آپ آف لائن ہیں
بدھ8؍ محرم الحرام1440ھ 19؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
امید ہے کہ آپ کے لئے عیدالاضحی خیر وخوبی سے گزر گئی ہو گی۔ آپ کو کسی گھٹنا، کسی واقعے اور کسی حادثے سے دوچار ہونا نہیں پڑا ہو گا۔ دوچار محاورہ ہے۔ جب جھوٹی موٹی وارداتوں سے ہمارا پالا پڑتا ہے تب دوچار کا محاورہ استعمال کرتے ہیں اور جب ہمارا واسطہ بہت بڑی واردات یا مصیبت سے پڑتا ہے تب ہم دوچار کے بجائے چار آٹھ کا محاورہ استعمال کرتے ہیں۔ مثلاً عیدالاضحی کے روز آپ کو خفیہ چٹھی موصول ہو جس میں لکھا ہو”آپ کو اپنی کھال عزیز ہے یا بکرے کی؟“ تب آپ ناگہانی بلا سے دوچار نہیں ہوتے۔ تب آپ ناگہانی بلا سے چارآٹھ ہوتے ہیں۔ دوچار ہونے یا چار آٹھ ہونے کا محاورہ کب اور کن حالات میں استعمال کیا جائے اس کا انحصار مصیبت، گھٹنا یا مسئلے کے حجم، ڈیل ڈول، وزن اور واسطہ داری سے ہوتا ہے۔ اگر آپ دکاندار ہیں اور آئے دن بھتہ خوروں سے لٹتے رہتے ہیں اور اپنی مدد آپ کے تحت سرکاری نامدار نے آپ کو بندوق دے رکھی ہے، تو میرے بھائی کبھی بھی بھولے سے ایسے کسی بھتہ خور کو گولی مت مارنا جس کا واسطہ کسی ایسی پارٹی سے ہو جس کا Don ایوان اقتدار میں دندناتا پھرتا ہو۔
میرے کہنے کا مطلب ہے کہ عیدالاضحی آپ نے خیر و عافیت سے منائی ہو گی۔ کسی معمولی سی مصیبت سے بھی آپ کا واسطہ یا پالا نہیں پڑا ہو گا۔ ویسے بھی عیدالاضحی کے موقع پر چھوٹے چھوٹے مسائل تو

سامنے آتے ہی رہتے ہیں۔ مثلاً آپ کے بکرے کا بھاگ جانا۔ جب بھی آپ کا بکرا بھاگ جائے تب آپ تھانے پر رپورٹ میں بکری کے مالک کا نام ضرور لکھوائیں، یہ مشورہ مجھے ایک وکیل نے دیا تھا۔ آنے والی عیدالاضحی کیلئے میں آپ کو ایک کام کی بات بتانا چاہتا ہوں۔ آپ نے قربانی کیلئے بیل پانچ لاکھ کا خریدا ہو چاہے دس لاکھ کا۔ آپ اپنے بیل سے کبھی بھی اٹھکھیلیاں کرنے کی بھول مت کیجئے گا۔ میرے پڑوسی کے برادر نسبتی نے اپنے بیل سے نسبت جوڑتے ہوئے کہا تھا ”آ بیل مجھے مار“۔
آناً فاناً تگڑے دیوہیکل بلکہ ہاتھی ہیکل بیل نے میرے پڑوسی کے برادر نسبتی کو سینگوں پر اٹھا لیا اور پھر اسے آسمان کی طرف اچھال دیا۔ ابھی وہ پھر سے زمین پر گرنے بھی نہ پایا تھا کہ برادر نسبتی کو بیل نے سینگوں پر اٹھا لیا اور دور اچھال دیا۔ گرتے ہی برادر نسبتی کی نسبتیں ٹوٹ گئیں لوگ سکتے میں آگئے۔ بیل نے نتھنوں سے غبار نکالتے ہوئے اور سموں سے مٹی اڑاتے ہوئے لوگوں کی طرف دیکھا۔ ایک بزرگ نے کانپتے ہوئے کہا ”ایسے بدمست بیل پر سوار ہو کر میں پل صراط پار کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا“۔برادر نسبتی کو ٹکر مارتے ہوئے بیل نے کہا ”پھر کسی بیل سے مت کہنا کہ آبیل، مجھے مار“۔عیدالاضحی کے موقع پر ایسی وارداتیں، گھٹنائیں ہو جاتی ہیں۔ اس مرتبہ مجھے بھی ایک عجیب و غریب بلکہ ناقابل یقین کیفیت سے گزرنا پڑا تھا۔ یہ تو میری ماں اللہ رکھی کی دعاؤں کا اثر تھا جو اس نے مجھے بچپن میں دی تھیں”جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے“ کہ میں ڈراؤنی صورت حال سے بال بال بلکہ کھال کھال بچ کر بھاگ نکلا تھا۔ عید سے کچھ روز پہلے کی بات ہے میرے دوست احباب جانتے ہیں کہ میں بدبخت بڑا ہی بے پیر ہوں۔ مجھے قائل کرنے کے لئے ایک پیر سائیں معجزاتی کرشمے کر کے دکھاتے ہیں، وہ مجھے ان کے پاس لے گئے۔ پاکستان کے سیاست دان، صدر، وزیراعظم، وزیراعلیٰ وزراء اور افسران پیر سائیں کا سلام بھرتے ہیں اور ان کے معتقد ہیں۔ وہ سب ان سے سورج غروب ہونے کے بعد جمعرات اور جمعہ کی شب ملنے جاتے ہیں۔ میں چونکہ اللہ سائیں کا آدمی ہوں اس لئے دوست مجھے دن میں پیر سائیں کے یہاں لے گئے۔ میرے دوستوں نے پیر سائیں سے کہا ”پیر سائیں، یہ ہمارا دوست بڑا بے پیر ہے، جب دیکھو گاتا رہتا ہے“۔
اللہ ہی اللہ کیا کرو…دکھ نہ کسی کو دیا کرو
جو دنیا کا مالک ہے…نام اسی کا لیا کرو
پیر سائیں، ہمارے دوست کو دعا کریں اور راہ راست پر لے آئیں تاکہ یہ بھی ہم سب کی طرح پیر پرست ہو جائے“۔سفید ریش پیر سائیں نے مسکرا کر میری طرف دیکھتے ہوئے کہا ”اپنی کوئی خواہش بتا“۔
میں نے بغیر سوچے سمجھے کہا پیر سائیں، عیدالاضحی آنے والی ہے میں دیکھنا چاہتا ہوں کہ قربانی کے بکرے کٹنے سے پہلے کیا محسوس کرتے ہیں، آپ مجھے بکرا بنا دیں“۔
”میں تیری خواہش پوری کئے دیتا ہوں“ پیر سائیں نے کہا ”میں تجھے بکرا بنا کر بکرا منڈی بھیج دیتا ہوں“۔
مجھے پیر سائیں کی شیخی پر بہت ہنسی آئی۔ ہنستے ہنستے میں لوٹ پوٹ ہو گیا۔ زندگی میں پہلے کبھی میں اس قدر بے تحاشا نہیں ہنسا تھا۔ ہنستے ہنستے میری گھگی بند ہو گئی۔ میں ہوش و حواس کھو بیٹھا۔ نہ جانے کب اور کیسے مجھے ہوش آیا ۔ ہوش میں آنے کے بعد میں نے خود کو سہراب گوٹھ کے قریب بکرا پیڑی میں کھڑے ہوئے پایا۔ میری سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ میں یہاں کیسے اور کیوں آیا ہوں۔ میں اکثر مقروض رہتا ہوں۔ مولوی صاحبان نے مجھے بتایا دیا ہے کہ قرض لیکر حج کرنا، قربانی دینا فرض ہے، نہ سنت ہے، نہ واجب ہے۔ میں نے سوچا تو پھر میں بکرا پیڑی یا بکرا منڈی میں کیا کرنے آیا تھا؟ میرے اطراف بکروں، دنبوں، بیل اور اونٹوں کا جم غفیر تھا۔ اس سے پہلے زندگی میں جانوروں کو اتنی بڑی تعداد میں ایک جگہ میں نے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ اچانک ایک میلے کچیلے آدمی نے جبڑوں سے پکڑ کر میرا منہ کھولا اور میرے دانت ٹھوک بجا کر دیکھنے لگا۔ میں نے غصے سے چلا کر کہا ”تجھ سے زیادہ غلیظ ڈینٹسٹ میں نے آج تک نہیں دیکھا“۔غلیظ اور میلے کچیلے آدمی نے اپنے ساتھیوں سے پوچھا ”یہ بڈھا بکرا پیڑی میں کون لایا ہے؟“ تب مجھے محسوس ہوا کہ پیر سائیں نے مجھے سچ مچ کا بکرا بنا دیا تھا۔ بکرا منڈی میں مجھ پر کیا گزری، مجھے قربانی کے لئے کس نے خریدا، میں وہاں سے کیسے فرار ہوا۔ کیسے پھر سے آدمی بنا، یہ تمام باتیں اگلے قصہ میں آپ کو بتاؤں گا۔ تب تک لیتے ہیں ایک ہفتہ کا چھوٹا سا بریک۔ تب تک آپ دم پخت سیاسی ران پکانے کا پروگرام دیکھیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں