوم ہوگیا تھا کہ اس کی گد ڑی کے لعل کو ایک بہت اچھی یونیورسٹی میں داخلہ مل چکاہے تو خوشی کے ساتھ ساتھ یہ فکر دل اور روح کو گھائل کرنے لگی کہ اخراجات کیسے پورے ہونگے۔ یونیورسٹی تک جانا اور وہاں جا کر ٹیسٹ دینا ہی ما ل کی شکل میں موجود کل کائنات خرچ ہوتی نظرآتی تھی ۔جیسے تیسے داخلہ ٹیسٹ کے لئے تو اپنے لعل کو بھیج دیا جہاں دل کو دونوں طرف کا دھڑکا لاحق تھا کہ اگر ٹیسٹ میں کامیابی نہ ہوئی تو وہ خواب کیسے پورے ہونگے جوماں نے اپنے جگر گوشے کے لئے دیکھے تھے اور اگر ٹیسٹ میں کامیابی ہوگئی تو پھر منزل تک پہنچنے کے لیے اخراجات کی سیڑھی کہاں سے میسر ہوگی ۔لیکن کہتے ہیں ناں جس کا کوئی نہیں اس کا توخدا ہے یارو ۔ٹیسٹ پاس کیا تو ماں نے غربت کی مارکھا کھا کر ٹیڑھی میڑھی ہوجانے والی کا نو ں کی بالیاں بیچیں ،کچھ قرضہ لیا اور اتنی رقم اکٹھی کرلی کہ یونیورسٹی تک پہنچ کر داخلہ فیس جمع کرادی جائے بیٹا بھی ماں کے خوابوں کی عینک اپنے دل میں سجائے یونیورسٹی تک آگیا ،لیکن اب کھاناکہاں سے ہے اور رہنا کہاں ہے، ہوسٹل کے

اخراجات کہاں سے آئیں گے، ایڈوانس کہاں سے دیاجائے۔کئی راتیں بس اڈے پرگزاریں لیکن اللہ تعالیٰ نے سبب پیدا کیا تویونیورسٹی کے اندر ہی کیمیو نٹی سروس پروگرام کے تحت کام کرنے والوں کے سامنے لاکھڑا کیا۔ انہوںنے سارے مسائل حل کردیئے جی ہاں یہ نسٹ یونیورسٹی کی ایک اسٹوری ہے لیکن میرے پاس ایسی درجنوں کہانیاں ہیں جس میںگدڑیوںکے لعل اس یونیورسٹی میں اپنی قابلیت اور ذہانت سے داخلہ ٹیسٹ تو پاس کرلیتے ہیں لیکن ان کے پاس تعلیم شروع کرنے اور جاری رکھنے کے اخراجات نہیں ہوتے لیکن درد دل رکھنے والے یونیورسٹی کے اندر ہی کمیونٹی سروس کا پروگرام جاری رکھے ہوئے ہیں کبھی مخیر اور فراخ دل لوگ اس کار خیرمیں حصہ ڈالتے ہیں تو کبھی میلے لگا کر یہ فنڈز اکٹھے کرتے ہیں کبھی میوزیکل شو کرا کے رقم اکٹھی کی جاتی ہے کہ ان بچوں کو جو میرٹ پر تو پورے اترتے ہیں لیکن کمزور جیب کی وجہ سے وہ تعلیم سے محروم نہ رہیں ۔یہی وجہ ہے کہ ایسے درجنوں بچے مالی مجبو ریو ں کے با وجود اعلیٰ تعلیم کے زیو ر سے آرا ستہ ہو رہے ہیں۔ لیکن پاک آرمی نے نسٹ یونیورسٹی کے ساتھ مل کر اس میں بھی ایک قدم بڑھ کر کام شروع کیا ہے کہ بلوچستان کے علاقہ میں جہاں بچے ذہین اور لائق تو ہیں لیکن انہیں یہ ایکسپوژر نہیں کہ بڑی یونیورسٹی جا کر داخلہ ٹیسٹ دے سکیں اوریونیورسٹی میںداخلہ حاصل کرسکیں۔ پاکستان آرمی کے کمانڈرسدرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ نے نسٹ اور پاکستان پٹرولیم لمیٹیڈ کے ساتھ مل کر یہ کام شروع کیا ہے اور وہاں کے مختلف کالجز اور دیگر تعلیمی اداروں سے ان بچوں کا انتخاب کرکے جو ذہین ہیں کو لے کر ایک تربیتی پروگرام شروع کیاہے جس میں نسٹ کے ٹیچنگ اسٹاف کی مدد سے تقریباً150 بچوں کو یہ گائیڈ لائن دی جارہی ہے کہ انٹری ٹیسٹ کی کس طرح تیاری کی جاسکتی ہے۔ نسٹ یونیورسٹی کے لیے ہر سال تقریباً ساٹھ ہزار بچے انٹری ٹیسٹ دیتے ہیں۔ بڑے شہروں میں ایسی اکیڈیمز موجود ہیں جو یونیورسٹی کے انٹری ٹیسٹ کے حوالے سے گائیڈ لائنیں دیتی ہیں ۔لیکن بلوچستان کے غیر ترقی یافتہ علاقے کے وہ اسٹوڈنٹس جو اچھا تعلیمی ریکارڈ اور اہلیت رکھنے کے باوجود ٹیسٹ میں کامیاب نہیں ہوسکتے یا ٹیسٹ تک پہنچ ہی نہیں سکتے ،پاک آرمی نے ان کے لیے ایک اچھی کوشش شروع کی ہے اور نسٹ یونیورسٹی جو ایک ایسا میرٹ رکھے ہوئے ہیں کہ اس کے ریکٹرز صاحبان تک کے اپنے بچے ان کی خواہش کے برخلاف ٹیسٹ میں میرٹ پر پورا نہ اترنے کی وجہ سے داخلے اور یہاں تعلیم سے محروم رہے ہیں۔انصاف اور میرٹ ہی کی وجہ سے اس یونیورسٹی کا شمار گزشتہ آٹھ سالوںسے دنیا کی پہلی پانچ سو اور ایشیاء میں ٹاپ 125 یونیورسٹیز میں ہوتا ہے۔نسٹ اینٹوں،سیمنٹ اور دیواروں کا ایک بے جان خوبصورت مجموعہ نہیں بلکہ تعلیم کی روح پھونکنے والی ایک بہترین درس گاہ ہے جس میں قوم کے لوگ اور ادارے اپنا اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔شکریہ نسٹ،شکریہ پاک آرمی۔
twitter:@am_nawazish

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں