آپ آف لائن ہیں
منگل14؍ محرم الحرام 1440 ھ25؍ستمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
”عمران خان نے جتنا مایوس کیا ‘ اتنا کسی اور نے نہیں کیا۔ کرکٹ کے میدان میں ان کی کامیابیوں کا میں معترف ہوں ۔ وہ ایک مسحور کن کپتان اور عظیم کھلاڑی تھے جن کے باوقار ہونے میں کوئی شک نہیں تھا۔ میچ فکسنگ کے دور میں بھی انہیں دولت کی خواہش نے گمراہ نہیں کیا۔ سماجی شعبے میں بھی انہوں نے شوکت خانم کینسر اسپتال تعمیر کرکے عظیم کارنامہ سرانجام دیا۔ یہ اسپتال نہ صرف حسن انتظام کا شاہکارہے بلکہ ہزاروں غریب مریضوں کو علاج کی سہولت وہاں دستیاب ہے ۔ یہاں وی آئی پی کلچر کا خاتمہ عمران خان کی قائدانہ صلاحیت اور وژن کا نمونہ ہے تاہم جہاں تک سیاست کا تعلق ہے تو اس میدان میں عمران خان مکمل ناکامی کا دوسرا نام ہے ۔ سیاست میں عمران خان مواقع ضائع کرنے کا کوئی موقع ضائع نہیں کرتے ۔ 1997ء میں نواز شریف کے ساتھ اتحاد کے ذریعے اپنی جماعت کو پارلیمنٹ میں لے جانے کا اچھا موقع انہوں نے ضائع کیا۔ مشرف کے دھاندلی زدہ ریفرنڈم میں اس کی حمایت اور الیکشن میں مخالفت کی اور دونوں حوالوں سے قیمت ادا کی۔ اسی طرح 2007ء کے انتخابات میں اگر وہ حصہ لیتے تو بہت سیاسی فائدہ حاصل کرسکتے تھے لیکن انہوں نے بائیکاٹ کیا۔ یہ تو اقتدار کی سیاست کی چند مثالیں ہیں اور یہ کہا جا سکتا ہے کہ کسی سیاستدان کی کامیابی اور ناکامی کا پیمانہ اقتدار تک حصول نہیں

ہونا چاہئے۔ اگر یہی بات ہے تو چلو ان کی پالیسیوں کا جائزہ لیتے ہیں ۔ اپنے سیاسی سفر کے آغاز سے ہی وہ مغربی کلچر کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں جو کہ جدیدیت کی نفی ہے۔ ایسے عالم میں جبکہ ملک ملّاؤں کے نرغے میں ہے‘ ان کی طرف سے اس صف کا انتخاب حیران کن ہے۔یہ انتخاب ان کی شخصیت سے بھی ہم آہنگ نہیں تھا۔ اسی طرح وہ پختون قبائلی ثقافت کو آئیڈلائیز کرتے ہیں۔ میں اگر پنجابی نفسیات سے نکل کر بھی تجزیہ کروں تو سوال یہ ہے کہ نیم خواندہ اور سادہ دیہاتی لوگ کیسے تیزی سے ترقی کی جانب گامزن پاکستانی معاشرے کے لئے رول ماڈل بن سکتے ہیں؟ چلو مان لیتے ہیں کہ قبائلی روایات اور اس کے تحت قائم جرگہ کلچر وہاں کے لئے مفید ہے لیکن سوال یہ ہے کہ وہ نظام ملک کے دیگر شہری علاقوں میں کیسے مفید اور قابل عمل ہو سکتا ہے ۔حقیقت یہ ہے کہ اس کی عمران خان نے نہ کبھی وضاحت کی اور نہ کریں گے۔ درمیان میں عدلیہ کے معاملے اور مشرف کے خلاف ان کی رائے بہتر تھی اور اس سے ان کی پوزیشن بھی قدرے مستحکم ہوئی مگر الطاف حسین کے خلاف مقدمے نے ان کی ساکھ کو بری طرح نقصان پہنچایا۔ ایک سیاست دان کو اچھی طرح معلوم ہونا چاہئے کہ کون سی جنگ میں جیت ممکن ہے اور کونسی میں ناممکن۔ عمران خان نے الطاف حسین کے خلاف برطانوی حکومت کے پاس جانے سے بھی قبل اپنی فتح کا اعلان کر دیا اور ملک کے اندر بھرپور شور شرابے کے باوجود کچھ حاصل نہ کرسکے۔ ان کی غلطیوں کا موازنہ کریں تو یہ غلطی سب پر حاوی نظر آتی ہے کہ وہ ان وحشی درندوں جو کہ مالاکنڈ اور فاٹا پر قابض ہیں‘ کو سمجھنے کے لئے تیار ہی نہیں ۔ وہ صرف ایک منتر سنارہے ہیں کہ یہ امریکہ کی غلطی ہے ‘ امریکہ کی غلطی ہے اور بس امریکہ کی غلطی ہے ۔ چلو مان لیا کہ امریکہ کا اس میں حصہ ہے لیکن کیا صرف یہی ایک عامل ہے؟عمران خان یہ بات نہ تو سمجھتے ہیں اور نہ سمجھنے کو تیار نظر آتے ہیں کہ یہ لوگ القاعدہ سے جڑے ہوئے ہیں اور وہ ہمارے ملک پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ اگر وہ میرے جیسے مغرب زدہ لبرل کی بات نہیں سننا چاہتے تو روزنامہ جنگ میں سلیم صافی کو پڑھ لیا کریں یا پھر ان جیسوں کو جو ان لوگوں کو اچھی طرح جانتے ہیں ۔آخر عمران خان کیسے ان لوگوں کی حرکتوں سے صرف نظر کرسکتے ہیں ۔یہ جو لوگوں کے گلے کاٹتے ہیں ‘عورتوں کو کوڑے مارتے ہیں اور بچیوں کے اسکول اڑاتے ہیں، اغوا اور چھینا جھپٹی کے ذریعے دہشت پھیلاتے ہیں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ انہوں نے ریاستی رٹ کو چیلنج کیا اور حکومت کے خلاف ہتھیار اٹھائے۔ آخر عمران خان ان سب چیزوں کو کیوں نہیں دیکھتے؟ ان کو ان بے گھر مظلوم افراد کی فریاد سننی چاہئے جو طالبان کے خوف سے اپنے گھروں سے نکلے ۔یہ متاثرہ لوگ طالبان کو وحشی درندے اور مجرم تصور کرتے ہیں۔ انتہائی افسوس کی بات ہے کہ عمران ان لوگوں کو ایسی عظیم مخلوق سمجھتے ہیں جو اسلام کی سربلندی کے لئے یا پھر افغانستان میں امریکی موجودگی کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ملک کے لئے اس نازک وقت میں وہ تاریخ کے غلط سمت میں کھڑے ہیں ۔اس میں شک نہیں کہ امریکہ کی افغانستان میں موجودگی نے ہماری مشکلات میں اضافہ کیا اور ہو سکتا ہے کہ امریکیوں کی بری نظر ہمارے ایٹمی اثاثوں پر بھی ہو مگر ان سب کے باوجود ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ یہ جو وحشی درندے ہیں ‘ان کا تعلق القاعدہ سے ہے۔ ان کی نظریں ہمارے ملک پر ہیں اور وہ ہماری طرز زندگی کے لئے خطرہ ہیں۔ہمارے پاس ان کے خلاف لڑنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ۔عمران کو اپنے عوام اور افواج کے ساتھ کھڑا ہونا چاہئے۔ان کو اپنے تعصبات سے چھٹکارا پاکر اس جنگ میں پاکستان کا ساتھ دینا چاہئے۔“
محترم قارئین! شاید آپ حیران ہوں گے کہ آج میں نے اپنے کالم میں عرفان صدیقی‘ ثناء بچہ یا عطاء الحق قاسمی کی تحریر کا اقتباس کیسے شائع کیالیکن یہ ان میں سے کسی ایک کی بھی تحریر نہیں۔ یہ نجم سیٹھی کی تحریر ہے اور نہ ایاز امیر کی۔اس میں کسی ایک لفظ کا اضافہ یا کمی نصرت جاوید نے کی ہے اور نہ روف طاہر صاحب کا اس سے کوئی سروکار ہے ۔ جہاں تک میرا تعلق ہے تو میں تو اس طرح کی تحریر کا تصور بھی نہیں کرسکتا ۔ آپ میں سے ہر کوئی تصدیق کرسکتا ہے کہ سوائے انگریزی سے اردو ترجمہ کرنے کے‘ اس عاجز نے اس تحریر میں کسی لفظ کا اضافہ کیا ہے اور نہ کمی کرنے کی جرأت ۔ یہ تحریر کسی اور کی نہیں بلکہ محترم عمران خان صاحب اور ان کی جماعت کے ترجمان محترم شفقت محمود صاحب کی ہے ۔ جی ہاں یہ محترم شفقت محمود صاحب کے کالم کا اقتباس ہے جو پاکستان کے سب سے بڑے انگریزی اخبار ”دی نیوز“ میں جمعہ کے مبارک دن 15مئی2009 ء کو Imran Khan's strange politics کے زیرعنوان شائع ہوا۔ کسی کو یقین نہ آئے تو مذکورہ دن کا روزنامہ دی نیوز اٹھا کر پڑھ لے ۔ عمران خان کے فدائی چونکہ انٹرنیٹ کا زیادہ استعمال کرتے ہیں اس لئے ان کو اگر ہمیں گالیاں دینے سے کبھی فرصت ملے تو انٹرنیٹ پر
http://www.thenews.com.pk /TodaysPrintDetail.aspx? ID=177589&Cat=9&dt=5/15/2009
کے لنک پر جاکر اپنے قائد اور ان کی سیاست کے بارے میں ان کے ترجمان اور دست راست شفقت محمود کی یہ تحریر ملاحظہ کرلیں ۔ شفقت محمود میرے محترم ہیں ۔ مجھے ان کی نیت پر شک نہیں۔ ممکن ہے وہ تحریک انصاف میں آنے سے قبل نیک نیتی کے ساتھ عمران خان اور تحریک انصاف کے بارے میں یہ رائے رکھتے تھے اور مجھے یہ بھی حسن ظن ہے کہ ان کے خیالات میں حالیہ تبدیلی ذاتی لالچ میں نہیں بلکہ ملک و قوم کے وسیع تر مفاد میں آئی ہوگی۔ ہم پہلے بھی ان کی رائے کا احترام کرتے تھے اور اب بھی کرتے ہیں لیکن اگر اپنی اس تحریر کو پڑھ کر وہ ذرا تحریک انصاف کے انقلابیوں اور اپنے جیسے ترجمانوں کو یہ سمجھا دیں کہ ہر تنقید کرنے والا مخالف پارٹی کا ایجنٹ نہیں ہوتا ‘تو ان کی بڑی مہربانی ہوگی۔ ممکن ہو کسی وقت ہم جیسوں پر بھی عمران خان اور ان کے فلسفے کی حقانیت اسی طرح منکشف ہوجائے جس طرح کہ شفقت محمود صاحب پر ہوگیا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ کسی وقت وہ بھی شیریں مزاری صاحبہ کی طرح مداحوں کی بجائے نقادوں کی صف میں شامل ہوجائے ۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں