آپ آف لائن ہیں
منگل14؍ محرم الحرام 1440 ھ25؍ستمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

24 جون کے صدارتی اور پارلیمنٹ کے بیک وقت انتخابات میں صدر ایردوان اور ان کی جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کی مسلسل کامیابیوں پر نہ صرف ترکی بلکہ دنیا بھر میں جہاں جہاں مسلمان آباد ہیں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ صدر مملکت ممنون حسین، نگراں وزیراعظم ناصر الملک اور پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے بھی صدر ایردوان اور وزیراعظم بن علی یلدرم کو مبارکباد کے پیغامات دئیے۔ پاکستان کے عوام اور بڑی تعداد میں میڈیا سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے براہ راست طور پر اور راقم کے توسط سے بھی صدر ایردوان اور ان کی جماعت کو مبارکباد پیش کی۔ پاکستانی صحافیوں نے اس بار بھی ترکی کے انتخابات کی کوریج اور انتخابات کے نتائج کے ایک ہفتہ قبل سو فیصد حد تک درست پیش کرنے پر راقم کو مبارکباد پیش کی جس پر میں ان کا شکر گزار ہوں۔
24 جون 2018ء کے صدارتی اور پارلیمنٹ کے بیک وقت انتخابات میں برسر اقتدار جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی (آق پارٹی) کی مسلسل تیرہویں فتح بلکہ صدارتی اور پارلیمنٹ دونوں کے انتخابات کو ایک دوسرے سے الگ گرتے ہوئے دیکھا جائے تو یہ آق پارٹی کی مسلسل چودہویں کامیابی ہے۔ آق پارٹی اس سے قبل پانچ عام پارلیمانی انتخابات، تین بلدیاتی انتخابات اور ایک بار صدارتی انتخابات جیتنے کے علاوہ تین بار ریفرنڈم میں مسلسل کامیابی

حاصل کرچکی ہے۔ دنیا کے کسی بھی جمہوری ملک میں کسی بھی سیاسی جماعت اور سیاسی لیڈر کو اس طرح تسلسل کے ساتھ کامیابی نصیب نہیں ہوئی جس طرح صدر ایردوان اور ان کی جماعت آق پارٹی کو نصیب ہوئی ہے۔ صدر ایردوان اور ان کی جماعت آق پارٹی 2023ء تک اپنے اس اقتدار کو جاری رکھتے ہوئے دنیا کے جمہوری ممالک میں طویل ترین اقتدار رکھنے کا ایسا ریکارڈ قائم کریں گے جس کو توڑنا آسان نہ ہوگا۔ ترکی کی 68 سالہ جمہوری عہد کی اس تاریخ ساز شخصیت کی کامیابی کی وجوہات پر اپنے اس کالم میں ایک ایک کرکے روشنی ڈالوں گا۔ موجودہ حالات میں ترکی کی سیاست میں ایسا کوئی سیاسی رہنما دکھائی نہیں دیتا ہے جسے صدر ایردوان کا مستقبل میں متبادل قرار دیا جاسکتا ہو۔ کرشماتی لیڈر ایردوان کو ترکی کی سیاسی تاریخ میں اپنے کام اور امور کو ایک منظم پروگرام اور شیڈول کے تحت ہی بسر کرنےکی وجہ سے دیگر سیاستدانوں پر برتری حاصل ہے۔ صدر ایردوان اپنے صدارتی فرائض ادا کرنے کے ساتھ ساتھ ایک دن میں دو تین جلسوں، افتتاحی تقریبات اور دیگر سیاسی تقریبات میں ہمیشہ خود شرکت کرنے کو ترجیح دیتے ہیں جو ان کی کامیابی کاوسیلہ بھی سمجھا جاتا ہے۔ صدر ایردوان اپنے فنِ خطابت کی بدولت لوگوں کو اپنے سحر میں مبتلا کرنے کے فن سے خوب آشنا ہیں اور یہی وجہ ہے کہ لوگ جوق در جوق ان کی جانب کھنچے چلے آتے ہیں اور پھر ان کی پارٹی کا حصہ بن کر رہ جاتے ہیں۔ ان کا نمازِ جمعہ کے لئے کسی بھی محلے کی مسجد میں چلے جانا اور وہاں جمع لوگوں میں گھل مل جانا اور لوگوں کا اُن کو اپنے گھر چائے پر مدعو کرنا اور ایردوان کا بغیر کسی تردد کے ان کی دعوت قبول کرتے ہوئے ان کے گھر چلے جانا، ان کے ایک عوامی لیڈر ہونے کی عکاسی کرنے کے ساتھ ساتھ صدر ایردوان میں تکبر کا ذرہ بھر بھی کوئی شائبہ موجودہ نہ ہونے کا پتہ دیتا ہے۔ ان کے برعکس ان کے سب سے بڑے حریف اور ری پبلکن پیپلز پارٹی کے صدارتی امیدوار محرم اِنجے کی مختلف پوسٹرز پر نمازِ جمعہ پڑھتے ہوئے لگائی گئی تصاویر اور پندرہ سال کی عمر سے نماز جمعہ پڑھنے کے بیان پر کسی نے بھی یقین نہ کیا بلکہ انہیں اپنی پارٹی کے اندر سے اس قسم کا بیان دینے پر سرزنش کا سامنا کرنا پڑا۔ وہ عوام کو باور کروانے میں ناکام رہے اور ان کی پارٹی کی مذہب سے متعلق پالیسی تبدیل کرنے کی کوشش بھی دھری کی دھری رہ گئی۔ ایردوان کو جدوجہد کرنے والے، آسانی سے ہار نہ ماننے والے اور مشکلات کے سامنے ڈٹ جانے والے رہنما کے طور پر دیکھا جاتا ہےاور ان کی یہی صلاحیت ان کو دیگر تمام لیڈروں سے ممتاز کرتی ہے۔ ان پر امریکہ، جرمنی، فرانس اور اسرائیل کی جانب سے جس طریقے سے دبائو ڈالا جاتا رہا، انہوں نے ان ممالک کی ذرہ بھر پروا نہ کی اور ان ممالک کے رہنمائوں کی جانب سے جب بھی صدر ایردوان کے خلاف سخت بیان جاری کیا گیا تو ایردوان نے ترکی بہ ترکی جواب دیتے ہوئے ان پر اپنا سکہ قائم کیے رکھا حالانکہ وہ اس بات سے اچھی طرح آگاہ تھے اس سے ان کے ملک کے لئے مشکلات کھڑی ہو سکتی ہیں۔ ڈیوس میں عالمی اقتصادی فورم کے موقع پر اسرائیل کے اس وقت کے صدر شمعون پیریز کو کھری کھری سنا کر فلسطینی عوام کے دلوں میں جگہ بنانے والے ایردوان ہی تھے۔ صدر ایردوان صرف ترکی ہی میں نہیں بلکہ دنیا بھر میں ایک عظیم Strategist کے طور پر جانے اور پہچانے جاتے ہیں۔ اسٹرٹیجی اور فہم و فراست کے لحاظ سے اس وقت دنیا کا کوئی بھی لیڈر ان کا مقابلہ نہیں کرسکتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ترکی کے تمام ہی عقل و شعور رکھنے والے افراد صدر ایردوان کی اسٹرٹیجی پر آنکھیں بند عمل کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ صدر ایردوان نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ جب آق پارٹی کو تشکیل دیا تو اس کے ساتھ ہی انہوں نے اپنی جماعت کی ترکی میں مقبولیت کو تسلسل کے ساتھ جانچنے کے لئے سروے کمپنی کی بھی خدمات حاصل کیں اور اس وقت سے لے کر اب تک وہ اپنی جماعت کی مقبولیت کے گراف کا جائزہ بڑی باقاعدگی سے لیتے رہتے ہیں اور پھر ان سروئیز ہی کی روشنی میں وہ اپنی جماعت کی پالیسی وضع کرتے ہیں۔ انہوں نے 7 جون 2015ء میں جب آق پارٹی کو واضح اکثریت حاصل نہ ہوئی تو ایسی اسٹرٹیجی اختیار کی کہ تمام مخالفین چکرا کر رہ گئے اور جس کے نتیجے میں پانچ ماہ بعد یکم نومبر 2015ء کو قبل از وقت انتخابات کروا کر تمام سیاسی جماعتوں کو مات دیتے ہوئے بھاری اکثریت حاصل کرلی۔ جب ہم 15 جولائی 2016ء کی ناکام بغاوت پر ایک نگاہ ڈالتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ ترکی میں اس سے قبل فوج نے جتنی بار بھی اقتدار پر قبضہ کرنے کی کوشش کی توبڑی آسانی سے سیاستدانوں کو راستے سے ہٹاتے ہوئے کامیابی حاصل کی لیکن ایردوان سیاستدانوں کی اس روش کو تبدیل کرتے ہوئے فوج کے سامنے ڈٹ گئے اور عوام نے بھی ٹینکوں کے آگے لیٹ کر ڈیموکریسی کو بچا کر ایک ایسا کارنامہ سرانجام دیا جس نے ترکی کی سیاسی تاریخ کا رخ تبدیل کرکے رکھ دیا اور فوج کے اقتدار پر قبضے کی راہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بند کردی۔ صدر ایردوان نے24جون 2018ء کے صدارتی اور پارلیمنٹ کے انتخابات کے دوران دیگر پارٹیوں اور ان کے رہنماؤں کو نظر انداز کرتے ہوئے صرف ری پبلکن پیپلز پارٹی کے صدارتی امیدوار محرم اِنجے کو ہی اپنی تنقید کا نشانہ بنایا اور پہلے ہی راونڈ میں جیت کی راہ ہموار کرلی تھی۔ ایردوان نے اگرچہ ترک معیشت کو 111ویں نمبر سے 16 ویں نمبر تک پہنچادیا لیکن گزشتہ چند ماہ سے مغربی ممالک کی سازشوں کے نتیجے میں ڈالر اور یورو کی شرح میں ترک لیرے کے مقابلے میں اضافہ ہوا تھا اس کی پروا کیے بغیر ملکی معیشت کو 4,7فیصد کی شرح سے ترقی کی راہ پر گامزن رکھنے کا سلسلہ جاری رکھا وہ بھی ان کی اعلیٰ اسٹرٹیجی کے نتیجے ہی میں ممکن ہوا اور عوام نے ایک بار پھر ان پر بھر پور اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے ری پبلکن پیپلز پارٹی اور ان کے صدارتی امیدوار کی تمام خوش فہمیوں پر پانی پھیردیا۔ یہ ہوتا ہے کرشماتی لیڈر جو اپنی اسٹرٹیجی سے جنگ کا پانسہ تک بدل کے رکھ دیتا ہے۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں