آپ آف لائن ہیں
بدھ8؍ محرم الحرام1440ھ 19؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بار بار کہا گیا کہ ہر پارٹی 5فیصد سیٹیں خواتین کو دے گی۔ ہم اس دن سے تماشائے اہلِ کرم دیکھنے کے منتظر تھے کہ آخر حشر کی وہ گھڑی آگئی کہ جب تمام سیاسی پارٹیوں کے نامہ اعمال کھول دیئے گئے۔ پھر وہی گنی بوٹیاں اور نیا شوربہ، وہ جو 5 فیصد کی تنبیہ تھی وہ کیا ہوئی۔ سنا ہے کہ جہاں کہیں پارٹیوں کو کوئی امیدوار نہیں مل رہا تھا۔ وہاں خواتین کو نامزد کر کے 5فیصد کی شرط بظاہر مکمل کردی ہے۔ ہر صحافی اور ہر میڈیا بتارہا ہے کہ ملک میں 64 فیصد نوجوان پڑھے لکھے اور بیروزگار ہیں۔ خیر سیاست کو روزگار بلکہ منافع بخش کاروبار بنانے والے، وہی خواتین اور وہی حضرات سامنے کھڑے عوام سے شکوے تو کیا جذباتی سطح کی مغلظات سن رہے ہیں۔ یہ سب خیر سے پہلے ہی کروڑ پتی ہیں۔ اگلے الیکشن تک ارب پتی ہوجائیں گے۔ ان میں خواتین بلا تخصیص شامل ہیں۔ تو پھر وہ 5 فی صد شرط کہاں گئی۔ یہ سب کروڑ پتی، 40 لاکھ کی شرط جو الیکشن اخراجات کی ہے۔ وہ تو ایک دن میں ختم کرسکتے ہیں۔ مگر اب ایک ٹیڑھا سوال ہے۔ اس کا جواب نفی میں مجھے معلوم ہے، مگر آپ سب سے پوچھ رہی ہوں کہ پچھلے الیکشن میں تو اور ہر گزشتہ الیکشن میں ووٹ کبھی دھمکیوں اور کبھی چاپلوسی سے خرید لیے گئے تھے۔ تو کیا اس دفعہ بھی ساری ناراض قوم پھر مٹھی گرم کرنے پر راضی ہوجائے گی۔ سامنے جواب یہ ہے کہ غربت تو

حیا کو بھی کھا جاتی ہے اور یہ سارے امیدوار الیکشن کو شطرنج کی بساط کی طرح کھیلتے ہیں۔ انہیں اگلے کی شہ کو مات دینے کے سو طریقے آتے ہیں۔ کیا کہنا چاہتی ہوں کہ پھر وہی، ڈھاک کے تین پات ہوں گے، خوش فہم ہوکر اعلان کررہی ہوں کہ اس دفعہ ایسا نہیں ہوگا مگر الیکشن کمیشن نے جو فائنل ناموں کا اعلان کیا ہے۔ اس میں خواتین کی تعداد کیا 5 فیصد ہے۔اگر نہیں تو الیکشن کمیشن نے سیاسی پارٹیوں کو، کوئی نوٹس دیا، تو کیا درگزر کیا۔ جیسے جعلی ڈگریوں کو درگزر کیا، جیسے ایک نہیں، تین تین بیویوں کے مسئلے کو ان کے گھر کا مسئلہ جان کر خاموشی اختیار کی۔ کیا ان سارے امیدواروں سے پوچھا کہ گھر اور محل تو خیر بن ہی 3 لاکھ میں جاتے ہیں۔ مگر یہ جو ہزاروں ایکڑ زمین جو انہوں نے اثاثوں میں ظاہر کی ہے۔ کیا اس پر مالیہ دیا گیا ہے۔ آپ کہہ دینگے کہ کوئی اسمبلی زرعی ٹیکس لگانے پر بل پاس ہی نہیں ہونے دیتی ہے۔ اس لیے ہم کیا کرسکتے ہیں۔ اچھا وہ جو 70 لاکھ کے زیورات بہت کم کر کے ہی سہی، دکھائے گئے ہیں۔ کیا ان پر زکوۃ دی گئی ہے۔ غربت کا یہ عالم ہے کہ خواجہ فرید گنج شکر کے پیشوا ٹی وی پہ بتارہے تھے کہ روزانہ لنگر پر ہزاروں اور عرس پہ لاکھوں لوگ تین وقت کا کھانا کھاتے ہیں۔ تو پھر یہ کیوں نہ کیا جائے کہ بلاول میاں کا بھوک مٹائو پروگرام کو ان مزارات سے منسلک کردیا جائے۔ بلکہ مزارات کا یہ سلسلہ پورے تھر پارکر تک پھیلا دیا جائے کہ لنگر وہاں تقسیم ہوگا اور بلاول میاں کا نعرہ کامیاب ہوجائے گا۔ 5 فی صد عورتوں کو سیاست میں لانے کا کام بھی یوں مکمل کیا جاسکتا ہے کہ ان علاقوں میں قائم مزارات پر لنگر تقسیم کرنے کا کام خواتین کے سپرد کردیا جائے۔ مگر ایسا تجزیہ تو وہاں پہلے بھی ہوچکا ہے کہ اسکولوں میں بچوں کی تعداد بڑھانے کے لیے وہاں کھانا تقسیم کرنے کا منصوبہ کسی فنڈنگ ایجنسی نے شروع کیا تھا۔ جیسے یونیسیف سے لے کر دیگر ایجنسیوں کے منصوبوں کے ختم ہونے کے بعد، کوئی حوصلہ افزا کیا، کسی قسم کے اعداد و شمار ہی سامنے نہیں آتے ہیں۔ یہ منصوبہ ناکام، ہرگز نہیں، کھانے پینے کا کوئی مزار کا منصوبہ ہو کہ کسی ڈھابے، یا سیلانی جیسے مفت کھانا کھلانے کے رضا کارانہ منصوبے وہ ہر جگہ اور ہر صورت کامیاب ہوتے ہیں۔ سیلانی کے دسترخوان پر سارا دن، لوگ آکر بیٹھتے اور کھاتے رہتے ہیں۔ ویسے سلام ہے ان خاتون پر جو 3 روپے میں ایک وقت کا کھانا، کئی سال سے مسلسل مہیا کررہی ہیں جب ستارہ امتیاز دئیے جاتے ہیں تو ایسے حیران کن اقدامات کو سر اہنے والا کوئی نہیں ہوتا ہے۔
اب آخری سوال، الیکشن کمیشن سے! جیتنے والے امیدوار کیا اخراجات کی صحیح تفصیل دے سکیں گے یا کہیں گے کہ یہ تو دوستوں نے ’’گفٹ‘‘ دئیے تھے۔ یہ ہم متوسط طبقے اور خاص کر لکھنے پڑھنے والوں کو کوئی ’’گفٹ‘‘ نہیں دیتا، بہت دیتا ہے تو اپنی ہی کتاب پڑھنے کو دیدیتا ہے۔ پھر اگلا مرحلہ کہ کتاب نہ رکھے بنے نہ پھینکے بنے۔ ویسے تو کتاب چاہیے۔ آپ کے کامیاب ہونے کے طریقے والی ہو کہ زائچوں والی کتاب تو کتاب لائق تعریف ہوتی ہے۔
میں نے اپنے بہت سے زندہ اور جو وفات پاگئے، سیاسی امیدواروں کے گھروں میں گہما گہمی دیکھی ہے۔ دیگیں پک رہی ہیں۔ کون لایا! ارے یار، ایک دوست نے کہا ہے مہینے بھر الیکشن تک مہمانوں کا کھانا میرے ذمے، اس طرح پوسٹر شائع کرنے، لگانے اور الیکشن اسٹاف کے لیے کھانا، اعلیٰ ہوٹل سے لانے کا اہتمام بھی کسی دوست کے ذمہ ہوتا ہے۔ یہ الگ بات کہ الیکشن اسٹاف بے چاروں کو پندرہ منٹ بھی نہیں دئیے جاتے کہ وہ کھانا کھا لیں۔ اسی لیے جب الیکشن کی پرچیوں کو گنا جارہا ہوتا ہے تو بہت سے ووٹوں سے بریانی کی خوشبو گنتی کرنے والوں کے منہ میں پانی لارہی ہوتی ہے۔ دیکھتے ہیں اس دنگل کا انجام کیا ہوگا۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں