آپ آف لائن ہیں
جمعہ 10؍محرم الحرام 1440ھ 21؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وہ منظر ایک خواب کی طرح ہے مگر بھولا کبھی نہیں۔ میں سولہ سال کا تھا اور اپنے بڑے بھائی محمد اشفاق چغتائی کے ساتھ عرس کے موقع پرسیال شریف گیا ہوا تھا۔ ان دنوں میرے بھائی انجمن طلبائے اسلام پنجاب کے ناظم ہوا کرتے تھے ۔ہم دونوں بھائی جہاں کھڑے تھے وہاں ایک کار آکر رکی ۔اس میں سے پیرکرم شاہ (والد گرامی سابق وفاقی وزیر پیر امین الحسنات شاہ ) اترے ۔اشفاق بھائی آگے بڑھ کر انہیں بڑے احترام سے ملے ۔ میں بھی ملا ۔میں نے دیکھا کہ انہوں نے اپنے جوتے اپنی بغل میں دبارکھے ہیں ۔ایک مرید نے جوتے اُن سے لینے کی کوشش کی تھی مگر انہوں نے انکار کردیا تھااور ننگے پائوں آگے بڑھ گئے تھے۔اشفاق بھائی نے بھی اپنے جوتے اتار کر ہاتھ میں پکڑ لئے اور کہا ’’جہاں پیرکرم شاہ ننگے پائوں چل رہے ہیں وہاں میں کیسے جوتے پہن سکتاہوں ‘‘
پیر مہر علی شاہ جیسی ہستی کوبھی اِسی آستانہ سیال شریف سےفیض ِ خاص حاصل ہوا تھا۔پاکستان میں اِس آستانے کا فیض در فیض دور دور تک پھیلا ہوا ہے ۔یہ پاکستان میں سلسلہ چشتیہ کی سب سے بڑی گدی ہے۔ چاچڑ شریف والے بھی انہی کے خلیفہ ہیں۔ صرف پنجاب میں تقریباً ایک درجن سے زائد آستانے انہی کے مریدوں کے مرید ہیں ۔کیایہ بات کوئی کرامت ہےکہ پیر امین الحسنات شاہ کل جسے شکست دے کر مسلم لیگ نون کے ایم این اے بنے تھے

آج اُسی ندیم افضل چن کی حمایت پر مجبور ہیں کیونکہ پیر سیال نے عمران خان کو دستار ِفضیلت پہنا دی ہے اور ندیم افضل چن اُسی عمران خان کے نمائندہ ہیں۔میں نے وہ تصویر دیکھی ہے جس میں پیر حمید الدین سیالوی عمران خان کے سر پر کلہ رکھ رہے ہیں اس تصویر میں پیر سیال کے ساتھ ریٹائرڈ بریگیڈئر اختر نواز جنجوعہ بھی موجود ہیں ۔وہ بھی سیال شریف میں بیعت ہیں یعنی یہ وہ گدی ہے جس کےافواج ِ پاکستان پر بھی اثرات ہیں ۔پھر یہ صرف اسی ایک نشست کا معاملہ نہیں۔ پاکستان کی بےشمار نشستوں پرپیرسیال اثر انداز ہوں گے۔ اِسی بات سے اندازہ لگا لیجئے کہ ختم نبوت کے مسئلہ پر نون لیگ کے چودہ ارکانِ اسمبلی نے اپنے استعفیٰ پیرسیال کے دستِ مبارک پر رکھ دئیے تھے۔شہباز شریف خود چل کر انہیں منانے آئے تھے ۔بابا فرید کے آستانے پر حاضری کے بعد سیال شریف کی حاضری نے عمران خان کی کیفیت ہی بدل دی ہے ۔زیادہ ترآستانوں نے عمران خان کی حمایت کا اعلان کردیا ہے۔ اِس کا نقصان نون لیگ کوتو خیر ہونا ہی تھا مگرتحریک لبیک کا ووٹ بھی بری طرح متاثر ہوا ہے ۔آستانہ سلطان باہو کے سجادہ نشین صاحبزادہ نذیر سلطان اپنے پانچ ساتھیوں سمیت نون لیگ کو چھوڑ کر تحریک انصاف میں شامل ہوچکے ہیں سو سلطان باہو کے ماننے والوں کےلئے بھی تحریک انصاف کو ووٹ دینا ضروری ہوگیا ہے ۔داتا دربارکے متولی اور نون لیگ کے رہنما اور داتا دربار کے خدمت گزار میاں حامد محمود بھی اپنے ساتھیوں سمیت پی ٹی آئی میں شامل ہوگئے ہیں ۔پیر آف مانکی شریف بھی پی ٹی آئی میں شامل ہوچکے ہیں۔ سندھ کے معروف روحانی پیشوا پیر دیدار سرہندی اور انکے صاحبزادے پیر معصوم شاہ سرہندی نےبھی تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کرلی ہے۔پیر آف رانی پور سیدآصف علی شاہ گیلانی بھی پی ٹی آئی کا حصہ بن چکے ہیں۔ اور بھی کئی نام ہیں۔
پنجاب کا ایک اور اہم آستانہ علی پور سیداں جس نےتحریک پاکستان میں اپنا کردار ادا کیا ۔قائداعظم کے رفیق ِ خاص پیر جماعت علی شاہ کے سجادہ نشین پیر منور شاہ جماعتی نے نون لیگ کے خلاف باقاعدہ فتویٰ جاری کر دیا ہے ۔جس میں چودہ نکات درج کئے گئے ہیں اور آخر میں لکھا گیا ہے کہ ’’نون لیگ کی حمایت کرنے پر قبر اور حشر میں بہت سخت حساب کتاب ہوگا‘‘۔قانونی طور پر یہ فتویٰ جائز ہے یا نہیں اس کا فیصلہ توالیکشن کمیشن ہی کر سکتا ہے مگر لوگ اِسے گلی گلی بانٹتے پھر رہے ہیں ۔اس سے پہلے ایک فتوی پیر آف گولڑہ شریف پیر نظام الدین جامی بھی دے چکے ہیں کہ ’’نون لیگ کو ووٹ دینا عقیدہ ختم نبوت کے ساتھ غداری ہو گی۔‘‘علمائے کرام تو بہت عرصہ پہلے کہہ چکے ہیں کہ نون لیگ کو ووٹ دینا ناجائز ،حرام اور گناہ ہے مگر پیرانِ عظام پہلے خاموش تھے ۔وقت بھی عجیب چیز ہے یہ فتوے دیکھ کر مجھے وہ وقت یاد آرہا ہےجب نون لیگ محترمہ بے نظیر بھٹو کے خلاف فتوے دلایا کرتی تھی کہ اسلام میں عورت کی حکمرانی ناجائز ہے ۔وہ فتوی اُن کےہوا کرتے تھے جن کے آبا واجداد نے کبھی دل سے پاکستان کو تسلیم نہیں کیا تھا مگرعمران خان کے حق میں آنے والے فتوےاُن صوفیائے کرام کی اولادوں کے ہیں جن کا شمار پاکستان بنانے والوں میں ہوتا ہے ۔عورت کی حکمرانی کا مسئلہ اب تو خیر ختم ہی ہوچکا ہے ۔بہت جلد نون لیگ کی سربراہ مریم نواز بننے والی ہیں ۔بقول آصف علی زرداری نواز شریف لندن میں سیاسی پناہ لے چکے ہیں ۔نواز شریف کے ساتھ ساتھ آصف علی زرداری کا ستارہ بھی ان دنوں زوال آمادہ ہے ۔منی لانڈرنگ کے ایک نئے مقدمے میں اُن کا نام بھی آرہا ہے ۔لگتا ہے کہ نواز شریف کی طرح انہیں بھی لندن میں سیاسی پناہ کی ضرورت پڑنے والی ہے اور بلاول بھٹو سچ مچ پیپلز پارٹی کا چیئرمین بن جائیں گے۔عمران خان نے بھی کہہ دیا ہے کہ مائنس زرداری پیپلز پارٹی سے اتحاد ممکن ہے ۔مولانا فضل الرحمن نے بھی اِس امکان کوتسلیم کرلیا ہے کہ عمران خان وزیر اعظم بننے والے ہیں اور ان کے ساتھ حکومت میں شامل ہونے کا دبے لفظوں میں عندیہ بھی دے دیا ہے۔ میرے خیال میں یہ سارا ماحول پاکپتن شریف میں عمران خان کی اُس حاضری نے ترتیب دیا ہے جس پر کچھ لوگوں نے شرک شرک کا شور مچادیا تھا۔اس سارے عمل میں بشریٰ عمران کا کردار قابلِ تحسین ہے ۔
ان دنوں عمران خان کو ہر معاملے میں فائدہ ہو رہا ہے۔خیبر پختونخوامیں ایک ارب درخت لگانے کے معاملے پر بڑی لے دے ہورہی تھی کہ پی ٹی آئی والے غلط کہہ رہے ہیں مگر قومی ادارے ’’سپارکو‘‘ نے آج درخت لگانے کی تصدیق کردی ہے ۔پنجاب پولیس کے ایک بڑے افسر نے بھی کہہ دیا ہے کہ پنجاب پولیس بھی خیبر پختون خوا پولیس کی طرح کام کرنا چاہتی ہے ۔
جہاں تک فیصلہ موخر کرنے کی خواہش کا تعلق ہے تو اِس کے پس منظر میں بھی سیاسی عوامل کار فرما ہیں ۔نواز شریف چاہتے ہیں کہ وہ یا مریم نواز جس روز پاکستان آئیں توایئر پورٹ پر انہیں ریسیو کرنے کےلئے لاکھوں لوگ جمع ہوں اور یوں ایک احتجاجی تحریک کا آغاز کیا جائے ۔اگر آج فیصلہ سنا دیا گیا تو پھر نواز شریف نہیں آئیں گے ۔مریم نواز آئیں گی ۔اُن کے استقبال کےلئے پورے ملک سے لاہور میں لوگ جمع ہونگے اور وہ اُس عظیم الشان جلوس کے ساتھ ضمانت کرانے کےلئے ہائی کورٹ تشریف لے جائیں گی ۔یوں نون لیگ اپنی مزاحمتی تحریک شروع کرے گی ۔اگرچہ ابھی تک شہباز شریف اِس احتجاجی تحریک کے حق میں نہیں تھے مگرآشیانہ اسکیم کیس میں فواد حسن فواد کی گرفتاری کے بعد شاید اُن کے پاس بھی کوئی اور راستہ نہیں رہاکیونکہ ان کے وعدہ معاف گواہ بننے کے امکانات بھی ہیں ۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں