آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر10؍ربیع الاوّل 1440ھ 19؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’’پارٹی اِز ناٹ اوور‘‘ میرے دوست ، پارٹی تو 25جولائی سے شروع ہوگی۔ 1806 میں گریٹ نپولین نے روس کے خلاف شدید،تند و تیز، بجلی کوند مانندحملہ کیا ،تصور میں مخالف فوج کو صفحہ ہستی سے مٹانا تھا، جنگ BATTLE OF ANNIHLATION کہلائی۔ دوسری جنگ عظیم میں ہٹلر کااتحادیوں کے خلاف بھرپور حملہ BLITZ KRIEG کہلایا، اتحادیوں کوایک ہلے میں نیست و نابود کرنا مقصود تھا۔دونوں جنگوں میں وقتی فتح ضرور نصیب بنی، بعد ازاں ، نپولین اور ہٹلرتاریخ میںناکامی کے نشانِ عبرت رہے۔آج کل نواز شریف پارٹی کے خلاف آپریشن BLITZKRIEG جاری ہے۔سہیل وڑائچ کی تازہ بہ تازہ کتاب ’’ پارٹی اِز اوور‘‘ پچھلے چند مہینوں کے کالموں کا مجموعہ کتاب کی صورت میں آچکا ہے۔بہت خوبصورت مجموعہ ،ایسی پیش گوئیاں کہ ہکا بکا کر گئیں۔کتاب کی جان ’’ پارٹی اِز اوور‘‘ نواز شریف کی نااہلی سے چند ہفتے پہلے کا کالم ، میرااختلاف موجود، PARTY IS NOT OVER، دوست پارٹی تو ابھی شروع ہوئی ہے۔عام انتخابات دنوں کے فاصلے پر ،الیکشن کا انعقادتفکرات، وسوسے وخدشات، کل سے زیادہ آج بھی کیا جان بوجھ کرایسی افواہوں کو جوش دیا جارہا ہے؟جب سے وطن عزیز وجود میں آیا ،طاقتور اور با اختیار لوگوں کا ذہنی خلجان بصورت خبط مسیحائی بیماری بن کر ملکی سیاست کو آڑے ہاتھوں لے چکا ہے۔ جو کچھ ’’اُن ‘‘ کے بس میں

تھا، کر چکے ، کر ڈالا۔ پہلی ترتیب کا آخری مرحلہ، اختتام نذیر ،ن لیگی امیدواروںکے ٹکٹ واپس کرو اور آزاد لڑوBLITZKRIEG کا آخری مرحلہ تھا۔ تن من دھن اور بہیمانہ طاقت کے استعمال کا تسلسل جاری و ساری ہے۔ شبہات ظاہر کئے جا رہے ہیں کہ الیکشن کمیشن نے ایک دن توسیع کر کے ٹکٹ واپس کروانے میں اپنا حصہ ڈال دیا ۔دال دلیا اگر ہوچکا تو25 جولائی کو الیکشن کا انعقاد بھی ممکن،وگرنہ عشق کے امتحان اور بھی۔10جولائی کو نواز شریف کی الیکشن کمیشن سامنے طلبی ،حفظ ماتقدم، ’’ ن لیگ کی رجسٹریشن آپ کے نام کیوں منسوخ ہوسکتی ہے ‘‘۔ نواز شریف کی نا اہلی ،صدارت سے معزولی،وفاداریوں کی تبدیلی،حکومت کی رخصتی اور ن لیگی ٹکٹوں کی واپسی ،سب کچھ پلاننگ کے عین مطابق طے۔ دال نہ گلی تو پھر ن لیگ کو الیکشن سے باہر رکھنا واجب رہے گا۔ ایک پارٹی کی اکھاڑ پچھاڑ میں جس طرح وسائل کا استعمال رہا، ماضی قریب و بعیدمیں کبھی بھی اس شدت سے DEMOLITION PLAN دیکھنے کو نہیں ملا۔
جو کچھ ’’ اُن ‘‘ کے بس اختیار میں تھا ، کر ڈالا۔ عوام! عوام ! عوام ! ووٹر !ووٹر!ووٹر ! اب جو کچھ ’’آپ ‘‘ کے بس اختیار میں ، 25جولائی کو کر ڈالیں ، موزوں، مناسب جواب دیں، کہ لگ پتہ چل جائے ۔الیکشن کے دن دھاندلی کا منہ توڑ جواب دیں ۔ رو بہ عمل قوتوں کا بحران بڑا،عوام الناس کی ذہنی اختراعوں سے خوفزدہ ہیں۔ عوام سے نالاں کہ مسیحاؤں کی موجودگی میں غدار، کرپٹ، نااہل سیاستدانوں کو کوڑا دان کیوں نہیں بناتے۔اس سے پہلے 1988 میں عوام کی طاقت ’’مسیحاؤں‘‘ کے منصوبے خاک میں ملا چکے ہیں۔ 2002 میں باوجود کہ میدان خالی ملا ، نواز شریف اور بے نظیرملکوں باہر ، مشرف اور اسکی قاف لیگ سیاہ سفید کے مالک ۔ایسے میں دو تہائی اکثریت نے جنرل مشرف کی آئینی بغاوت،قانونی تجاوز کو تحفظ دینا تھا۔ منہ کی کھانا پڑی ، سادہ اکثریت نہ ملی۔تاریخ سے سبق کون سیکھے؟ امید کامل کہ 25 جولائی کو عوام کا مناسب جواب، لاجواب رکھے گا۔ چند دن پہلے نجی ٹی وی پر ڈاکٹر ہما بقائی کا ساتھ رہا، حال ہی میں پیرس میں ایک کانفرنس سے واپس آئی تھیں، وہاں کے میڈیا کی پاکستانی انتخابات بارے ایک اخباری شہ سرخی کا بتایا، ’’ ججز الیکشن اور جمہوریت بغیر سیاست ‘‘، بلاتبصرہ۔ شیخ رشید کے حلقہ انتخاب میں عزت مآب چیف جسٹس کی دبنگ انٹری، تاریخ کے سارے واقعات ہیچ نظر آرہے ہیں۔ کئی سوالات کا جنم ، سادہ جمہور ہمہ تن سوالیہ نشان کہ کدھر جائیں۔ پاکستان ایک بار پھرخبط مسیحائی کے شدید دورانیے سے دوچار ہے ۔مسیحائی اضطرار ، ہیجان ،تشنج ایک گمبھیر بیماری،وطنی طول و عرض کے کونے کھدروں میں رنگ جما چکی ہے۔کاروبارِ مسیحائی ، ہمارے لیے نیا نویلا نہ ہی اجنبی ، بد نصیب قوم اعجاز مسیحائی کے ہاتھوں ہی تو بے شمار دفعہ برباد ہوئی۔ مسیحائی دکھانے والوں کے ہاتھوںہی بار بار جان بلب رہے۔
محاسبہ جاری، BATTLE OF ANNIHILATION یا BLITZKRIEG سب کا حاصل حصول ایک، نواز شریف کو 70سالہ وطنی تاریخ کا بدترین کردار بنانا۔ نواز شریف کی دیانت ، صداقت، شرافت کی قسم کھا سکتا ہوں نہ عمران خان اور زرداری وغیرہ کے معاملات پر حتمی رائے دے سکتا ہوں۔ نواز شریف کے اقتدار سنبھالتے ہی سیاست نہیں ریاست بچاؤ، گیارہ ماہ بعد ہی نواز شریف نے استعفیٰ دے کر گھر جانا تھا ۔4سال کی محنت شاقہ کے بعدجا کر انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئیں ۔ رسمی اعلامیہ جاری ہوا،ڈرائنگ روم ، سوشل میڈیا، آف دی ریکارڈ ہر مقام سے مستحکم بیانیے جاری ہوئے کہ نواز شریف بلکہ پورے خاندان کو قصہ پارینہ سمجھو۔ ملک کے درخشاں مستقبل میں شریف خاندان کا کوئی رول نہیں ۔ صاحب بصیرت دانشوروں کے لیے اچھنبے کی بات نہیں تھی کہ بات اصولی ، بات آزمودہ، برسوں پرانی کہانی، تکرار ہی۔ مہینوں سے ، سالوں سے لکھ رہا ہوں کہ جس طرح2014 کے دھرنے کی افادیت اور اصلیت کا کھوج لگانے میں ہر طرح کی عقل سلیم ناکام رہی ۔ بین ہی ماضی کی کئی وارداتیں، تاریخ کے اوراق میں محفوظ ،وجوہات ،محرکات آج بھی لاموجود۔ پاکستان کے بانی مبانی وزیر اعظم لیاقت علی خان کے خلاف ناکام بغاوت سے شہادت تک ، خون آلود واقعات موجود ضرور ۔بدقسمتی اتنی کہ وجوہات، جوابات ڈھونڈنے میں پورا نظام ناکام ، 66سال ہونے کو، تگ و دو متروک ہوچکی۔23جنوری 1951 میں پہلی دفعہ کمانڈ مکمل طور پرانگریز جنرل گریسی سے پاکستانی میجر جنرل ایوب خان کو منتقل ہوئی۔7مارچ ، 1ماہ چودہ دن بعد دو جرنیل، چند بریگیڈئیر اور درجن بھرکرنل و جونیئر افسروں نے کمیونسٹ پارٹی کے ساتھ مل کر بانی پاکستان کی حکومت کا تختہ اُلٹنے کی ٹھانی، عین موقع پر ناکام بنا دی گئی۔ شواہد بتاتے ہیں یہ پلاننگ3سال سے جاری تھی۔عملی جامہ پہنانے کا وقت، رائل پاکستانی آرمی سے پاکستان آرمی بنتے ہی،عمل کا وقت آن پہنچا ۔
تفصیل میں جائے بغیرتکلیف دہ بات اتنی ،ملی بھگت سے جامع اور منظم طریقے سے بغاوت کرنے والوں کا مکمل ٹرائل نہ ہو پایا۔ تساہل ، تغافل یا تجاہل عارفانہ کہ بغاوت میں ملوث افسران کا بجائے کورٹ مارشل رہتا ،فوجی عدالتوں میں اسپیڈی ٹرائل ہوتا،سویلین عدالتوں کے سپرد کر دیا گیا۔ مقدمہ بے سود گیا۔ غرض اتنی کہ جب دوران ٹرائل جنرل اکبر اور ساتھیوں سے وجوہات دریافت کی گئیں توبتایا گیا ، (ان کے منہ میں خاک )’’قائد ملت نا اہل،کرپٹ اور بھارت بارے نرم رویہ رکھتے تھے‘‘۔یہی تین رہنما اصول آنے والے وقتوں میں آج تک ہر سویلین حکمران پر آزمائے جا چکے ہیں ۔ تاریخی حقیقت اپنی جگہ کہ 70سالہ سیاسی تاریخ میں قومی دفاع اور اہم سیکورٹی معاملات میں کسی سویلین حکومت نے کبھی بھی فوج کی مرضی کے بغیرکوئی قدم نہیں اُٹھایا۔پھر بھی لیاقت علی خان سے نواز شریف تک ،الزامات کی نوعیت نہ بدلی۔ائیر مارشل اصغر خان اپنی کتاب" "WE HAVE LEARNT NOTHING FROM HISTORY میں رقمطراز،’’ آزادی کے چند دنوں بعد ہی ایک تقریب میں قائد اعظم موجودتھے۔ جنرل اکبر اور جنرل ایوب (اس وقت شاید بریگیڈیئر) نے مجھے بھی ساتھ لیا اورقائد اعظم کو اپنے مشوروں سے نوازنے کی جسارت کر ڈالی۔عظیم قائد نے خفگی سے ڈانٹا،’’ تم ایک سپاہی ہو، تمہارا ریاست کی سیاسی اونچ نیچ سے کوئی تعلق نہیں۔ تمہارا کام صرف اور صرف اپنے پیشے پر توجہ دینا ہے ‘‘۔
نواز شریف کی اداراتی بیخ کنی تو سمجھ آتی ہے ، عدالتوں کا سیخ پا ہونا بھی بنتا ہے کہ کرپٹ، نااہل اور غدار۔مگرجمہوری وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین اور پہلی آئین ساز اسمبلی کے اوپر عدلیہ کا غصہ آج تک سمجھ میں نہیں آیا۔ بانی مبانی اسمبلی کی برخاستگی کا عدالتی فیصلہ آج بھی سمجھ کے کسی خانے میں فٹ نہیں بیٹھتا۔ مانا کہ لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد جمہوری حکومتوں پر نوکر شاہی اور عسکری گٹھ جوڑ افتاد کا لا متناہی سلسلہ شروع ہو چکا تھا۔ عدلیہ سے ہرگز توقع نہ تھی کہ بانی مبانی اسمبلی کو کرپٹ اور نا اہل قرار دیتی۔ مجھے سو فیصد یقین تھا، پاناما کیس پر عدالتی فیصلوں نے، ریاست کو ایک نفسیاتی ہیجان میں دھکیلنا تھا۔آج دو قطبی رویہ رو بہ عمل ہے۔شیخ رشید کے حلقے میں جا کر اس کے مطالبات کو پذیرائی مناسب نہیں لگتی۔ اس سے پہلے کئی بے ہنگم واقعات پرعرصے سے لیگل کمیونٹی،سندھ بار کونسل،کراچی بار، خواتین تنظیمیں وغیرہ سراپا احتجاج ہیں۔لوگوں کی زبان عدالتوں پر دراز ہوچکی ہے، سانحہ کہ ملک کے طول و عرض میںجسٹس شوکت صدیقی،صدیق الفاروق،سیشن جج کوہاٹ سمیت درجنوں سپریم جوڈیشل کونسل جا چکے ہیں۔ وطن عزیز تتر بتر،انتہائی نامساعد حالات کی گرفت میں ہے۔ الیکشن سے چار ماہ پہلے ڈھیر میڈیا کو کامل ڈھیری بنا دیا گیا۔جسٹس قاضی عیسیٰ کا عدالتی تبصرہ ’’ ملک کے اندر خوف اور گھٹن کا ماحول رہے گا‘‘۔دنیا کے کسی کونے کھدرے میں یہ بھی دیکھا کہ الیکشن چند ہفتے دور،امیدواروں کی پکڑ دھکڑ احتساب ،مار پیٹ ،دباؤ، تشدد عام ہوجائے ۔نواز شریف کی نا اہلی اور ن لیگ کی صدارت سے معزولی، ایک سال سے منظم طریقے سے ن لیگ کی اکھاڑ پچھاڑ ،پی ٹی آئی کا بناؤ سنگھار ، ، خاص ترتیب سے مال کو پی ٹی آئی جانب ہانکنا، ن لیگ کے لیے ایک قانون باقی لاڈلوں پیاروں کے لیے الگ قانون، سابقہ وفاقی اور پنجاب حکومت پر عدالتی سوموٹو، نیب کی ن لیگ پر مشفافانہ گرفت، وفاداریوں کا ردوبدل، آزاد امیدواروں پر امیداور اب ن لیگی امیدواروں سے دھونس دھاندلی سے ٹکٹ واپس کروانا،یہی کچھ BATTLE OF ANNIHLATION، سب کچھ BLTZKRIEG بھی۔25 جولائی کی کامیابی ، مسیحا کی نیابت یا خلافت کا حقدار کون، تعین 25جولائی کے بعدہوگا ۔ اگر محمد خان جونیجو اور ظفراللہ جمالی مطمئن نہ کر سکے ، چوہدری شجاعت پر بھروسہ نہ ہوسکا ، بننا کیا ہے؟چند سالوں خصوصاً پچھلے ایک سال سے جاری نواز شریف خلاف BLITZKRIEG اپنے منطقی انجام کو، منطقی انجام کیا ہوگا؟ سرحد پارایک طرف امریکہ دوسری طرف بھارت ،وطن عزیز کی گوشمالی کرنے کے لیے تیار ،اسی دن کا انتظار۔25جولائی نے سب بل نکالنے ہیں،پیچ و خم درست رکھنے ہیں۔ آپریشن BLITZKRIEG یقیناًکامیاب،ریاست جانبر ہو پائے گی؟
شذرہ: پچھلے ہفتے ڈاکٹر فرقان حمید نے اپنے کالم میں برادرم سہیل گوئندی بارے ترکی میںایک گفتگو کا ذکر کیا، تاثر کہ میرے سامنے ہوئی۔مجھے یاد ہے اس پیرائے میں میرے سامنے کوئی ایسی گفتگو نہیں ہوئی۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں