آپ آف لائن ہیں
جمعہ 10؍محرم الحرام 1440ھ 21؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ویسے تو آپ کو فٹ بال ورلڈ کپ کے مقابلوں سے باہرہوتی ہوئی مسلمان ملکوں کی ٹیموں سے اندازہ ہو گیاہوگا کہ مسلمان مقدرکے کھیل میں کہاں کھڑے ہیں؟ قسمت کا یہ کھیل عالمی سیاست ،معیشت اور دیگر شعبوںمیں بھی جاری ہے۔ اس میں مسلمان کتنے قصوروار ہیں، اس کا جائزہ لینے کے لئے یہ دیکھنا پڑے گاکہ دنیا میں کہاں کہاں جنگ و جدل کا موسم ہے۔ کہاں کہاں لوٹ مار کا کھیل ہے اور دنیامیں وہ کون سے علاقے ہیں جہاں انسانوں کا قتل عام جاری ہے، جہاں انسانی حقوق کی پامالی ہو رہی ہے، جہاں چیختے چلاتے بچے بارود کی نذر ہو رہے ہیں؟
بدقسمتی سے موت کا یہ کھیل کشمیر اور فلسطین میں کئی برسوں سے جاری ہے مگر عالمی ادارے اس پر خاموش ہیں۔ بوسنیا میں یہ کھیل بڑی بے دردی سے کھیلا گیا، افغانستان میں کئی برسوں سے جاری ہے، اصل میں موت کا یہ کھیل مشرق وسطیٰ کی ہیت تبدیل کرنے کے لئے کھیلا جارہاہے۔عرب دنیامیں کئی ممالک کی فوج کو یہ کھیل نگل گیا۔ کئی ممالک کو کھنڈرات دے گیا، کچھ علاقوں میں معذوریاں اور بیماریاں دے گیا مگر یہ کھیل ہنوز جاری ہے۔ عراق میں عراقی رضاکار فورس حشد الشعبی نے داعش کو ناکوں چنے چبوائے۔ داعش پر ایک اور کاری ضرب القصیر اور حلب میں لگی، جہاں مغربی و عربی سرپرستی میں چلنے والی داعش کو شکست فاش ہوئی۔ 2003میں اسی کھیل کی خاطر

امریکی وزیر خارجہ کولن پاول نے شام کے صدر سے کہا تھاکہ ’’آپ ہمارا ساتھ دینا چاہتے ہیں یافلسطینی، لبنانی اور ایرانی سوچ کاساتھ دینا چاہتے ہیں؟‘‘ شامی صدر نے امریکی وزیرخارجہ کو جب دوٹوک جواب دیاتو پھرایک اورسازش تیارکی گئی۔ 2005میں اسرائیل کے ذریعے لبنان کے وزیراعظم رفیق الحریری کو قتل کروا دیا گیا اور بڑے کمال سے اس کا الزام شام اور حزب اللہ پرلگادیا گیا۔ کلیجہ ٹھنڈا نہ ہوا تو اسرائیل نے 2006میں لبنان پرحملہ کردیا۔ یہ حملہ اسرائیل کو مہنگا پڑا۔ حزب اللہ نے اسرائیل کی تمام تر جنگی مہارت کو خاک میں ملا دیا۔ جب کسی کا غرور مٹی میں ملتا ہے تو حالت دیدنی ہوتی ہے۔ سامراج کی سوچ کا محور ایک ہی ہے۔ اس کی پالیسیاں بدلتی رہتی ہیں مثلاً مسلمان ملکوں کی فوجوں کو ختم کرنا یا انہیں کمزور کرنا اسی حکمت ِعملی کا شاخسانہ ہے۔ مسلمان ملکوں میں فرقہ وارانہ فسادات بھی اسی سوچ کی عکاس ہیں۔ یہ کوشش پاکستان میں بھی ایک تسلسل سے کی جارہی ہے۔ پاکستان میں دوسری کوشش بھی ہو رہی ہے۔ اس دوسری کوشش کے طور پر عوام کو فوج سے لڑانے کی خواہش کوپروان چڑھایا جارہاہے۔ جن قبائلیوں کو پہلے مذہب کے نام پر خراب کرنے کی کوشش کی گئی، اب یہ کوشش ہو رہی ہے کہ وہاں سے حقوق کے نام پر نام نہاد تحریکوںکوپیدا کیاجائے۔ اس سلسلے میں عالمی میڈیا بھی اپنا کھیل، کھیل رہاہے۔ پشتوسروس کے نام پر گمراہی پھیلائی جارہی ہے۔ پاکستان کے لئے چار حکمت عملیاں ترتیب دی گئی ہیں (۱) پاکستان میں عوام کو فوج کے خلاف اکسایاجائے (۲) فرقہ واریت کی آ گ پورے ملک میں لگائی جائے (۳) پاکستان کو معاشی طورپرکمزور کیاجائے (۴) عالمی سازشوں کاحصہ بننے والے پاکستانی سیاستدانوں کوپروموٹ کیاجائے۔ وہ سیاستدان جواپنے ملک کے خلاف کھیل کھیلنے پر تیار ہوجائیں۔ وہ سیاستدان جو اداروں کےٹکرائو کو یقینی بنائیں، ایسے سیاستدان جو اپنی فوج کے خلاف کام کریں۔
پاکستان کے خلاف یہ کھیل جاری ہے جبکہ یمن میں گھمسان کی جنگ جاری ہے۔ کئی ملکوں کی مشترکہ فوج اور مشترکہ عسکری مہارت یمن کی بندرگاہ الحدیدہ پرقبضے کی کوشش میں کئی ہفتوں سے ناکامی کامنہ دیکھ رہی ہے۔ یہ وہی الحدیدہ ہے جسے 1962میں مصریوں نے چند گھنٹوں میں فتح کرلیا تھا، جسے عثمانی سلطنت نے ایک دن میں فتح کیا تھا مگر اب کئی ہفتوں سے محاصرے اور بمباری کے باوجود مشترکہ فوج کوپے در پے ناکامی ہورہی ہے۔ اسرائیلی اور امریکی عسکری ماہرین پریشان ہیں کہ ایساکیوں ہورہاہے؟ حالانکہ چند عرب ممالک کی فوج کے ساتھ سوڈانی جنگجوئوںکا ایک بریگیڈ، یمن کے سابق صدر علی عبداللہ صالح کے چیف آف آرمی اسٹاف علی محسن الاحمر کے وفادار فوجیوں کے پانچ بریگیڈ، امریکی، برطانوی اور فرانسیسی نیوی کی ایک ایک بٹالین،القاعدہ کے انصار السند نامی گروہ کی ایک بٹالین کے علاوہ بعض یورپی اورافریقی ممالک کی فورسز بھی شامل ہیں۔ جب اتنی بھرپور طاقت سے حملہ کیا گیا ہے تو پھر ناکامی کیوں؟
جب پینٹاگان کا اہم عہدیدار ٹی وی انٹرویو میں کہہ رہاہے کہ ’’امریکی فورسز یمن میں تعینات ہیں اور وہ عرب ممالک کی فورسز سے انٹیلی جنس کی سطح پر تعاون کر رہی ہیں، اب جب امریکیوں نے درپردگی چھوڑ کرکھلے عام اس حملے کی حمایت بھی کردی ہے، جب امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس نے واضح کہہ دیاکہ ’’امریکہ کو الحدیدہ آپریشن میں شریک ہونا چاہئے اور انصاراللہ کے ٹھکانوں پر حملہ کرنا چاہئے‘‘ جب یہ سب کچھ ہے تو پھر ناکامی کیوں ہورہی ہے؟
آج کل اسرائیلی اور امریکی جنگی ماہرین کے سامنے سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ آخرالحدیدہ پر قبضہ کیوں نہیں ہو رہا حالانکہ حملے سے پہلے یمن کا زمینی، سمندری اور فضائی محاصرہ کیاگیا تھا پھر اہل یمن نے ہماری مددگار افواج کو الحدیدہ کے قریبی علاقے دریہمی میں گھیرکرکیسے مارا؟ اس کیوںکا جواب یمن کی فوج، انصار اللہ اوریمن کے عوامی رضاکارہیں۔ یمن کے لوگ اپنے راہبر سید عبدالمالک بدر الدین حوثی کابہت احترام کرتے ہیں۔ اپنے راہبرکے اقوال کو مانتے ہیں، اہل یمن سید مالک کے حکم ہی پرحملہ آوروں کا مقابلہ کررہے ہیں۔ اہل یمن کیلئے راہبر کا جذبہ بھی کمال ہے۔ جب سے یمن کامحاصرہ ہوا ہے یمنی راہبر روزے سے ہیں، ان کا کہنا ہےکہ ’’میرے ملک میں خوراک کی کمی ہے یہ کیسے ممکن ہے کہ میرے ہم وطن بھوکے رہیں اور میں پیٹ بھرکر کھانا کھائوں۔‘‘ جیسا کہ بالائی سطور میں بیان کیا گیا ہے کہ یمن تین طرح کے محاصروں میں ہے۔ فضائی، زمینی اورسمندری محاصرے نے اہل یمن کے لئے خوراک کے علاوہ ادویات کو بھی روک رکھا ہے۔ ایسی صورتحال میں یمنی مسلمانوں کو داد دینا پڑتی ہے۔
یمن کے 18صوبے ہیں۔ ان میں سے 6صوبوں پر چند خلیجی ممالک، القاعدہ اور دیگرگروپ قابض ہیں مگر ان چھ صوبوں میں آبادی بہت کم ہے۔ باقی 12صوبے انصار اللہ کے پاس ہیں۔ ان 12میں سے صنعا، صعدہ، الحجہ، عمران، زیدی اور الحدیدہ میں آبادی کی اکثریت اہل سنت شافعی ہے۔ یمن کے دشمنوں نے بہت کوشش کی ہے اورابھی تک اس کوشش میں لگے ہوئے ہیں کہ کسی طرح یمن میں شیعہ سنی فسادات شروع کروائےجائیں مگر آفرین ہے اہل یمن پر کہ وہ دشمن کی اس چال میں نہیں آ رہے۔ اس وقت جب حملہ آور یمن کے ساحلی صوبے الحدیدہ پر قبضے کی کوشش کررہے ہیں، اس وقت اس صوبے کے 20لاکھ انسان اور الحدیدہ شہر کے 6لاکھ افراد سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑے ہیں۔ بھوکے پیاسے اپنے وطن کے لئے لڑ رہے ہیں۔ حملہ آوروں کاجائزہ لیں تو آپ کو امت ِ مسلمہ کے زوال کی سمجھ آ جائے گی۔ رمضان المبارک کے آخری عشرے اورعید کے موقع پر ظالمانہ کارروائیاں دیکھ کر ایرانی رہبر نے کہاکہ ’’یمن پر حملہ کرنے والے زمانے کے شمر ہیں‘‘ 
آخر میں چند احادیث کا تذکرہ بہت ضروری ہے جو یمن کے بارے میں بیان کی گئیں۔ محمد تقی عثمانی کی کتاب ’’دنیا مرے آگے‘‘ میں کئی احادیث بیان کی گئی ہیں۔ یہاں میں صرف چند ایک کا تذکرہ کر رہاہوں۔ جب یمن کا ایک وفد حضرت محمدﷺ کی خدمت میں حاضرہوا توآپﷺ نے صحابہؓ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا ’’تمہارے پاس یمن کےلوگ آئے ہیں جن کے سینے بڑے رقت والے اور جن کے دل بڑے نرم ہیں۔ایمان یمن کا ہے اور حکمت یمن کی ہے۔‘‘ ایک مرتبہ آپﷺ نے یمن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ’’ایمان اس کی طرف ہے۔‘‘ ایک اور جگہ فرمایا ’’تمہارے پاس اہل یمن بادل کے ٹکڑوں کی طرح آتے ہیں جوسارے اہل زمین میں سب سے بہتر ہیں۔‘‘
یمن کا محاصرہ ختم ہونا چاہئے۔انسانی حقوق کی تنظیمیں کہاں سوئی ہوئی ہیں؟ انہیں کردار ادا کرنا چاہئے۔ امت ِ مسلمہ کو مسلسل جگانے کی کوشش کرنےوالے علامہ اقبال کے بقول؎
شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن
نہ مال غنیمت نہ کشور کشائی
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں