آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات6؍ ربیع الاوّل 1440ھ 15؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عالمی نظام زندگی میں قوموں کے درمیان نئے رشتے قائم ہو رہے ہیں ۔ پرانے تعلقات منقطع کئے جارہے ہیں۔ نظریاتی، روایتی، مذہبی حدو د کو پھلانگا جارہا ہے، مفادات ہی اولین ترجیحات ٹھہرتی جارہی ہیں۔ عربوں کی سوچ آزاد ہو رہی ہے۔ صہیونی مخالف سوچ کو بھرپور طاقت سے کچلا جارہا ہے۔ امت مسلمہ کے باہمی اختلافات سے مخالف طاقت ور قوتوں نے خوب فائدہ اٹھایا ہے اور اب جنوبی ایشیاء ان قوتوں کا مرکز و محور ہے۔ روس ، ایران تعلقات شام کے محاذ پر کچھ غلط فہمیوں کا شکار ہیں تو فٹ بال ورلڈ کپ کے دوران سعودی ولی عہد کا دورہ ماسکو اور میچ کے دوران پیوٹن سے مصافحہ اپنے اثرات لئے آگے بڑھ رہا ہے۔ امریکی وزیر دفاع کا دورہ چین دنیا کی بدلتی ہوئی صورت حال میں خصوصی اہمیت اختیار کرچکا ہے۔ اس دورے سے قبل امریکہ بھارت تعلقات میں وقتی سرد مہری مستقبل میں عالمی سطح پر رونما ہونے والی تبدیلیوں کی نشان دہی کررہی ہے۔ دنیا جس تیزی سے اپنے رشتے ناطے جوڑ توڑ رہی ہے اس تعلق داری میں ہم کہیں نہیں مگر ان رشتوں کی شدت سب سے زیادہ پاکستان پر ہی محسوس کی جارہی ہے اورہماری حالت یہ ہے کہ دن بدن مسائل میں گھرتے جارہے ہیں اور ’’گرے لسٹ‘‘ میں نام شامل ہونے کے بعد ان مسائل میں مزید اضافے کا خدشہ ہے اور ہم ہیں کہ ایک ایسی انجانی منزل کی جانب بڑھ رہے ہیں

جس کا کوئی نام و نشان نہیں۔ 25جولائی ایک ایسی تبدیلی کا دن ہے کہ جس میں کئی نامور سیاسی پہلوان اکھاڑے میں چت ہوتے نظر آرہے ہیں۔ زبان و بیان کی حدود کے اندررہتے ہوئے یہی کہنا مناسب ہوگا کہ انتخابی مہم شروع تو ہو چکی مگر ووٹر پریشان اور سیاسی رہنما حیران ہیں کہ آخر جمہوریت کی کشتی ہچکولے کیوں کھا رہی ہے؟ کسی کو کچھ سمجھ نہیںآرہا کہ اس سارے کھیل تماشے میں کون سا نیا بیانیہ لکھا جارہا ہے۔ ایسا کیوں محسوس ہو رہا ہے کہ ایک سیاسی جماعت کو دیوار سے لگایا جارہا ہے۔انتخابات کے دھواں دار اور شاندارموسم میں اضطراب و بے چینی کی کیفیت کیوں ہے؟ ایسے لگ رہا ہے کہ جمہوریت پر نزع کا عالم طاری ہے، الیکشن کا عمل جاری و ساری ہے مگر اس کی شفافیت مسلسل سوالیہ نشان بنتی جارہی ہے۔ عوام کو یقین ہے نہ سیاست دانوں کو کہ آیا جمہوریت کا یہ قافلہ اپنی منزل پائے گا بھی یا نہیں؟ گومگو کی صورت حال،ن لیگ کا سیاسی زوال بہت سے سوالات اور وسوسوںکو جنم دے رہا ہے۔ یہ ایک بہت بڑا امتحان ہے۔ عدالتی فیصلے ہوں یا احتساب کا عمل اس کی ٹائمنگ بھی اپنی جگہ اہمیت اختیار کرتی جارہی ہے۔ انصاف تو ہورہا ہے احتساب کا پہیہ بھی بڑی تیزی سے چل رہا ہے مگر انتخاب کہیں نظر نہیں آرہا۔کوئی رونق ، کوئی جوش و جذبہ، میلے ٹھیلے کا سماں تو دور کی بات بس ایک خوف کی فضاء ہے، سیاسی جماعتیں اور ان کی قیادتیں ڈر اور خوف کے باعث سکتے میں ہیں۔ ایسے محسوس ہونے لگا ہے کہ 25 جولائی 2018 ء کا انتخاب سیاست دانوں کے گلے میں پھنسی ہڈی بن گیا ہے کوئی اسے نگلنے کو تیار نہیں۔ چوں چوں کا یہ مربہ متنجن بنا کر جو پیش کیا جارہا ہے یہ پاکستان کا مستقبل نہیں۔ عوامی توقعات کے برعکس سیاسی قیادتیں ختم ہو جائیں گی تو عوام بے یارو مدد گار رہ جائیں گے۔ بے رحم سیاست اور تقدیر کے فیصلوں کو کوئی نہیں ٹال سکتا۔ غلطیوں کی سزاتو ملنی چاہئے مگر سیاسی تنہائی کا جو نقشہ مستقبل میں نظر آرہا ہے کہیں عالمی سطح پر ہمیں بالکل ہی تنہا نہ کردے۔ آج چین آپ کے ساتھ کھڑا ہے ، روس سے تعلقات کے اچھے امکانات ہیں۔ بہت سارے معاملات میں عالمی دبائو کو برداشت کیا جارہا ہے، کشمیر سلگ رہا ہے، بھارت سرپر چڑھ دوڑا ہے، ایران آپ کی طرف دیکھ رہا ہے۔ عربوں سے تعلقات پہلے سے کم سطح پر ہیں۔امن و امان کی صورت حال ماضی سے کئی ہزار درجے بہتر ہے، لوڈشیڈنگ ماضی کی نسبت کم ہو رہی ہے، ایسے حالات میں کچھ سیاسی قوتوں کا میدان سے غائب ہونا بہت سارے تعلقات، فوائد اور امکانات کے مواقع کھونے کا باعث بن سکتا ہے۔ ہمارا مقصد یہ ہرگز نہیں کہ انصاف رک جائے یا احتساب نہ ہو۔ خواہش یہ ہے کہ انصاف واقعی انصاف ہو اوراحتساب ہو تو پھر سب کا ہو۔ ماضی میں بہت ساری ممکنہ تبدیلیوں کے بارے میں جو کچھ لکھا اس بات کی خوشی نہیں کہ سچ ثابت ہو رہی ہیں، دکھ اس بات کا ہے کہ کسی نے ماضی سے سبق حاصل نہیں کیا۔ ن لیگ کا انجام متحدہ جیسا ہوگا۔ یہ تو سچ ثابت ہو رہا ہے مگر دکھ اس بات کا ہے کہ کسی نے بڑی سیاسی جماعت کو شخصیت پرستی سے نکالنے کی کوشش نہیں کی اور اس کی بنیادیں مزید کھوکھلی ہوتی چلی گئیں۔ آج ماضی میں ’’چاند تارے‘‘ توڑ کر لانے والے ’’چکنے گھڑوں‘‘ پر پھسلنے والوں نے ایک بار پھر ’’جیپ‘‘ کی سواری پکڑ لی ہے، آخر کب تک ہم چاند تارے توڑ کر لانیوالوں کی امید پر کھوکھلے خواب بنتے اور چکنے گھڑوں کی آس میں کناروں پر بیٹھے لہریں گنتے رہیں گے۔ اگرچہ ’’ان سواروں‘‘ کی رفتار کو پکڑا نہیں جاسکتا مگر جمہوریت کے بنجر راستوں پر ایسی گاڑیوں کے ٹائر پنکچر بھی ہوسکتے ہیں۔چاند تاروں اور چکنے گھڑوں کے بعد اب اس سیاسی لشکر کی جو تیاری کی گئی ہے کسی بھی وقت دھوکہ دے سکتی ہے ۔ سیاست کی گاڑی جس ڈگر پر چل نکلی ہے اس پر ٹکرائو کے واضح امکانات ہیں جس کے بعد افراتفری اورانتشار پھیلنے کا خدشہ ہے۔ کوئی ایسا ماحول بھی پیدا کیا جاسکتا ہے جس سے انتخابات متنازعہ صورت اختیار کرجائیں لہٰذا ٹکرائو کی یہ صورت حال ان عناصر کو راس آتی ہے جو جمہوریت کے خیر خواہ نہیں۔ لوگ سیاست دانوں سے پانچ سال کا حساب مانگنا شروع ہوگئے ہیں، بات آگے نکل گئی تو بڑے بڑوں کو حساب دینا پڑے گا، کارکن اپنے رہنمائوں کی کارکردگی پر ناراض ہیں، اگر وہ محض ناراض ہوتے تو خاموشی سے گھربیٹھ جاتے لیکن امیدواروں کے قافلوں کو روک کر ان سے سوالات کرنے کے انداز سے محسوس ہوتا ہے کہ وہ ناراض نہیں بلکہ غصے میں ہیں۔ اگر اس صورت حال سے کچھ قوتوں نے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی تو معاملات اور آگے نکل جائینگے لیکن اگر اسکو بہتر کرنے کی کوشش کی گئی تو بات بن جائیگی۔ حالات بتا رہے ہیں کہ چاند تاروں اور چکنے گھڑوں کی طرح جیپ بھی تھوڑا ہی سفر کر پائیگی اور بعد میں چمک سے پگھل کرلوٹا بن جائیگی۔ خدا کرے ہمارے اندیشے، خدشات درست ثابت نہ ہوں، ملک ترقی ، امن اور استحکام کی طرف قدم بڑھانے لگے،سیاسی جماعتوںو سیاسی رہنمائوں کی تطہیر،احتساب ملک و قوم کے حق میں مثبت نتائج کا ذریعہ بنے مگر اس کیلئے ہر سطح پر قومی، ملی سوچ اپنانے کی ضرورت ہے۔ یہ سوچ عام ووٹر کو بھی اختیار کرنا چاہئے۔ ملک و قوم کی تقدیر میں فیصلہ کن کردار اداکرنیوالے قومی اداروں کو بھی اس قدر اکھاڑ بچھاڑ سے احتراز کرنا چاہئے جس سے اقتدار کے ایوان عدم توازن کا شکار ہو جائیں۔ اس وقت ہمیں اعتدال، توازن کی ہمیشہ سے زیادہ ضرورت ہے۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں