آپ آف لائن ہیں
جمعرات9؍ محرم الحرام 1440ھ20؍ ستمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آج سے 22دن بعد پاکستان میں انتخابات ہو رہے ہیں ، جس افراتفری کے ماحول میں یہ انتخابات ہو رہے ہیں ، اس کے نتائج انتہائی خطرناک ہو سکتے ہیں ۔ جمہوریت کے ذریعے سیاسی استحکام تب آتا ہے ، جب سیاسی جماعتیں مضبوط ہوں ۔ جمہوریت اجتماعی دانش ، اجتماعی قیادت اور اجتماعی فیصلوں کا نام ہے ، جو مضبوط سیاسی جماعتوں کے ذریعے ہی ممکن ہے ۔ جب سیاسی جماعتیں مضبوط نہ ہوں تو جمہوریت نہیں آتی بلکہ انارکی پیدا ہوتی ہے ۔
بدقسمتی سے ملک میں انتخابات ایسے حالات میں ہو رہے ہیں ، جب کوئی بھی سیاسی جماعت مضبوط نہیں ہے پاکستان تحریک انصاف ، پاکستان پیپلزپارٹی ، پاکستان مسلم لیگ (ن) اور دیگر سیاسی ، مذہبی اور قوم پرست جماعتوں کے قائدین انفرادی طور پر بہت مقبول اور مضبوط ہو سکتے ہیں لیکن ان کی جماعتیں اس قدر مضبوط نہیں ہیں کہ وہ 25 جولائی کو ہونے والے عام انتخابات کے نتیجے میں سیاسی استحکام کا باعث بن سکیں کیونکہ یہ انتخابات ایک ایسے مرحلے پر ہو رہے ہیں ، جب دنیا میں نیو ورلڈ آرڈر تشکیل پا رہا ہے ۔ دنیا کروٹ لے رہی ہے ۔ علاقائی اور عالمی سطح پر نئی صف بندیاں ہو رہی ہیں ۔ پاکستان کے اندر بھی داخلی سطح پر کایا پلٹ کا تقاضا جنم لے چکا ہے ۔ کوئی سیاسی جماعت ، یہاں تک کہ ان کے مقبول اور طاقتور قائدین بھی ان حالات میں اپنا کردار ادا

کرنے کے قابل نہیں ہیں ۔ غیر سیاسی قوتوں کیلئے خلا پیدا ہو چکا ہے ۔ اسلئے قوی امکان یہ ہے کہ عام انتخابات کے بعد جو بھی حکومت بنے گی ، وہ کمزور حکومت ہو گی اور داخلی ، علاقائی اور عالمی حالات کی وجہ سے پیدا ہونے والی ’’ انارکی ‘‘ کو روک نہیں سکے گی بلکہ اس انارکی میں اضافے کے سیاسی اسباب پیدا ہوتے جائیں گے ۔
ہمارا ملک ہمیشہ سانحات سے دوچار رہا ہے ۔ اس کا بنیادی سبب بھی یہی ہے کہ یہاں جمہوریت پنپ نہیں سکی ہے ۔ جمہوریت مضبوط اداروں سے قائم ہوتی ہے ۔ ان اداروں میں سب سے اہم ادارہ سیاسی جماعتوں کا ہوتا ہے ۔ پاکستان میں سیاسی جماعتیں بننے ہی نہیں دی گئیں ۔ اس وقت الیکشن کمیشن آف پاکستان میں رجسٹرڈ سیاسی جماعتوں کی طویل فہرست ہے لیکن یہ سیاسی جماعتیں نہیں بلکہ کچھ لوگوں کی بادشاہتیں ( Dynasties ) ہیں ۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائدین اور سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف بارہا یہ کہہ رہے ہیں کہ غیر سیاسی حکمرانوں کی وجہ سے مشرقی پاکستان کا سانحہ رونما ہوا لیکن میاں محمد نواز شریف بھی یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ اس سانحہ کا بنیادی سبب بھی یہ تھا کہ پاکستان کی خالق سیاسی جماعت مسلم لیگ کمزور ہو گئی تھی یا کمزور بنا دی گئی تھی ۔ اس سے پہلے بڑا سانحہ ایوب خان کے مارشل لاء کانفاذ تھا ۔ قیام پاکستان کے بعد مسلم لیگ کی اس حقیقی سیاسی اور عوامی قیادت کو ’’ پروڈا ‘‘ اور ’’ ایبڈو ‘‘ جیسے احتساب کے سیاہ قوانین کے ذریعے سیاسی طور پر ختم کیا گیا ، جس قیادت نے اپنا تن ، من اور دھن تحریک پاکستان میں لگا دیا تھا اور جن کی دیانت داری کی وقت قسمیں کھاتا تھا ۔ مسلم لیگ کے علاوہ ابھرنے والی دیگر بائیں اور دائیںبازو کی سیاسی قیادت کو بھی کبھی احتساب اور کبھی حب الوطنی اور کبھی نظریہ پاکستان کے نام پر کچلا گیا ۔ اس وقت پاکستان کی غیر مرئی قوتوں ( جنہیں آج میاں محمد نواز شریف ’’ خلائی مخلوق ‘‘ سے تعبیر کر رہے ہیں ) کی طرف سے احتساب اور حب الوطنی کے نام پر کئے جانے والے اقدامات کی ہم نے کھل کر مخالفت کی اور ہم نے ان اقدامات کو عوام اور ملک دشمنی سے تعبیر کیا ۔ اس کا سبب یہ تھا کہ سیاسی قیادت دیانت دار تھی اور سیاسی کارکنوں کو اس وقت عوام کی تائید حاصل تھی لیکن آج کا سیاسی کارکن وہ اخلاقی جرات ( Moral Authority) کھو چکا ہے ، جو ماضی کے سیاسی کارکن کے پاس تھی ۔ اس کی وجہ صرف اور صرف آج کی سیاسی قیادت ہے ، جس کی دیانت داری اور نظریاتی وابستگی پر خود سیاسی کارکن تذبذب کا شکار ہیں اس کے علاوہ بائیں اور دائیں بازو کی سیاسی جماعتیں نظریاتی سیاست پر نہیں رہی ہیں ۔ اس سے زیادہ خطرناک بات یہ ہے کہ قیادت کا اپنے کارکنوں پر نہیں بلکہ چند قریبی لوگوں پر انحصار ہے ۔
جب سقوط ڈھاکہ کا سانحہ رونما ہوا ، اس وقت مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ اور مغربی پاکستان میں پاکستان پیپلزپارٹی جیسی مضبوط سیاسی جماعتیں وجود میں آ چکی تھیں ۔ PPPپہلی اور آخری نظریاتی ‘ لفٹ ٹو سینٹر وفاقی‘ ہر مذہب‘ ہر صوبے ‘ ہر زبان‘ کسانوں اور محنت کشوں‘ دانشوروں ‘ عورتوں اور مردوں کی یکساں پارٹی تھی۔ نیشنل عوامی پارٹی ( نیپ ) کا بھی مضبوط اور سیاسی طور پر بہت باشعور کیڈر موجود تھا لیکن مسلم لیگ کو کمزور کرکے پاکستان کے خلاف جو منصوبہ بنایا گیا تھا ۔ اس کی تکمیل کے حالات ان سیاسی جماعتوں سے بھی زیادہ مضبوط تھے ۔ 1970ءکی دہائی کے بعد اب تک کی پانچ دہائیوں میں تیسری مرتبہ ورلڈ آرڈر تبدیل ہو رہا ہے اتنے کم عرصے میں عالمی صف بندیوں میں اتنی تبدیلیوں کی انسانی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی ۔ 1980 ء کے عشرے میں سرد جنگ کا طویل عہد ختم ہوا ۔ عالمی اشتراکی تحریک تاریخ میں عبوری طور پر غیر موثر ہوئی اور سامراجی دنیا کے سرخیل امریکہ کا نیو ورلڈ آرڈر دنیا پر مسلط ہوا ۔ سانحہ مشرقی پاکستان اور جنرل ضیا الحق کا مارشل لا اس نیو ورلڈ آرڈر کے پیشگی اقدامات تھے کیونکہ جنگ کا میدان جنوب مغربی ایشیا تھا ۔ پاکستان پہلے کی طرح آج بھی اپنے محل و قوع کے اعتبار سے عالمی مفادات کے ٹکراؤ کا زمینی مرکز ہے ۔ عالمی حالات نے ایک بار پھر کروٹ لی اور امریکی نیو ورلڈ آرڈر کیلئے خطرات پیدا ہوئے تو امریکہ میں نائن الیون کا واقعہ رونما ہوا اور انسانی تاریخ میں خونریزی کا ایک بدترین عہد شروع ہوا ۔ اس کیلئے پاکستان میں جنرل پرویز مشرف کا مارشل لا ایک پیشگی اقدام تھا لیکن دو مرتبہ عالمی حالات میں مکمل کایا پلٹ اور پاکستان میں دوغیرمنتخب حکومتوں کا پاکستان پیپلز پارٹی نے ڈٹ کر مقابلہ کیا اور پاکستان کی ایک سیاسی سمت متعین رکھی ۔ اگرچہ جنرل ضیاء الحق کے دور سے اب تک افراتفری ، انتشار اور دہشت گردی کی وجہ سے پاکستان میں پرامن ماحول میں سیاسی عمل جاری نہ رہ سکا کیونکہ دہشت گردی اور انارکی پر عالمی سامراجی سیاست کا انحصار تھا لیکن یہ قومی یا سیاسی انارکی نہیں تھی ، جو ملک کے داخلی استحکام یا سلامتی کیلئے بڑا خطرہ ہو ۔ پیپلزپارٹی نے بطور سیاسی ادارہ ذوالفقار علی بھٹو سے لے کر محترمہ بے نظیر بھٹو تک اس ملک کو سیاست میں جکڑے رکھا ۔ ابھی تک وہ نظریاتی سیاسی پارٹی رہی اس کے مزید مضبوط دلائل دیئے جا سکتے ہیں ۔
بات بہت طویل ہو گئی ہے ۔ پیپلز پارٹی اب پہلے والی سیاسی جماعت نہیں رہی ۔ مسلم لیگ (ن) کبھی ایسی سیاسی جماعت نہیں رہی ، جو ان عوامل کا تدارک کر سکے ، جو انارکی کا سبب بنتے ہیں ۔ ضیاء الحق کے دور میںلسانی نعرہ لگانے والی اس جماعت نے نہ صرف پیپلز پارٹی کو علاقائی سوچ کی طرف دھکیلا بلکہ مسلم لیگ (ن) نے ’’ سیاست دولت کیلئے اور دولت سیاست کیلئے ‘‘ کا نظریہ رائج کیا ۔ 1990ء کے عشرے میں سیاست خراب ہوئی تو پاکستان تحریک انصاف پرانی سیاسی جماعتوں اور پرانی سیاست کو گالی دینے کے ایجنڈے پر آگے بڑھی اور اس میں وہ سارے لوگ شامل ہو گئے ۔
جن کی وجہ سے سیاست گالی بنی ۔ دیگر مذہبی اور قوم پرست جماعتیں پاکستانی قوم کی عمودی تقسیم کا سبب ہیں ۔ غربت اور اب بقول پیپلزپارٹی کے منشور کے ’’ بھوک اور بے کسی ‘‘ میں اضافے سے پاکستانی معاشرہ میں افقی تقسیم بھی بہت گہری ہو رہی ہے ۔ اس وقت احتساب کا جو عمل جاری ہے ، اس سے تحریک انصاف سمیت تمام کمزور سیاسی جماعتوں کی مضبوط قیادت بھی کمزور ہو گی ۔ کارکن اس پر کچھ نہیں کریں گے ۔ سیاسی جماعتیں بہت کمزور ہیں ۔ دنیا میں نیو ورلڈ آرڈر تشکیل پا رہا ہے اور اس سے پیش تر وہی حالات ہیں ، جو سانحہ مشرقی پاکستان ، ضیاالحق اور جنرل پرویز مشرف کے مارشل لاکے وقت تھے ۔ سب سے زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ اب پہلے والی پیپلز پارٹی بطور سیاسی ادارہ موجود نہیں ہے ۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں