آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ 8 ؍ربیع الاوّل 1440ھ 17؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
امریکہ کا صدارتی انتخاب اوباما جیتیں یا رومنی، افغانستان امریکہ کے لئے سانپ کے منہ کا چھچوندر بنا رہے گا جسے نگلنا ہی ناممکن نہیں، اُگلنا بھی مشکل ہے۔ افغانستان کے خلاف جارحیت کا گیارہ سالہ امریکی تجربہ اس دعوے کا کھلا ثبوت ہے۔ کامیابی کی منزل قریب ہونے کے دعوے اس پوری مدت میں مسلسل کئے جاتے رہے لیکن سب بے بنیاد ثابت ہوئے۔ امریکی حکمراں آج بھی افغانستان میں امریکی مشن کی کامیابی کے دعوے کررہے ہیں ۔ موجودہ امریکی وزیر دفاع لیون پنیٹا نے گزشتہ ماہ کے آخری عشرے میں اپنے ہم وطنوں کو خوشخبری سنائی کہ” افغانستان میں امریکہ کی جنگ کامیاب ہورہی ہے اور ایک اہم ورق پلٹا جاچکا ہے“۔ جبکہ یہی بات2003ء میں یعنی نو سال پہلے اُس وقت کے امریکی وزیردفاع ڈونلڈ رمسفیلڈ نے یوں کہی تھی کہ ”ہم واضح طور پر بنیادی جنگی سرگرمی سے نکل کر استحکام کے دور میں داخل ہوچکے ہیں …اس ملک کا بیشتر حصہ آج محفوظ ہے“۔ مگر چار سال بعد2007ء میں انہیں پھر یہ انکشاف کرنے کی ضرورت پڑی کہ افغانستان میں ”بڑی کامیابی“ حاصل کرلی گئی ہے۔ اس کے باوجود2011ء میں وزیر دفاع رابرٹ گیٹس بھی دعوے کے مرحلے سے آگے نہیں بڑھ سکے۔ انہوں نے اپنے ملک میں افغان جنگ کی مسلسل بڑھتی ہوئی مخالفت کے پیش نظر امریکی عوام کو دلاسا دیا کہ” افغانستان میں امریکہ کی کوششیں

کامیاب ہورہی ہیں“۔ اس صورت حال پر شکاگو ٹریبون سے تعلق رکھنے والے امریکی تجزیہ کار Steve Chapmanنے یہ دلچسپ تبصرہ کیا ہے کہ ”یہ ایک ایسی جنگ ہے جو ہمیشہ جیتی تو جارہی ہوتی ہے مگر ختم ہونے میں نہیں آتی“۔ انہوں نے اس کیفیت کو بجا طور پر ناکامی قرار دیا ہے تاہم امریکی حکمراں ناکامی کا اعتراف اور اس کی ذمہ داری قبول کئے بغیر افغانستان سے نکلنے کی راہ تلاش کررہے ہیں کیونکہ یہ ان کی اَنا اور عالمی بھرم کا معاملہ ہے۔ بلاشبہ خاک نشین افغان عوام کے ہاتھوں وقت کی دیوہیکل سپر پاور اور اس کے انتہائی طاقتور اتحادیوں کی شکست پر ایک معروف شاعرہ کا یہ مصرع پوری طرح صادق آتا ہے کہ ”بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی“ ۔
امریکی پالیسی سازوں نے خطے میں اپنے مفادات محفوظ رکھتے ہوئے افغانستان کے کمبل سے جان چھڑانے کی ایک ترکیب یہ سوچی تھی کہ کابل حکومت کی فوج اور پولیس کو تربیت دے کر اس قابل بنادیا جائے کہ وہ افغانستان میں امریکہ کی پسند کی حکومت کو امریکہ مخالف طاقتوں سے بچائے رکھے لیکن بیرونی قابضین کے خلاف افغان تحریک مزاحمت نے ایک نئی شکل اختیار کر لی جس کی وجہ سے یہ غنچہ بن کھلے ہی مرجھا گیا۔ مزاحمت کی یہ نئی شکل فوج اور پولیس کے زیر تربیت افغان اہلکاروں کی جانب سے امریکہ اور دوسرے نیٹو ممالک کے تربیت کاروں کو گولیاں برسا کر بھون ڈالنے کی ہے۔ سال رواں میں پچاس سے زیادہ امریکی اور نیٹو تربیت کار اور تقریباً اتنے ہی افغان حکومت کے وفادار فوجی افسران اس نئے طرز مزاحمت کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔ مغربی میڈیا میں اس کے لئے افغان اور امریکی اہلکاروں کی وردیوں کے رنگ کی مناسبت سے ”گرین آن بلیو اَٹیکس“ کی اصطلاح وضع کی گئی ہے۔ یہ معاملہ کس قدر سنگین صورت اختیار کرگیا ہے، اس کا کچھ اندازہ اس موضوع پر چند اہم مغربی ذرائع ابلاغ کی حالیہ رپورٹوں کی سرخیوں سے لگایا جاسکتا ہے۔ سی این این کی ویب سائٹ پر موجود 18 ستمبر کی ایک رپورٹ کی سرخی ہے:
"Afghanistan: Green-on-blue attacks show there's no easy way out"
یعنی ”گرین آن بلیو حملے ظاہر کرتے ہیں کہ نجات کا کوئی آسان راستہ موجود نہیں“ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گرین آن بلیو حملوں نے2011ء کے وسط سے صدر بارک اوباما کے اس اعلان کے فوراً بعد زور پکڑا کہ 2014ء تک افغانستان سے امریکی افواج کو نکال لیا جائے گا اور سیکورٹی کی ذمہ داریاں افغان فوج کو منتقل کرکے جنگی کارروائی ختم کردی جائے گی۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ نیٹو افواج سے افغان فوج کو ذمہ داریوں کی منتقلی کی کامیابی کا انحصار افغان نیشنل آرمی اور افغان نیشنل پولیس کی مہارت اور مقصد سے وابستگی پر ہے لیکن گرین آن بلیو حملوں میں مسلسل اضافے نے اتحادی افواج کو اپنے زیر تربیت افغان فوجیوں کے بارے میں شکوک و شبہات میں مبتلا کردیا ہے۔ ظاہر ہے کہ بے اعتمادی کی اس فضا میں افغان فوج اور پولیس کو امریکی اور نیٹو ماہرین کی جانب سے تربیت دے کر اس قابل بنانا محال ہے کہ وہ بیرونی افواج کی رخصتی کے بعد امریکی مفادات کی نگراں افغان حکومت کو بیرونی قابضین کے خلاف مزاحمت کرنے والی طاقت سے بچائے رکھ سکیں۔
برطانیہ میں بھی افغان فوج اور پولیس کے زیر تربیت اہلکاروں کی جانب سے نیٹو کے تربیت کاروں پر قاتلانہ حملوں کا معاملہ انتہائی تشویش کا باعث بنا ہوا ہے۔ برطانوی اخبار گارجین کی 30/اکتوبر کی ایک رپورٹ کی سرخی ہے:
'Green-on-blue' attacks are difficult to deal with, UK commander tells MPs
یعنی ”گرین آن بلیو حملوں سے نمٹنا مشکل ہے، برطانوی کمانڈر کی ارکان پارلیمنٹ سے گفتگو“۔ اس رپورٹ کا آغاز ان الفاظ سے ہوتا ہے کہ ”برطانوی اور دوسرے غیر ملکی فوجیوں پر گرین آن بلیو حملے،باغیوں کی ایک تکنیک ہے جس سے نمٹنا مشکل ہے،ایک سینئر برطانوی کمانڈر نے یہ اعتراف برطانوی ارکان پارلیمنٹ کے سامنے کیا“۔ تفصیلات میں بتایا گیا ہے کہ یہ بیان انگلستان کی جوائنٹ فورسز کے کمانڈر لیفٹننٹ جنرل ڈیوڈ کیپ ویل نے ایوان عام (ہاوٴس آف کامنز) کی دفاعی کمیٹی کے سامنے دیا تاہم انہوں نے کمیٹی کے ارکان کو یہ تسلی بھی دی کہ ہم اس معاملے پر قابو پانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس مقصد کے لئے پہلے سے زیادہ چھان پھٹک ،فزیکل ٹیسٹ،بایو میٹرک اسکریننگ اور بہتر ٹریننگ وغیرہ کی تدبیریں کی جارہی ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ سنجیدگی سے سمجھتے ہیں کہ یکم جنوری2015ء کو جب نیٹو افواج جنگی کارروائی ختم کرچکی ہوں گی تو افغان فورسز کنٹرول سنبھالنے کے لائق ہوں گی؟ تو جنرل کیپ ویل کا جواب تھا کہ ”یہ ایک مفروضہ ہے “۔ انہوں نے بتایا کہ نیٹو افواج کو امکانی طور پر 2014ء کے بعد بھی افغانستان میں رہنا ہوگا لیکن وہ یہ نہیں بتاسکتے کہ اس کی شکل کیا ہوگی۔
اب یوایس ٹوڈے کی چار نومبر کی ایک رپورٹ کی سرخی بھی ملاحظہ فرمایئے جو یہ ہے:
'Green on Blue' attacks lead to Afghan security changes
یعنی ”گرین آن بلیو حملوں کے سبب افغان سیکورٹی میں تبدیلیوں کی ضرورت“۔ رپورٹ میں ٹریننگ کے دوران مسلسل مسلح اور چوکس محافظوں کی موجودگی وغیرہ جیسی تدابیر اختیار کرنے کی بات کی گئی ہے لیکن حقیقت یہ ہے غاصب قوتوں کی یہ ساری تدبیریں آزادی کے حصول کا عزم صمیم رکھنے والے عوام کے مقابلے میں ریت کا گھروندا ثابت ہوتی ہیں۔چنانچہ ساری دنیا دیکھ رہی ہے کہ آئندہ میعاد کے لئے امریکہ کی صدارت کے دونوں بڑے امیدوار افغانستان سے جلد از جلد امریکی افواج کی واپسی کی بات کررہے ہیں۔ اوباما نے اس کے لئے 2014ء کی تاریخ مقرر کررکھی ہے جبکہ رومنی تاریخ کے تعین کے تو مخالف ہیں مگر امریکی افواج کو وطن واپس لانے کے لئے جلد ازجلد سازگار حالات پیدا کرنے پر زور دے رہے ہیں۔ ان کے ایک بیان کے الفاظ ہیں”ہمارے لئے وقت آگیا ہے کہ اپنی افواج کو جتنی جلدی ممکن ہو گھر واپس لائیں،اپنے جنرلوں کی اس یقین دہانی کے ساتھ کہ ہم ملک کو ان حالات میں اُن کے ( یعنی افغانوں کے) سپرد کرسکتے ہیں کہ وہ خود اس کا دفاع کرسکیں“۔ لیکن امریکی اور نیٹو افواج کے انخلاء کی تاریخ کے اعلان کے بعد افغان مزاحمت کار قوتوں کی جانب سے اپنائی گئی ”گرین آن بلیو حملوں“ کی تکنیک سے پتہ چلتا ہے کہ وہ دشمن کو بھاگ نکلنے کا موقع دینے کے بجائے افغانستان میں ابھی مزید الجھائے رکھ کر اس کے نقصانات کو زیادہ سے زیادہ بڑھانے کی حکمت عملی پر کاربند ہیں۔ انہیں اپنے نقصانات کی پروا نہیں کیونکہ ان کے پاس کھونے کے لئے ایک جان کے سوا کچھ نہیں اور ان کا فلسفہ ہے کہ ”جان دی، دی ہوئی اسی کی تھی… حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا“ لیکن وہ ”ہم تو ڈوبے ہیں صنم تم کو بھی لے ڈوبیں گے“ کے مصداق، دشمن کو آخری حد تک کمزور کردینا چاہتے ہیں۔ اس لئے یہ پیش گوئی کی جاسکتی ہے کہ امریکہ کے آئندہ صدر چاہے اوباما ہوں یا رومنی، افغانستان کی چھچوندر ابھی مزید کئی برس امریکی سانپ کے گلے میں پھنسی رہے گی۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں