آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ5؍ ربیع الاوّل 1440ھ 14؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
انصاف کا تقاضہ ہے کہ اگر انصاف میں تاخیر واقعی انصاف کی فراہمی سے انکار کے مترادف ہے تو بتایا جائے کہ بائیس سال پہلے کی ایک ملک دشمن واردات کے بارے میں ائیر مارشل اصغر خاں کے طلب کردہ انصاف سے انکار کے جرم کا مرتکب کون ہوا اور کیوں ہوا؟ اگر عدلیہ کی نام نہاد آزادی کے دوران سپریم کورٹ کی ترجیحات کے ذریعے انصاف کے ساتھ دو دہائیوں سے بھی زیادہ عرصے کی تاخیر کا ظلم نہ کیا جاتا تو شاید محترمہ بینظیر بھٹو کو ان کی شہادت سے پہلے انصاف مل گیا ہوتا اور انہیں قبر میں لیٹ کر روز قیامت کے خداوند ی انصاف کا انتظار نہ کرناپڑتا اور یہ بھی ممکن تھا کہ وہ شہید نہ ہوتیں۔ ان کی شہادت کے بعد کے دردناک واقعات بھی نہ ہوتے اور وہ آج بھی پاکستان کی وزیر اعظم ہوتیں اور ان کی زیر قیادت پاکستان بائیس سالوں میں غیر معمولی ترقی کرچکا ہوتا اور لمحوں کی خطا صدیوں کا صدمہ نہ بن گئی ہوتی۔
1988ء کے عام انتخابات کی قبل از انتخابات دھاندلیوں کے مقدمے کی بائیس سال کی تاخیر سے ہونے والی سماعت کے بعد صادر ہونے والے فیصلے میں سپریم کورٹ نے پاکستان پیپلز پارٹی کے عائد کردہ تمام الزامات کو درست تسلیم کرلیا ہے کہ کروڑوں روپے کے ناجائز اور مجرمانہ استعمال کے ذریعے پاکستان کے عوام سے جمہوریت اور پاکستان پیپلز پارٹی سے اس کا انتخابی مینڈیٹ لوٹ

لیا گیا تھا۔ وفاقی وزیر اطلاعات قمر زمان کائرہ کے مطابق محترمہ بینظیر بھٹو نے 18اکتوبر 1990ء کی ایک پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ صدر غلام اسحاق نے حکم جاری کیا تھا کہ انہیں دکھائے بغیر کسی انتخابی نتیجے کا اعلان نہ کیا جائے۔ یہ انتخابی دھاندلی کا ننگا ہدایت نامہ تھا۔ سیاست میں فوج کی بلواسطہ مداخلت کا واضح ثبوت بھی تھا۔1988ء کے عام انتخابات کے نتائج پولنگ کے ڈبوں سے برآمد نہیں ہوئے تھے ،صدر غلام اسحاق اور سیکرٹری روئیداد خاں کے گھوسٹ پولنگ سٹیشنوں سے لائے گئے تھے۔ پاکستان پیپلز پارٹی اور ان کی ہم خیال سیاسی جماعتوں نے پانچ سو صفحات کے وائٹ پیپرز میں ان انتخابی دھاندلیوں کی تمام تفصیلات پیش کی تھیں جن کو خاطر میں نہیں لایا گیا تھا۔ ان انتخابی دھاندلیوں کے ذریعے ہی 1990ء کی میاں نواز شریف کی حکومت قائم کی گئی تھی اور دعویٰ کیا گیا تھا کہ میاں صاحب کی حکومت کو قائد اعظم کے انتخابی مینڈیٹ سے بھی بڑا مینڈیٹ دیا گیا ہے۔ ان عام انتخابات میں یہ ڈھونگ رچایا گیا کہ بیشتر انتخابی حلقوں سے سو فیصد ووٹ برآمد ہوئے ہیں جبکہ عام انتخابات کا پولنگ اوسط ٹرن آؤٹ چالیس فیصد سے زیادہ نہیں تھا۔یہ دلیل بہت ہی کمزور ہے کہ نواز شریف اور شہباز شریف جیسے ارب پتی بلکہ کھرب پتی لوگوں کے لئے چند لاکھوں کی مالی ا مداد اونٹ کے منہ میں زیرے کی مثال ہے مگر پاکستان کے لوگوں کے لئے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہوگا کہ میاں شریف برادران کے لئے پاکستان اور پنجاب کا اقتدار کتنے اربوں اور کھربوں کے فائدہ سے نچوڑنے کا ذریعہ بن سکتا ہے ؟چنانچہ ان کا کوئی پرویز اشرف ٹائپ سیاسی کارکن کسی اعلیٰ عہدے یا خادم اعلیٰ کا حلف اٹھانے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔اقتدار پسندوں کی بدقسمتی سے پیپلز پارٹی ملک کے محنت کشوں اور ورکنگ کلاس کی روایتی سیاسی پارٹی بن چکی ہے چنانچہ کسی بھی ملک کے 80فیصدی سے زیادہ لوگوں کو پسندیدہ سیاسی جماعت کو بھیانک دھاندلی کے بغیر اقتدار سے باہر نہیں نکالا جاسکتا اور انتہائی خفیہ دھاندلی بھی بائیس سالوں کے بعد طشت ازبام ہوسکتی ہے۔ یہ الگ بات کہ صدر غلام اسحاق خاں کے ایوان صدر میں کھیلی جانے والی قومی سیاست کی سزا صدر آصف علی زرداری کے ایوان صدر کو دینے کی کوشش کی جائے اور ابن انشاء مرحوم کے الفاظ میں جنگ اگر روس اور امریکہ کے درمیان ہورہی ہے تو میدان جنگ ہر حالت میں غیر جانبدار ملکوں میں ہونے چائیں تاکہ جنگ کا لطف اٹھانے سے محروم نہ رہ جائیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں