آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل4؍ربیع الاوّل 1440ھ13؍نومبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پچھلے دنوں الیکشن کمیشن میں تمام جماعتوں کے اراکین نے اثاثوں کی تفصیلات جمع کرائیں۔ حلفیہ بیان میں دوسری بیوی کے حوالے سے کئی سچ سامنے آئے مگر جائیدادوں، بینک بیلنس، گاڑیوں، گھروں اور کاروں کے حوالے سے اکثریت کی پتلی حالت دیکھ کر کئی دن دُکھ اور حیرت کی کیفیت نے جکڑے رکھا، ٹیکس اور پوچھ گچھ سے بچنے کے لئے سیانے لوگ ہر شے اپنی اولاد، بیوی، رشتہ داروں حتیٰ کہ نوکروں تک کے نام کر دیتے ہیں۔ کیا اربوں کی جائیدادوں کو لاکھوں کا ظاہر کرنے والے صادق و امین کی کسوٹی پر پورا اُترتے ہیں؟ تمام جماعتیں اس حوالے سے ایک ہی ڈگر پر رواں دواں ہیں۔ ان کا سالانہ ٹیکس دیکھ کر اپنے جیسے لوگ فرشتے نظر آنے لگتے ہیں جو تنخواہ اور دیگر سرکاری اداروں سے وصول رقم پر ان سے کہیں زیادہ ٹیکس دیتے ہیں اور جن کی ٹیکس ریٹرن کی فائل میں رضاکارانہ طور پر بینک اسٹیٹمنٹ بھی نتھی ہوتاہے۔
ہم نے جمہوریت کے حق میں بے شمار کالم لکھے۔ غیرجمہوری قوتوں کو جی بھر کر کوسا مگر آج عوامی شعور کے تناظر میں ہم سب کنفیوژن کا شکار ہیں۔ کئی دنوں سے کچھ سوال میری نیند اور چین کو مسلسل ڈس رہے ہیں۔ ظاہری صورت حال کسی نقاب، دھند اور دھوئیں میں لپٹی عجیب مفروضات کی شکل دھارتی رہتی ہے۔ پسِ پشت حقیقت بڑی تلخ ہے اس لئے کوئی اس سمت جانے کا روادار ہی نہیں۔

جمہوریت کا مطلب جمہور کی حکومت ہوتی ہے۔ پارٹی کا ایک سربراہ ہوتا ہے اور سینئر ممبران کو خاص درجہ دیا جاتا ہے۔ اپنے ملک کی جمہوری شکل کا جمہوری اصولوں سے موازنہ کر کے دیکھیں تو بڑے بڑے بینرز پر باپ، بیٹی، بھائی، بیٹا کی تصویریں ہیں۔ یہ تو خاندانوں کی حکومت ہوئی، بادشاہت کا انداز ہوا۔ بے نظیر کی حکومت تک پیپلز پارٹی میں نظریہ کسی طور زندہ رہا۔ پھر جب نوعمر بلاول، فریال تالپور اور دیگر رشتہ داروں کے پاس تمام عہدے چلے گئے اور اعتزاز احسن، قمر زمان کائرہ، خورشید شاہ اور رضا ربانی جیسے لوگ صرف ٹی وی پر دفاع کرنے کے لئے رہ گئے تو پارٹی دم توڑتی گئی۔ اب مسلم لیگ (ن) بھی اسی طرف بڑھ رہی ہے۔ یہاں بھی بڑے بڑے سائن بورڈوں پر شریف خاندان اور ان کے بچوں کی تصویریں ہیں۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ ان پر پارٹی لیڈر شہباز شریف کے ساتھ سینئر اور وفادار رہنمائوں کی تصویریں ہوتیں پھر نہ ذوالفقار کھوسہ الگ ہوتے نہ چوہدری نثار ناراض۔ جب آپ لوگوں کو عزت نہیں دیں گے تو وہ کسی نہ کسی جیپ میں لفٹ لینے پر مجبور ہو جائیں گے۔ دیگر جمہوری ملکوں میں بھی خاندان کے لوگ انتخابات لڑتے ہیں مگر وہ منظرِ عام پر آ کر بادشاہت کا تاثر نہیں دیتے۔
پریشانی کی گنجھل میں کچھ سوالوں کے دھاگے بہت اذیت ناک ہیں مثلاً پچھلے دنوں پاکستان کو گرے ملک ڈکلیئر کر دیا گیا مگر کہیں کوئی اس حوالے سے بات کرنے کو تیار نہیں۔ اگر یہی رویہ رہا تو ہم بلیک لسٹ بھی ہو سکتے ہیں پھر کیا ہو گا؟ بھارت نے ہمارے دریائوں کے رُخ موڑ کر ہمیں قحط زدہ ملک بنانے کی بھرپور تیاری کر لی لیکن ہمارے حکمران خاموش۔ اس وقت تو یہ عالم ہے کہ ہر سیاسی جماعت کا منشور حکمرانی اور اس سے وابستہ مفادات ہیں جس کے لئے وہ کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔ سنجیدہ ایشوز کسی کا مسئلہ ہی نہیں۔ کیا یہ محض اتفاق ہے کہ ایک خاص نمائندہ دو بار ملکی اداروں کی ساکھ پر سوال اٹھاتا ہے۔ کیا یہ محض اتفاق ہے کہ وہ اتنا لمبا سفر طے کر کے سیدھا رائے ونڈ آتا ہے اور مطلوبہ جواب حاصل کر کے دوبارہ ایئرپورٹ سے روانہ ہو جاتا ہے۔ کیا یہ بھی محض اتفاق ہے کہ انہی دنوں جنرل درانی کی کتاب اچانک منظر عام پر آئی اور پوری دنیا میں زیر بحث ہوئی۔ ایک ملک کے تین بار وزیراعظم رہنے اور ایک جنرل کی گواہی پاکستان کو گرے ملک ڈکلیئر کرنے کے لئے کافی تھی کیوں کہ انہوں نے الزام نہیں لگایا تسلیم کیا تھا۔ عام لوگ باتیں کرتے رہتے ہیں لیکن دنیا اربابِ اختیار کی بات کو سچ مانتی ہے بھلے اس میں کتنا جھوٹ ہو۔ پھر سابق وزیراعظم کا موجودہ حالات کو 1971ء سے جوڑنے سے کیا مطلب ہے؟۔ ماضی میںجمہوریت پر ہزار شب خون مارے ہونگےمگر اس وقت ملک کی بقا اور استحکام کی ایسی جنگ لڑ ی جارہی ہے جو اکثریت کی نظروں سے اوجھل ہے اس لئے اس وقت تمام اختلافات کو نظر انداز کرتے ہوئے واقعتاً ایک پیج پر ہونا ضروری ہے۔ سیاسی رہنمائوں کو صرف یہ سوچنا چاہئے کہ ان کی حکومت کرنے کی خواہش تبھی پوری ہو سکتی ہے جب یہ ملک قائم اور خوشحال ہو۔ پاکستان کی جغرافیائی حالت اور ہمسایہ ممالک کی چپقلش میں یہ ممکن نہیں کہ آرمی چیف کو گریڈ 22 کے افسر کا درجہ دے کر ایک طرف کر دیا جائے بلکہ منتخب حکومت اور دفاعی ادارے کا ملک کو درپیش چیلنجز کے حوالے سے ایک پالیسی پر متفق ہونا ضروری ہوتا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کے افراد کا کسی الگ جزیرے سے تعلق نہیں۔ وہ بھی ہم میں سے ہی ہیں۔ ہم سب اگر ایک قوم ہیں تو سب کو اپنے اپنے گریبان میں جھانکنے کی ضرورت ہے۔ سیاست دان اگر ملک کے اتنے سگے ہیں تو وہ ملکوں ملکوں اور شہروں شہروں اپنی جائیدادیں اس ملک پر وار کرکے اسے قرضوں سے نجات دلائیں۔ اپنی شاہانہ طرزِ بود و باش کو ترک کر کے سادگی اپنائیں، لوگوں کو بنیادی حقوق کی فراہمی یقینی بنائیں اور ملک کو معاشی غلامی سے نجات دلائیں پھر دیکھیں ہم ان کے لئے کیسے آنکھیں بچھاتے اور جمہوریت کی راہ میں روڑے اٹکانے والوں سے لڑتے ہیں۔ جب تک وہ اپنے طرزِ عمل میں مثبت تبدیلی نہیں لاتے عوام سے تبدیلی کی توقع عبث ہے۔
ملک کی بقا کے لئے مائیں بچوں کو قربانی کا سبق دیتی آئی ہیں۔ اس وقت ملک میں شہباز شریف واحد سیاسی رہنما ہیں جن کے کھاتے میں بے شمار کارنامے اور کامیاب منصوبے ہیں۔ وہ جنون کی حد تک ملک سے مخلص اور اداروں کے درمیان ہم آہنگی کے قائل ہیں مگر پارٹی کے سربراہ ہونے کے باوجود کھل کر اپنا بیانیہ دینے سے قاصر ہیں۔ اگر انہوں نے چند دن اور کھل کر ملک کے حق میں فیصلہ نہ دیا تو مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں کی غیر یقینی میں اضافہ ہوتا رہے گا اور اس عالم میں وہ قریب سے گزرتی گاڑیوں اور رکشوں میں بیٹھتے رہیں گے۔ ان تمام گنجھلوں کے ہوتے ہوئے میں اپنے وِجدان کی آواز سنتی ہوں تو مجھے دُعا کے حرف گونجتے سنائی دیتے ہیں۔ پاکستان کی خیر ہو گی۔ میرا دل کہتا ہے اس ملک کو کما کر دینے والے زیادہ ہیں اور کھانے والے کم اس لئے یہ آباد رہے گا۔ صبحِ کاذب کے اٹکے ہوئے لمحوں کو خیر کی اس اذان کا انتظار ہے جو ہم سب کو بیدار کر کے روشنی کی دعا کے لئے ایک صف میں کھڑا کر دے۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں