آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات6؍ ربیع الاوّل 1440ھ 15؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

زمانہ قدیم میں حصول اقتدار کےلئے جنگ ہوتی تھی۔ انسان مہذب ہوا تو حکومت بنانے کے لئے الیکشن اور سیاسی مقابلے کارجحان فروغ پایا۔ جنگ میں فریق اپنے پرچم لہراتے تھے، الیکشن میںبھی ہر سیاسی جماعت اپنے مخصوص رنگوںکے پرچم کے ساتھ مہم چلاتی ہے۔ ان دنوں پرچموں اور رنگوں کی بہار ہے۔ تحریک ِ انصاف بلاروک ٹوک اپنے سرخ اور سبزرنگ کے پھریرے لہراتی نظر آ رہی ہے۔مسلم لیگ ن کا سبز اور سفید پرچم تیس سال تک مضبوط ڈنڈے کے سہارے سے قائم و دائم رہا، اب یہ رنگ مدھم کیاجارہا ہے۔ پاکستان پیپلزپارٹی کا سرخ، سبز اور سیاہ پرچم عوام کے دلوں پر حکمرانی کرتارہا مگر اب یہ سندھ تک محدود ہے۔ اسے مزید محدود کرنے کی خواہش اب بھی کارفرماہے لیکن آصف زرداری فی الحال قابو نہیں آ رہے۔ زیادہ دبایا تو ان کا سرخ رنگ، نواز شریف کے سبز رنگ سے مل کر دو آتشہ نہ ہو جائے، اس لئے احتیاط برتی جارہی ہے۔
رنگوں کی سیاست کے اس کھیل میں رواں ہفتے تک زیرزمین زلزلہ خیزی رہی کہا جاتا ہے کہ سرخ اور سبز کو ملا کر پیلا رنگ بننے والی تحریک ِ انصاف پہلے تو انتخابات کے ملتوی ہونے پربالکل نہیں راضی تھی مگر پھر سوچ و بچار اور غور و فکر پر تیار ہوئی مگر گہرے سرخ زرداری نے انتخابات میں تاخیر پر سرخ کارڈ دکھا دیا کیونکہ ان کے خیال میں الیکشن ملتوی ہوئے تو ن لیگ

کے ساتھ ساتھ پیپلزپارٹی پر بھی ’’نظرکرم‘‘ کا نزول ہوگا اور سندھ میں ان کےارکان اسمبلی بھی بکھر سکتے ہیں۔ اسی لئے اب شاید سب ہی انتخابات کے لئے یکسو ہیں۔ کوئی حادثہ نہ ہوا تو اب 25جولائی ہی کو انتخابات کا انعقاد ہوگا۔
رنگوں کے حوالے سے معاشروں، اداروںاور انسانوں میں ہمیشہ سے پسند و ناپسند موجود رہی ہے۔ رنگوں کے معانی ہوتے ہیں اور انہیں علامت کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ مغل دربار میں نیلا رنگ منحوس سمجھا جاتا تھا۔ ابراہیم ارالےکے مطابق مغل دربار میں نیلا رنگ پہننا ممنوع تھاکیونکہ اسے موت کا رنگ سمجھا جاتا تھا۔ مغل دربار میں زندگی سے محبت کا یہ عالم تھا کہ وہاں موت کا ذکر کرنا بھی منع تھا۔ سلطنت ِ عثمانیہ میں بھی رنگوں کی شدید پسند و ناپسندموجود تھی۔ حکمرانوں کی نظرمیں اسلام کا رنگ سفید تھا۔ حکمران سفید رنگ کی پگڑی پہنتے تھے جبکہ یہودیوںکوسفیدپگڑی پہننے کی اجازت نہ تھی بلکہ ان کے لئے لازم تھاکہ وہ کالے جوتے پہنیں۔ مذہبی حوالے سے دیکھاجائے تو مسلمان رسول اکرمﷺ کے روضہ ٔ مبارک کے سبز رنگ کی نسبت سے اس رنگ کو احترام دیتے ہیں۔ ہندو مت میں گیروا رنگ مذہب کے ساتھ جڑا ہواہے۔ سلطنت ِ عظمیٰ روما میں ارغوانی رنگ اقتدار کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ الیگزینڈریا کی ملکہ قلوپطرہ کا پسندیدہ رنگ بھی ارغوانی تھا۔ ترکی کے نوبل انعام یافتہ مصنف اُرھن پاموک کے مشہور ناول "My Name is Red"میں سرخ رنگ بنانے اور پھر اس سے خطاطی اور مصوری کرنے پر پورا پلاٹ تشکیل دیاگیا ہے۔یہ بھی مشہور ہے کہ جب محمد بن قاسم نے ملتان پر حملہ کیا تو اس کا مقابلہ کرنے والے مقامی باشندوں نے نیلے کپڑے پہن رکھے تھے۔ اسی لئے اب سرائیکی دانشور نیلے رنگ کی اجرک کو جنوبی پنجاب کی ثقافتی پہچان بنا رہے ہیں۔ بابا یحییٰ خان کالے رنگ کو درویشوں کی پہچان قرار دیتے ہیں اور ہر وقت کالا رنگ پہنے رکھتے ہیں۔ پاکستا ن میں رنگوں کی سیاست دیکھیں تو خاکی رنگ کاہمیشہ سےغلبہ رہاہے۔ ماضی میں خاکی رنگ، مسلم لیگ کے کسی نہ کسی دھڑے کو سبز رنگ کا جھنڈا پکڑا کر عنان اقتدار اس کے حوالے کرتا رہا ہے لیکن اب خاکی اور سبز میں دوریاں پیداہوچکیں۔ اب تو خاکی رنگ کو، سرخ اور سبز جس کا مجموعہ پیلا ہوتاہے، پسند آگیا ہے۔ ماضی میں سبز اورخاکی رنگ مضبوط اتحاد بناتےرہے۔ اب خاکی اور پیلا کون سے رنگ میںبدلیں گے اور اس ملاپ سے کتنا فائدہ ہوگا یہ تو انتخابات کے بعد ہی پتا چل سکے گا۔
آیئے چشم تصور وا کریں اور مستقبل پر نظر ڈالیں۔ سبز اور سرخ کا ملاپ یعنی تحریک ِ انصاف کا علامتی رنگ ’’پیلا‘‘ برسراقتدار آچکا ہے اور اسے پہلے ہی سال خاکیوں کے سربراہ کا فیصلہ کرنا ہے کیونکہ مدت ِ ملازمت پہلے ہی سال میں ختم ہو رہی ہوگی۔ اگرتحقیق سے مدد لیں تو پتا یہ چلتاہے کہ جنرل جہانگیر کرامت وہ واحد چیف تھے جن پر خاکی ترجیح اور وزیراعظم بینظیر بھٹو کی ترجیح یکجااور متفق ہوئی تھی وگرنہ خاکی ترجیحات کی ترتیب اور ہوتی ہے جبکہ نیلے پیلے ہرے وزیراعظموں کی ترجیحات کی ترتیب اور، ہرے وزیراعظم نواز شریف نے ہر بار خاکی ترجیح کو تبدیل کیا۔ جنرل علی قلی خان کے بجائے جنرل پرویز مشرف کو خاکی سربراہ بنایا۔ جنرل مشرف کو جنرل کیانی کواس لئے سربراہ بنانا پڑا کہ بینظیر بھٹو کے ساتھ مفاہمت کے پس منظر میں یہ بھی طے تھاکہ جنرل کیانی ہی انتخابات کروائیں گے۔ ہرے ہرے نواز شریف نے پھرسے خاکی ترجیح کو بدلتے ہوئے چوتھے نمبروالے جنرل راحیل شریف کو خاکی رنگ کی زمام دے دی گو ہرے کی یہ تدبیر خاکی حکمت ِ عملی کو نہ بدل سکی۔ ہرے نوازشریف نے ہر بار کی طرح پھر سے خاکی ترجیح اور ترتیب بدلی اور جنرل باوجوہ کو خاکیوںکی سربراہی دی۔ ہرے کی قسمت ہاری ہوئی تھی۔ تین بار اپنی مرضی کے خاکی لانے کے باوجودہرا ہار کی طرف بڑھتا گیا اور خاکی رنگ گہرا ہوتا رہا تاآنکہ کالے اور سرخ کا زمانہ آگیا۔ انٹرنیٹ کہتا ہے کہ دنیا بھر کی جوڈیشری کا رنگ کالا اور سرخ ہوتا ہے۔ کالا رنگ ایسا گہراہوتا ہے کہ وہ ہر ایک پر چھا جاتا ہے۔ ایسا ہی یہاں ہوا ہے۔ سرخ کے ملاپ نے تو ہرے رنگ کو سرے سے ہی چھپا دیا ہے۔ اب ہر طرف سرخ اور کالے کے گہرے رنگ ہیں اور بس اسی سے پیلا جلا پاسکتا ہے۔ سوال وہی ہوگا کہ پیلا وزیراعظم، خاکی سربراہ کا فیصلہ خاکی ترجیحات پر کرے گایا پھر سے وہ ہرے کی طرح ترتیب بدلے گا؟
یہ ملک ہمارا ہے۔ سارے رنگ ہمارے ہیں۔کوئی رنگ آئے یا کوئی رنگ جائے، ہرا جائے یا پیلا آئے فرق نہیں پڑتا۔ ہاں پاکستان کا چاند ستارہ قائم رہنا چاہئے، اس کے جمہوری اور ریاستی ادارے قائم رہنے چاہئیں، ان کو مضبوط ہونا چاہئے، رنگوں کی سیاست جو ہو، سو ہو، ہلالی پرچم نے لہرانا ہی لہرانا ہے۔
سائنسدان کہتے ہیں کہ سار ےرنگ ایک ہی رنگ سے نکلے ہیں۔ منشور (Prism) کو سورج کی سفید روشنی کے سامنے رکھیں تو دھنک رنگ الگ الگ نظر آتے ہیں گویا رنگوں کی یہ بہار نظر کا ایک دھوکہ ہے۔ اصل تو ان سب کی ایک ہے۔ پسند، ناپسند انسانی جبلت سہی مگر جب سب رنگ ایک ہی رنگ سے پھوٹتے ہیں تو کسی رنگ سے نفرت کیسی؟
ارہن پاموک نے توہمات کے حوالے سے لکھا ہے کہ عثمانی سلطنت کے عروج میں اکثر خطاط اور مصور عمر بھر کی محنت اور توجہ کے بعد بینائی سے محروم ہو جاتے تھے۔ ان کی آنکھوں پر کالا رنگ چھا جاتا تھا تو اسے فن کی معراج سمجھا جاتا تھا اور خیال یہ کیا جاتا تھا کہ رنگوں سے کھیلتے کھیلتے فن کار ابدیت کے رنگ میں ڈھل گیا ہے اور اب اسے اور کوئی رنگ دیکھنے کی ضرورت نہیں کیونکہ اب اس کے چاروں طرف کالے رنگ نےبسیرا کرلیا ہے۔ سائنس اور توہمات سے الگ ہو کر پاکستانی منظر نامے پر نظر ڈالیں تو مختلف پرچموں، رنگوں اور علامتوں سے بالاتر ہماری قومی علامت، ہمارا ہلالی سبزاور سفید پرچم ہے۔ اسے بلند رکھنا ہے تو ہمیں سب رنگوں کے ساتھ منصفانہ سلوک کرنا ہوگا۔ سب رنگوں کا احترام کرنا ہوگا جو قومیں سب رنگوں کو عزیز رکھتی ہیں وہ عظیم ہو جاتی ہیں اور جو کچھ رنگوں سے لڑتی ہیں وہ غریب ہو جاتی ہیں۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں