آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ12 ربیع الاوّل 1440ھ 21؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
فی زمانہ جمہوریت نے اگرچہ ایک ترقی یافتہ سیاسی ضابطہ حیات کی شکل اختیار کر لی ہے اور اس کے طفیل مختلف ممالک ترقی کرتے اوج ثریا پر ہیں لیکن وطن عزیز میں اس کے برعکس جمہوریت 60 سال کی مسافت طے کرنے کے باوجود بام مراد پر پہنچ نہیں پائی ہے، سدِ راہ بار بار آئے، اس لئے اس سفر میں جمہوریت آبلہ پا اور تشنہ لب ہے، معروضی صورت حال بھی اس حوالے سے کُلی طمانیت خیز نہیں ہے لیکن جمہوریت جیسی بھی ہے، بہر صورت سانس لے رہی ہے۔ پیپلزپارٹی کی حکومت تمام تر نقائص کے ہوتے ہوئے بیرونی قوتوں بالخصوص اسلامی دوست ممالک کی پشتیبانی یا مقتدرہ کی ”مہربانی“ سے 5 سال پورے کرنے کو ہے، مدت تکمیل کی ایک بڑی وجہ افغانستان سے متعلق عالمی منظر نامہ بھی ہے، خلوص نیت یا ”ایثار“ اپنی جگہ لیکن اسٹیبلشمنٹ نے بہرکیف بیرونی قوتوں کی بعض ناگزیر دلچسپیوں کی وجہ سے بھی اس حکومت کو چلتے رہنے دیا، چال کیسی ہو، اس میں جب بھی اختیار کی بات آئی تو اختیار، اختیار مندوں کے ہاتھ رہا۔
آئندہ انتخابات کو بھی غیر مرئی انہی دلچسپیوں کے تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے، اگر امریکہ اور پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے تعلقات میں سرد مہری اسی سطح پر رہتی ہے یا کم ہوتی ہے تو انتخابی نتائج کا ثمر موجودہ پارلیمانی جماعتوں کو ہی ملنے کا امکان ہے، عمران خان کی مقبولیت شاید ہی

اعداد و شمار پر زیادہ اثر انداز ہو سکے اور اگر پاک امریکہ تعلقات میں دوریاں لائن آف نو ریٹرن پر پہنچتی ہیں تو ایک اور آئی جے آئی کا ظہور شاید لمحوں کا بھی محتاج نہ رہے۔
ہم جیسے تصور پرست جو اس خیال میں مست ہیں کہ وہ زمانے گئے جب راتوں رات جمہوریت کا بستر لپیٹ دیا جاتا تھا اور کہتے ہیں کہ عدلیہ و میڈیا آزاد ہے یہ تصورات خام خیالی، خود فریبی اور خوش فہمی کے ماسوا کچھ بھی نہیں ہیں، بلاشبہ عدلیہ کی بحالی میں وکلاء تحریک کا بڑا کردار ہے لیکن اس حوالے سے بیرونی اثر و نفوذ اور اسٹیبلشمنٹ کے فیصلہ کن کردار کو کیا نظر انداز کیا جا سکتا ہے؟ کیا جمہوری قوتیں، وکلاء، جج صاحبان، سوسائٹی اور میڈیا باہم یکجا اور اس قدر طاقتور ہو چکے ہیں کہ وہ کسی طالع آزما کے سامنے ڈٹ سکیں!؟ کیا میڈیا سے اسی طرح کے ہوشربا طلسم کی توقع کی جا سکتی ہے جیسا کہ وکلاء تحریک کے دوران اس نے ایک جہان کو مسحور کئے رکھا، ہاں یہ میڈیا ہی تھا جو پرویزی آمریت کیخلاف بھی سینہ سپر ہوا لیکن اس وقت جب وہ طویل اننگز کھیل چکا تھا اور تھک ہار کر ہانپ رہا تھا اور پھر ”ٹیم مینجمنٹ“ بھی ”بوجوہ“ ان سے نالاں ہو چلی تھی، اب جب تر وتازہ کوئی آئے گا تو کیا یہ خوش گمانی کی جا سکتی ہے کہ میڈیا باہم منقسم ہو کر پردہ ظہور پر تاویلوں اور فتوؤں کا بازار گرم نہیں ہوگا !! ایک لمحے کیلئے مختلف الزامات کے حوالے سے زیر تفتیش ریٹائرڈ جرنیلوں سے جنرل کیانی صاحب کے اظہار یکجہتی پر مبنی غیر مبہم و نہایت واضح بیان کو ذہن میں تازہ کر لیں جس پر میڈیا کے بعض شہسوار کس طرح منقسم اور ایک دوسرے کے مخالف محو پرواز ہیں۔ یہ تو محض ٹریلر ہے جس سے فلم کی پذیرائی کا انداز لگایا جا سکتا ہے، قلم کے ایک مزدور کی حیثیت سے راقم خود کو تاحال ”آزاد“ خیال نہیں کرتا، افسانے تراشنا اور بات ہے، برسر زمین حقائق اس آزادی کے حق میں دلائل فراہم کرنے پر آمادہ نہیں۔
مانا ابلاغ کے ایسے ہنر مند اب بھی ہیں، ماضی میں بھی تھے جو قلب و نظر سے قلم و قرطاس تک صرف ضمیر کو سامنے رکھتے رہے ہیں لیکن موثر کل بھی وہ تھے جو آج ہیں، خدا وہ وقت نہ لائے جب صحافت ”آزاد“ ہے کہ غبارے سے ہوا نکل جائے اور یکایک صحافت کے گدی نشین کسی وسیع تر قومی مفاد کی خاطر وہ تلواریں پھر میان میں رکھ لیں جو وہ ایوبی، یحییٰ خانی، ضیائی اور پرویزی آمریت میں رکھ چکے تھے۔
بنابریں کسی ”کو دیتا“ کو ناکام بنانے کیلئے اکثر سیاسی جماعتوں سے توقعات بھی عبث ہیں جبکہ مذہبی جماعتیں تو اسٹیبلشمنٹ کی روایتی حلیف رہی ہیں۔ جمہوریت کے مستقبل کے حوالے سے سب سے اہم کردار میاں نواز شریف کا ہے، یہ درست ہے کہ میاں صاحب کی سیاسی تراش خراش جرنیلوں نے کی ہے لیکن یہ بھی غلط نہیں ہے کہ وہ ایک عرصے سے اسٹیبلشمنٹ مخالف کیمپ میں ایک توانا آواز ہیں۔ میاں صاحب نے پیپلز پارٹی کی حکومت کو اپنی آئینی مدت پوری کرنے کیلئے فری ہینڈ دے رکھا ہے، متعدد بار سیاسی بحران کیلئے مطلوبہ عوامل کے دستیاب ہونے کے باوجود انہوں نے کسی غیر جمہوری طرز عمل کا مظاہرہ نہیں کیا جس کے باعث ان پر فرینڈلی اپوزیشن کا الزام بھی لگا، ممکن ہے کہ اس عمل پر انہیں بعض دوست اسلامی ممالک نے مجبور کر رکھا ہو یا دہشت گردی کی دگرگوں صورت حال نے انہیں انتظار پر اکسایا ہو لیکن عام تاثر پھر بھی یہ ہے کہ میاں صاحب جمہوریت کی گاڑی رواں رکھنے کی خاطر پیپلز پارٹی کی حکومت کے بعض ناپسندیدہ امور نظر انداز کر رہے ہیں۔ حقیقت کچھ بھی ہو، ظاہر مگر یہی ہے کہ میاں نواز شریف کسی بھی غیر جمہوری عمل کا سہارا بننے کیلئے تیار نظر نہیں آئے، اب اگر مستقبل میں بھی نواز شریف اسی طرح اسٹیبلشمنٹ سے دور رہتے ہیں اور دونوں کے مابین اعتبار اور اختیار کا معاملہ جوں کا توں رہتا ہے یعنی میاں صاحب بیعت کی بجائے اسی طرح سر اٹھا کر چلنے کا ”رسک“ لیتے ہیں، تو ہو سکتا ہے کہ یہ عمل خود نواز شریف کیلئے پارلیمانی سطح پر کوئی زیادہ نفع انگیز ثابت نہ ہو لیکن اس سے لولی لنگڑی جمہوریت کی اپنے پیروں پر چلنے کے امکانات روشن ہو سکیں گے لیکن اگر میاں صاحب سیاست سے اسٹیبلشمنٹ کے کردار کو نکال باہر کرنے سے زیادہ اپنی جماعت کو اقتدار میں لانے کی فکر میں غلطاں و رقصاں رہتے ہیں اور عوام کا وہ اعتماد جو انہیں حامل ہے اسے ناکافی گردانتے ہیں تو پھر لا محالہ ایک ایسا اتحاد سامنے آجائے گا جس کو” فرشتے“ کندھا دیئے ہوئے ہوں گے۔ اس سے بہت سارے لوگوں کا بھلا ہو گا لیکن پاکستانی جمہوریت یونہی یرغمال بنی رہے گی۔ صحافت کے گدی نشینوں نے اس حوالے سے ”بلامعاوضہ“ تیاریاں بھی شروع کر دی ہیں اور کہا جانے لگا ہے کہ جماعت اسلامی اور مسلم لیگ (ن) فطری حلیف ہیں جبکہ ایم ایم اے کے خوابیدہ تاروں کو بھی چھیڑا جا رہا ہے اگرچہ مولانا فضل الرحمن نے جماعت اسلامی کو الکحل سے تشبیہ دی ہے اور منور حسن مولانا صاحب کو اعتبار کے لائق نہیں سمجھتے، قاضی حسین احمد نے ایم ایم اے کی حکومت کے وقت جے یو آئی کو حلق کی ایسی ہڈی قرار دیا تھا جسے نہ نگلا جا سکتا تھا اور نہ اگلا جا سکتا تھا۔ لیکن !! لیکن ”وسیع تر قومی مفاد“ میں کسی بھی وقت کچھ بھی ہو سکتا ہے !! اس میں دو رائیں نہیں کہ پیپلز پارٹی کی حکومت کی کارکردگی مثالی نہیں لیکن اس کی سزا بیمار جمہوری نظام کو دینا ملک و عوام کے مستقبل سے کھیلنے کے مترادف ہو گا۔
انتخابات کے التوا کا تذکرہ بھی عام ہے لیکن ایسی کوئی مہم جوئی خود پیپلز پارٹی کے اپنے مفاد میں نہیں، صدر زرداری اگر خود کو تحفظ دینے کی بجائے جمہوریت کی فکر کریں تو یہ پیپلز پارٹی کے حق میں بھی بہتر ہو گا، شاید یہی وہ وقت ہے کہ جس میں سیاسی جماعتیں بالخصوص مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کسی سہارے کے بغیر خود کو عوامی عدالت کے سپرد کر دیں تو ملک میں ایک ایسی جمہوریت کے پنپنے کے امکانات روشن ہو جائیں گے جس میں فوج سمیت تمام اداروں کی عزت و توقیر ان کے استحقاق کے عین مطابق ہو گی اور جو بیرونی دباؤ سے آزاد عوامی آدرشوں کے مطابق ملک کو فلاح کے راستے پر گامزن کرنے کا وسیلہ ثابت ہو گی۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں